وزیر اعظم نے اسد عمر سے استعفیٰ لے لیا،حفیظ شیخ مشیر خزانہ مقرر

  • اسد عمر کا وزارت توانائی لینے سے انکار، تحریک انصاف کو خیر باد نہیں کہہ رہا،عمران خان نیا پاکستان بنانے کیلئے پرعز م ہیں، پاکستان کےلئے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھیں، سازشی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا
  • اگر مشکل فیصلے نہ کئے گئے تو دوبارہ کھائی میں گر سکتے ہیں ، معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی،نئی شخصیت کو ایک مشکل معیشت سنبھالنا ہوگی،سبکدوش وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے باضابطہ طورپر وزارت چھوڑ نے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے وزیر خزانہ سے کوئی ا±مید نہ رکھے کہ تین مہینے میں بہتری ہوگی، آئی ایم ایف میں جارہے ہیں، آئندہ بجٹ پر آئی ایم ایف پروگرام کا اثر پڑےگا، بجٹ مشکل ہوگا،نئے وزیر خزانہ ایک مشکل معیشت سنبھالیں گے ،بہتری کی طرف جارہے ہیں صرف تھوڑا صبر کر نے کی ضرور ت ہے ، اگر مشکل فیصلے نہ کئے گئے تو دوبارہ کھائی میں گر سکتے ہیں ، معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی، تحریک انصاف کو خیر باد نہیں کہہ رہا،عمران خان نیا پاکستان بنائے گا، آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں گی،نئے پاکستان کےلئے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی ، سازشوں جیسے معاملات میں نہیں پڑتا۔ جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ آپ سب کو میرا فیصلہ تو معلوم ہو گیاہے،وضاحت کر دوں اس لئے آیا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں رد و بدل کر رہے ہیں، گزشتہ رات بھی وزیر اعظم سے بات ہوئی اور پھر صبح بھی عمران خان سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہاہے کہ آپ وزارت خزانہ کی جگہ وزارت توانائی کا قلمدان لے دیں جس پر میں نے وزیر اعظم کو بتایاکہ کابینہ کا حصہ نہیں رہوں گاتاہم کابینہ سے الگ ہونے کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ میں عمران خان کے ساتھ نہیں، میں ان کے نیا پاکستان کے وژن کو سپورٹ کرنے میں ہمیشہ ساتھ ہوں۔انہوںنے کہاکہ سات پہلے 18اپریل2012میں تحریک انصاف کا حصہ بنا اور تحریک انصاف کے ساتھ 7 سال کا سفر بہترین رہا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے مجھے کہا تھا کہ آپ ملک کی بہتری کےلئے ہمارے ساتھ آئیں تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ میں پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے وژن کے ساتھ کھڑے ہیں۔اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان تحریک انصاف اور ان کے نوجوان کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان سب کے بغیر آج عمران خان وزیر اعظم اور اسد عمر وزیر خزانہ نہیں ہوسکتے تھے۔اسد عمر نے کہا کہ خصوصاً این اے 54 کے عوام کا مشکور ہوں۔معیشت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ حکومت بننے کے وقت جہاں معیشت کھڑی کی تھی وہ پاکستان کی بدترین صورتحال تھی اور اس سے نکلنے کےلئے فیصلے کیے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب معیشت بہتر ہوگئی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ نیا وزیر خزانہ جب آئےگا تو اس کو بھی معیشت کے مشکل حالات دیکھنے کو ملیں گے لیکن امید کرتا ہوں انہیں مکمل حمایت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ میں مشکل فیصلوں سے گھبراتا نہیں ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں، ملک کی معیشت میں جان ہے لیکن اس کے لیے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور مشکل فیصلے کرنے والے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔اسد عمر نے کہا کہ نئے وزیر خزانہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہوگا اور وہ ایک مشکل معیشت سنبھالے گا، وزیراعظم کے بعد مشکل ترین عہدہ وزیر خزانہ کا ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ آئندہ بجٹ پر آئی ایم ایف پروگرام کا اثر پڑے گا، آئندہ بجٹ مشکل ہوگا ۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ مجھے اپنے کسی سازش کا معلوم نہیں،جو سازشیں کررہا ہے وہ کرے، سازشوں جیسے معاملات میں نہیں پڑتا۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ مجھے معلوم نہیں پی ٹی آئی کمزور ہو گی یا مضبوط،میں صرف کام کرنے کیلئے آیا تھا۔ ایک سوال پر اسد عمر نے کہاکہ کپیٹل مارکیٹ اور بینکوں کوچلانا صرف وزیر خزانہ کی ذمہ داری نہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیر خزانہ نے 21 کروڑ عوام کا خیال رکھنا ہے۔ ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کو خیر باد نہیں کہہ رہا،عمران خان نیا پاکستان بنائےگا۔ انہوںنے کہاکہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیاں ہو جائیں گی ۔ انہوںنے کہاکہ نئی ٹیم کے آنے سے حکومت کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم بہتری چاہتے ہیں اس لئے تبدیلی آ رہی ہے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میری کابینہ میں شرکت نہ کرنا احتجاج نہیں ہے۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ نیا وزیر خزانہ وزیر اعظم منتخب کریں گے۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ معیشت کی بنیادی چیزوں کو درست نہیں کریں گے تو معاشی ترقی نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بہت بہتر شرائط پر معاہدہ ہوا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ میں پہلے بھی عمران خان کےلئے حاضر تھا آج بھی حاضر ہوں، جس وقت نوکری چھوڑی تھی اس وقت تحریک انصاف پارلیمنٹ میں ہی نہیں تھی۔ ایک اور سوال پر انہوںنے کہاکہ نئے پاکستان کےلئے میری خدمات کرسی پر منحصر نہیں تھی۔ قبل ازیں اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔انہوں نے کہا کہ میرا موقف ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔

Scroll To Top