کفن کی جےب نہےں ہوتی

  • اپنے حقےقی دےنی بےانےے سے لاعلمی اور لاتعلقی نے ہمےں حصول رزق حلال پر کار بند رہنے کی بجائے حرص وہوس اور لالچ کی دلد ل مےں دھکےل دےا۔ نتےجہ؟ معاشرے مےں معدود دے محترم استشنا ﺅں کے ساتھ راتوں رات کروڑ پتی بننے کی قارونےت اور شےطنےت نے ڈےرے ڈال دئےے۔ ہم مےں سے اکثر مال حرام اس لئے جمع کرتے ہےں کہ اگر ےہ نہ ہوا تو ان کے بعد ان کی اولاد کا کےا بنے گا۔ کاش وہ ےہ بھی سوچ رکھےں کہ مرنے کے بعد ان کا کےا بنے گا۔

بہت بار خبر دی حجت پوری کی اللہ کے بندو ! اللہ کی سنو بھی اللہ کی سناونی کا مطلب اور مفہوم ہے اے بندے کفن کی جےب نہےں ہوتی ۔ تو دنےا مےں آےا بھی خالی ہاتھ اور اب گےا بھی خالی ہاتھ بارہا مےرے اللہ سوہنے نے بالوضاحت ارشاد فرماےا (مفہوم) لوگو تم کثرت کے لالچ اور حرص وہوس مےں اس قدر گم کردہ راہ بنے رہے کہ آخر کو تم سب نے قبروں کا منہ دےکھ لےا۔ اس حقےقت محکمہ کو جان کر بھی تم دولت وثروت کی حرام کمائی مےں اس قدر مدہوش ہوئے رہتے ہو کہ اپنے پےدا کرنے والے اللہ رحےم وکرےم کے ہر فرمان کو پس پشت ڈالے رکھتے ہو۔ حالانکہ تمہارے سامنے تم سے ےہی زےادہ طاقتور، حاجان ثروت حکمران اور طاغوت کی علامتےں خالی ہاتھ قبروں مےں اتار دی گئےں مگر اس کے باوجود تم دولت آفرےبی کی قارونےت سے باز نہ آئے۔ غربا ءفقرا اور ناداروں نزاروں کی خون پسےنے کی کمائی کو اپنے اوجڑےوں اور تجورےوں مےں ٹھونستے رہے۔ تم اےک معےن مفہوم مےں ےہ ناجائز مال اسباب اس لئے ذخےرہ کرتے رہے کہ تےرے مرنے کے بعد تےرے بچوں کے کام آئے مال اسباب کے بغےر ان کا کےا بنے گا۔ آہ اے نادان! تم نے ےہ کبھی سوچا کہ اےسی حرام کمائی کے ساتھ مرنے کے بعد تمہار ا کےا بنے گا؟ اگلے روز قومی احتساب بےورو(نےب) کے چےئرمےن جسٹس (ر) جاوےد اقبال نے بھی لاہور مےں منعقدہ اےک تقرےب مےں ”چند روز مےں کروڑ پتی بننے والے کو مشور دےا کہ وہ سوچےں کفن کی جےب نہےں ہوتی“ نےب کی ےہ تقرےب اےک اعتبار سے اپنے دامن مےں ہمارے معاشرے اور ہمارے اجتماعی معاشرتی ومعاشی روےے کی بہترےن ترجمانی اور عکاسی کرتی ہے ۔ جس پر مےں کسی دوسری نشست مےں تفصےلی تبصرہ کروں گا سردست اس مختصر مگر جامع تقرےب کے حوالے سے اےک اعمالی تبصرے تک ہی محدود رہوں گا نےب کی اس تقرےب کے ذرےعے ادارے نے لاہور کی اےک فراڈےا ہاﺅسنگ سوسائٹی سے واپس لئے گئے 73کروڑ روپے کی خطےر رقم متاثرےن کو واپس کی ہے۔ اس سے پہلے کے گوشوارے کے حوالے سے چےئرمےن نےب جناب جسٹس (ر) جاوےد اقبال نے انکشاف کے اکہ ان کا ادارہ اپنے قےام سے اب تک 303ارب روپے بدعنوان عناصر کی تجورےوں سے نکال کر قومی خزانے مےں جمع کراچکا ہے۔ ان اےام مےں ملک کے گر گے سےاستدانوں ، حکمرانوں ، ان کے گماشتوں، اےجنٹوں اور کارندوں کے گرد احتسابی شکنجہ کستے چلا جارہا ہے۔ جس کے رد عمل نے ان بدعنوان اور کرپٹ عناصر نے اپنے زر خرےد مےڈےائی اداروں مےں موجود اپنے بھونپوﺅں کے ذرےعے ملک بھر مےں جہاں اےک طرف نےب کی کردار کشی کا مذموم دھندہ شروع کر رکھا ہے وہےں احتساب کے شفاف عمل کو بھی انتقام کے الزام وشنام کی لپےٹ مےں لاکر بدنام کرنے کی انتہائی بھونڈی حرکت شروع کر رکھی ہے چنانچہ اس مخصوص پس منظر مےں منعقدہ نےب کی مذکورہ تقرےب جہاں اےک فراڈ ےا سوسائٹی کے ڈسے ہوئے متاثرہ شہرےوں کے مال مسروقہ کی بازےابی کرائی گئی ہےں عوام کی توجہ بھی معاشرے مےں جاری متنوع روےوں اور بطور خاص قانون سے لاعلمی، لالچ اور حرص وہوس کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔ اس موقع پر جسٹس جاوےد اقبال نے جس ڈبل شاہ کے حوالے سے اےک کاٹ دار طنزےہ جملہ کہا وہ قابل غور لائق تحسےن ہے ان کا فرمانا تھا کہ ہم ان شاءاللہ سوسائٹی مےں کسی کو ڈبل شاہ نہےں بننے دےں گے انہوں نے مزےد کہا کہ رزق حلال مےں ہمےشہ برکت ہوتی ہے چند دنوں مےں کروڑ پتی بننے والوں کو سوچنا چاہئے کہ کفن کی جےب نہےں ہوتی۔ جناب جسٹس جاوےد اقبال اور نےب کی کارگزاری کے حوالے سے ہمارے معاشرے کی جو تصوےر بنتی ہے اس کے حسب ذےل نقوش اور خدوخال قابل غور وفکر وعمل ہےں۔
۱۔ ہمارے معاشرے مےں بوجودہ رزق حلال کی بجائے حرام پائی کے ذرےعے مالی کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔
۲۔ نامناسب تعلےم وترتےب کے نےب سے سوسائٹی مےں حرص وہوس کا کلچر پھل پھول رہا ہے ۔ جس کے نتےجے مےں حلال حرام کی تمےز اور شناخت کم ہوتی جارہی ہے۔
۳۔ روٹی کپڑا مکان انسان کی بنےادی ضرورےات ہےں جب ےہ جائز ذرائع سے پوری نہےں ہوتےں تب سادہ لوح لوگ چھوٹے موٹے جرائم کی طرف راغب ہوتے ہےں جو کسی احتسابی نظام اور معاشرے کی کمزور گرفت کے باعث روز بروز بڑھتے رہتے ہےں۔
۴۔ اسی فضا مےں سوسائٹی کے بعض برخود غلط عناصر جنھے اور ادارے بناکر لوگوں کو مزےد کرپٹ بناتے ہےں۔ ڈبل شاہ جےسا شخص بھی انہی حالات کی پےداوار ہوتا ہے ۔ وہ اےک طرف عام آدمی کی محرومےوں کو اےکسپالئٹ کرنا اور دوسری طرف ہزار پر دو ہزار منافع کی ادائےگی کا لالچ دےتا ہے۔ ابتدا مےں وہ مزےد سرماےہ کاری کے طور پر چند سو لوگوں کو دگنی رقوم کی ادائےگی بھی کرد ےتا ہے جس سے علاقے اور قرب وجوار مےں اس کی کاروباری ساکھ اور دےانت داری کی دھاک بےٹھ جاتی ہے بس پھر کےا ہوتا، لوگ اپنی جمع پونجی کی اس پر بارش کئے دےتے ہےں اور وہ ساری رقوم سمےٹ کر ےک بارگی منظر سے غائب ہوجاتا ہے ۔
۵۔ ڈبل شاہ کی طرح ہمارے ہاں برساتی مےنڈکوں کی طرح پھوٹنے والی ہاﺅسنگ سوسائٹےاں ہےں جو اپنے دلفرےب نعروں اور پرکشش اشتہاری مہموں کے ذرےعے سادہ لوح اور محرومی کے مارے اللہ کے بندوں کو جی بھر کر لوئٹی ہےں اب بھی وقت ہے کہ جہاں نےب جےسے ادارے اور دےگر احتسابی اےجنسےاں بر سر عمل ہےں وہاں ہم عوام کو بھی اپنے اپنے حصے کی شمع ضرور روشن کرنی چاہئے۔ اور اس شمع کا روغن ہے ہم مےں سے ہر اےک اپنا اپنا نےک نامہ اعمال جس مےں لالچ سے نجات اور رزق حلال کے حصول کو فوقےت حاصل ہےں۔

Scroll To Top