پختونوں کے نام پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والے منہ کی کھائیں گے، محمود خان

  • قبائلی عوام کے تحفظات دور کئے جائیں گے اور مشکلات حل کی جائیں گی، ان کے دکھ درد سے بخوبی آگاہ ہیں
  • ضم شدہ اضلاع کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ کے ذریعے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک سالانہ صحت کی مفت سہولیات ملیں گی ،وزیر اعلیٰ کے پی کے کا اورکزئی میں اجتماع سے خطاب

پشاور(الاخبار نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پختونوں کے نام پر منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں پر ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پختون اس پروپیگنڈے سے دھوکہ نہیں کھائیں گے ۔ پختونوں کے نام پر چیخنے چلانے والوں کا پروپیگنڈہ بے بنیاد اور غیر منطقی ہے اسلئے کہ ہم سب پختون ہیں ، صوبائی حکومت پختونوں کی ہے ، وزیراعظم خود پختون ہیں اور وفاقی کابینہ میں بھی پختونوں کی بھر پور نمائندگی ہے ۔قبائلی عوام کے جتنے بھی تحفظات اور مشکلات ہیں وہ ہم حل کریں گے ۔ کیونکہ ہم ان کے درد اور تکالیف سے آگاہ ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اپر اورکزئی سمیت تمام قبائلی اضلاع کا دورہ کریں گے اور قبائلی عوام کے ساتھ مل بیٹھ کر اُن کے مسائل اُن کی دہلیز پر حل کریں گے ۔ لیویز اور خاصا داروں کا مسئلہ حل کرچکے ہیں۔ یہ پولیس میں ضم ہو چکے ہیں ، وہ تمام مراعات جو پولیس کو حاصل ہیں وہ لیویز اور خاصادار کو ملیں گی ۔ صحت کی تمام سہولیات اپ گریڈ کریں گے ، ہنر مند اور غیر ہنر مند نوجوانوں کو بلاسود قرضے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ضلع اورکزئی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان ، گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، صوبائی حکومت کے ترجمان اور ضم شد ہ اضلاع کے لئے وزیراعلیٰ کے مشیر اجمل وزیر ، سینیٹر اورنگزیب ، ایم این اے ملک جواداور دیگر قائدین نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ آجکل ہوا چل پڑی ہے ،کچھ لوگ نکل آئے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ پختونوںکو اُن کے حقوق دلائیں گے ۔میں اُن کو کہنا چاہتا ہوں اور لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ کیا خیبرپختونخوا میں حکومت پختونوں کی نہیں ہے، کیا آپ کا وزیراعظم پختون نہیں ہے ۔ کیا وفاقی کابینہ میں پختونوں کی نمائندگی نہیں ہے ۔ کیا گورنر خیبر پختونخوا پختون نہیں ہیں۔ ہم سب پختون ہیںاور پختونوں کے حقوق کا تحفظ اور اُن کے مسائل کا حل بھی جانتے ہیں ۔پختونوں کے نام پر شور مچانے والے اور عوام کو گمراہ کرنے والے سمجھ لیں کہ پختون با شعور ہیں جو کبھی بھی آپ کے اس پروپیگنڈے کے حوالے سے دھوکہ نہیں کھائیں گے ، جو بھی پختونوں کے تحفظات اور مشکلات ہیں وہ آپ کا پختون وزیراعلیٰ ، پختون حکومت اور پختون وزیراعظم حل کرے گا۔ اگر ان لوگوں میں یہ استعداد ہے تو پھر چیخیں کیوں مارتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ خود بھی قبائلی ہیں اوراُن کا تعلق سوات سے ہے ۔ جو مشکل گھڑی قبائلی عوام پر گزری ہے وہ اُن پر بھی گزری ہے ۔ اُنہیںپتہ ہے کہ قبائلی عوام کی کیا مشکلات ہیں اور اُنہیں کیسے حل کرنا ہے ۔محمود خان نے قبائلی عوام کو یقین دلایا کہ اُن کے مطالبات اور مشکلات ضرور حل ہوں گی۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ضم شدہ اضلاع کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیا جائے گا جس کے ذریعے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک سالانہ صحت کی مفت سہولیات ملیں گی ،اس کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہنر مند اور غیر ہنر مند نوجوانوں کو انصاف روزگار سکیم کے تحت بلاسود قرضے ملیں گے تاکہ وہ اپنے لئے کاروبار شروع کرسکیں اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو سکیں ۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ معاوضے کے حوالے سے جتنے بھی تحفظات ہیں وہ عوام کی خواہشات کے مطابق حل کریں گے ۔ تما م ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی بنائیں گے ۔ ہسپتالوں میں جتنابھی سٹاف بھرتی ہو گا ، قبائلی عوام سے ہو گا، باہر سے کوئی بندہ نہیں آئے گا۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں مساجد اورتبلیغی مراکز کی سولرائزیشن پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔ انہوںنے ضم شدہ اضلاع میں سیاحت کی ترقی کے حوالے سے حکومتی عزم کا اعادہ کیا اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومت کی ٹیم آئے گی جو لوگوں سے ملکر سائٹ کا انتخاب کرے گی جس کو سیاحتی خطوط پر ترقی دیں گے اور سیاحت کو فروغ دیں گے ۔انہوںنے کہاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے گراﺅنڈز بھی بنائیں گے ۔

Scroll To Top