اسلام ایک سیاسی جماعت یا محض ایک مذہب ؟ 11-12-2014

ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ آنحضرت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے آخری پیغمبر تھے اور آپ روئے زمین پر اولاد آدم ؑ کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام لائے تھے۔ اس پیغام کے ساتھ دینِ ابراہیم دینِ کامل بن گیا۔ دنیا اس دینِ کامل کو اسلام کے نام سے جانتی ہے۔ اسلام یقینا دین ِ کامل تھا ` دینِ کامل ہے اور دینِ کامل رہے گا۔ مگر جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں۔ ہمارے دانشور اور مغربی محقق مذاہب کا ذکر جس انداز میں کرتے ہیں اور جس طریقے سے مختلف مذاہب اور انہیں ماننے والوں کی پہچان کراتے ہیں اس کا اطلاق اسلام اور مسلمانوں پر نہیں ہوتا۔ عیسائیت یہودیت یا دوسرا کوئی بھی مذہب ان مذاہب کو ماننے والوں کا ذاتی مسئلہ ہوگا مگراسلام ذاتی مسئلہ ہر گز نہیں ہے۔ اسلام ا یک نظامِ حیات ہے جسے اس کے ماننے والے اجتماعی طور پر من حیث القوم اختیار کرتے ہیں۔ جو لوگ اسلام کو بھی دوسرے مذاہب کی طرح آدمی کا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں اور اپنی اس سوچ کی بنیاد پر سیکولرزم کے فلسفے کو معاشرے اور ریاست کی پہچا ن بناتے ہیں انہوں نے دراصل اسلام اور آنحضرت کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ ہی نہیں کیاہوتا۔ جس شخص نے بھی اسلام اور آنحضرت کی زندگی کا مطالعہ کیاہو گاوہ کیسے اس حقیقت سے انکار کر سکتاہے کہ آپ کے لائے ہوئے پیغام نے پورے انسانی معاشرے کودو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ یعنی معاشرہ عملی طورپر دوجماعتوںمیں بٹ گیا تھا۔ ایک جماعت مسلمانوں کی تھی جن کی تمام تر سوچوں اور وفاداریوں کا سرچشمہ قرآن حکیم اور آنحضرت کا پیغمبرانہ اور قائدانہ مقام تھا۔ اور دوسری جماعت باقی تمام جماعتوں نظریات اور شناختوں پر مشتمل تھی۔
اگر یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگا کہ دو قومی نظریہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور تھا۔ کون نہیں جانتا کہ ہجرت سے پہلے آپ کے سامنے ایک مصالحتی فارمولا یہ لایا گیا تھا کہ ” مسلمان اپنے خدا کی پرستش کریں اور ہمیں اپنے خداﺅں کی پرستش کرنے دیں۔ یوں بقائے باہمی سے امن قائم رہے گا ؟ اور کون نہیں جانتاکہ آپ نے اس فارمولے کو قبول کرنے پر ہجرت کرنے اور بنی نوع انسان کو اسلام کی آغوش میں لانے کے مشن کو ترجیح دی تھی ؟ کون نہیں جانتا کہ آپ نے دنیا پر اسلام کے غلبے کو اپنا مقصدِ حیات بنایا تھا۔؟“
میں نے یہاں آج یہ موضوع اس لئے چھیڑا ہے کہ اسلام میں ایک ریاست کے اندر کثیر الجماعتی نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ درست ہے کہ جو جماعتیں گروہ یا افراد دائرہ ءاسلام سے باہر ہیں اُن کے حقوق کے تحفظ اور احترام کی پوری ضمانت اسلام نے دی ہوئی ہے مگر کیا آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ مدینہ میں ایک ایسے انتخاب کا امکان ہوسکتا تھا جس میں مقابلہ آنحضرت اور عبداللہ بن ابی کے درمیان ہوتا۔۔۔ یا مسلمانوں اور مشرکوں یہودیوں اور نصرانیوں وغیرہ کے درمیان ہوتا۔۔۔؟
ازروئے اسلام فیصلہ یہ ہونا ہوتا ہے کہ جماعت کے اندر قیادت یا حکمرانی کا زیادہ مستحق یا اہل کون ہے۔ لیکن ایک ہی جماعت کامتعدد جماعتوںمیں بکھر جانا اسلام سے مکمل انحراف ہے۔
اسی لئے میں کہتا ہوں کہ جدید چین میں اسلام کے ہی سیاسی نظام کو اختیار کیا گیا ہے۔

Scroll To Top