خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس،لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2019 منظور

  • صوبے بھر بشمول ضم شدہ اضلاع مےں ےکساں بلدےاتی نظام نافذ کےا جارہا ہے جس سے صوبے مےں بلدےاتی حکومتےں مزےد مستحکم ہو ںگی،محمود خان
  • اختےارات حقےقی معنوں مےں عوام کو منتقل ہو ں گے،وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی اور وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

پشاور(الاخبار نیوز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زےر صدارت کابینہ کا اجلاس پشاور مےں منعقد ہوا جس مےں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2019 کی منظوری دی گئی۔ کابینہ اجلاس کے بعد صوبائی وزیر بلدیات، الیکشنز و دیہی ترقی شہرام خان ترکئی اور وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئے بلدیاتی نظام کی چیدہ چیدہ خصوصےات میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام میں ضلع کونسل اور ضلع ناظم کا عہدہ ختم کرنے کی تجوےز ہے جبکہ نیا مقامی حکومتوں کا نظام دےہی اور شہری علاقوں مےں با لترتےب تحصیل اورسٹی لوکل گورنمنٹ اور ویلیج و نیبرہوڈ کونسل پر مشتمل دو درجاتی نظام ہوگا۔ نئے ترمیمی بل کے تحت ناظمین اب چیئرمین کہلائیں گے جبکہ تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سٹی لوکل گورنمنٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا سربراہ میئر کہلائے گا۔ انہوں نے بتاےا کہ تحصیل کونسل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے انتخابات جماعتی بنیاد پر جبکہ ویلیج اور نیبر ہوڈ کونسل کے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ اسی طرح تحصیل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوں گے۔ شہرام خان ترکئی نے کہا کہ ویلیج و نیبر ہوڈ کونسلز میں 33 فیصد خواتین، 5 فیصد نوجوانوں اور اقلیت کا بھی کوٹہ بحال رکھا گیا ہے جبکہ ویلیج اور نیبرہڈ کونسل ممبران کی تعداد 6 سے 7 کر دی گئی ہے جو اس سے قبل 10 سے 15 تھی۔ صوبائی وزیر بلدیات نے محکموں کی نچلی سطح پر منتقلی کے حوالے سے کہا کہ پرائمری و سیکنڈری ایجوکیشن، سماجی بہبود، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سپورٹس، کلچر، امور نوجوانان، لائیو سٹاک، سوشل ویلفیر، پاپولیشن، واٹر اینڈ سینیٹیشن اور دیہی ترقی کے محکمے تحصیل چیئرمین میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے ماتحت ہوں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نئے بلدیاتی ترمیمی بل کے تحت لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن قائم کیا جائے گا جس میں تحصیل چیئرمینوں کی تعداد 2 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے جن کا انتخاب صوبے کے متعلقہ پانچ زونز سے ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بدعنوانی کے تدارک کے لئے نئے بلدیاتی نظام کے مالیاتی حسابات کمپیوٹرائزڈ ہوں گے۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ اکا¶نٹس آفیسرز کے علاوہ صوبائی حکومت خود اور تھرڈ پارٹی کے ذریعے مقامی حکومتوں کا آڈٹ کر سکے گی۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی کا کہنا تھا کہ تحصیل کونسل سادہ اکثریت سے بجٹ کی منظوری دے سکے گی جبکہ بلدیاتی حکومتوں کو صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد فراہم کیا جائے گا۔ تحصیل چیئرمین و میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کے مواخذے کے حوالے سے شہرام خان ترکئی کا کہنا تھا کہ تحصیل کونسل چیئرمین اور میئر سٹی لوکل گورنمنٹ کو مواخذے کی تحریک پر ایوان کی دو تہائی اکثریت سے ہٹایا جا سکے گا تاہم مواخذے کے لئے لوکل گورنمنٹ کمیشن کو معقول وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔ صوبائی دارالحکومت میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے صوبائی وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ پشاور 2 سٹی لوکل گورنمنٹس اور 3 تحصیل حکومتوں پر مشتمل ہوگا۔ مجوزہ ترمےمی بل آئندہ ہفتے منظوری کے لئے صوبائی اسمبلی میں پےش کےا جائے گا ۔کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزےر اعلیٰ محمود خان نے صوبائی حکومت کے نئے مجوزہ بلدےاتی نظام کو اےک بہترےن نظام قرار دےتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے بشمول ضم شدہ اضلاع مےں ےکساں بلدےاتی نظام نافذ کےا جارہا ہے جس سے صوبے مےں بلدےاتی حکومتےں مزےد مستحکم ہو ںگی،اختےارات حقےقی معنوں مےں عوام کو منتقل ہو ں گے اور اس طرح عوام بااختےاربھی ہو ں گے۔ وزےر اعلیٰ نے اس موقع پر گرےڈ 7 اور اس سے اوپر کی خالی آسامےوں پر بھرتےاں NTS اور اچھی شہرت کی حامل دےگر ٹیسٹنگ اےجنسےوں سے کروانے اور ان بھرتےوں مےں مےرٹ کی بالا دستی کو ےقےنی بنانے کی ہداےت کی۔ انہوں نے وزراءاور انتظامی سےکرٹرےوں کو ےہ بھی ہداےت کی کہ وہ اپنے اپنے محکموں مےں شفافےت ، مےرٹ کی بالا دستی ، مالی معاملات کے بہتر نظم و نسق اور بہترطرز حکمرانی کو ےقےنی بنانے کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کرپشن جس سطح پر بھی ہو پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام بھرتیاں میرٹ پر یقینی بنائی جائیں گی تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔

Scroll To Top