پاکستان کی ظالمےہ اور مظلومےہ ستےزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز، چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی،

  • اےک طرف کمزور ہےں دوسری طرف زوراور ، اےک جانب فاقہ کش ہےں تو دوسری طرف بسےار خور تنومند ، ادھر مظلوم ہےں ادھر ظالم پھےلے ہوئے ہےں، ےہاں نےک معاشےہ تو وہاں بدمعاشےہ ۔ او ر ظلمت و روشنی۔ اندھےرے وسوےرے اور ظالم ومظلوم کے مابےن جاری ےہ چپقلش ، کشمکش اور آوےزش کو آخری تجزےے مےں مظلوم کے حق مےں نتےجہ خےز سم کر رہنا ہے ۔ ےہی الہیٰ عدل ہے مےرے اللہ سوہنے کا وعدہ ہے۔

ےہ اےک عہد نا پرساں کا سےاسی المےہ جےسے آخری تجزےے مےں طربےہ بننا ہے۔
اےک طرف عوامےہ دوسری طرف ظالمےہ ادھر نےک معاشےہ ادھر بدمعاشےہ اور نےک وبد کے مابےن جاری ےہی چپقلش ےہی کشمکش ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی ےہی جہد حےات ہے ےہی سفر زندگی ہے زندگی اےک سفر ہی ہے تبھی تو کتاب کی ابتدا ہی مےں ہمےں صراط مستقےم کی دعا اور ہداےت دی گئی ہے ےعنی نےکےوں بھرا راستہ جس پر چلتے ہوئے ہم اللہ کرےم کے ان بندوں مےں سے شمار ہونے لگےں جن پر خالق کائنات کا فضل ہوا اس کی رحمتےں، برکتےں اور نعمتےں ان لوگوں کا نصےب ٹھہرےں ۔لوگ اللہ رحےم وکراےم سے ڈراتے ہےں ۔ نعوز باللہ نعوز باللہ ۔ اللہ سوہنا کوئی ۔۔۔ ہے نہےں نہےں ہرگز نہےں ہمےں اپنی ماﺅں سے پےار ہوتا ہے ناں، اللہ کرےم تو فرماتا ہے کہ وہ ماں سے ستر گنا زےادہ اپنے بندوں سے پےار کرتا ہے ۔
اصل بات ےہ ہے کہ ہمےں اپنی ذات مےں چھپی ان برائےوں ، کمےوں کجےوں سے ڈرنا چاہے جو ہمےں اللہ پاک کی واضح ہدات کرےم سے دورلے جاتی ہےں۔ اور ہمےں ڈرنا چاہے ان خوفناک نتائج سے جو ہماری غلطےوں اور گناہوں کے نتےجے مےں ہمےں تباہی کے دہانے پر پہنچا دےنے والے ہوتے ہےں ۔ ہمارا کوئی رہبر، کوئی رہنما ، کوئی استاد ےا بزرگ ےا والدےن ہمےں کسی اےسی راہ بابت خبردار کرتے ہےں جو کسی گہرے گڑھے کی طرف لے جانے والا ہوتا ہے ۔ تو اس عمل کو اس ہدائت کو اےک خوبصورت پےرائے مےں دےکھنا چاہے کہ ہمےں ہدائت دےنے والی ہستی ہماری خےر خواہ ہے ، وہ ہماری زندگی کو ہماری صحت کو اور ہماری سلامتی کو برقرار رکھنے کی متمنی ہے اور اس لئے ہمےں کسی جسمانی، روحانی ےا مادی گزند، صدمے، نقصان اور خسارے سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ کتاب مےں ہے کہ تم لوگوں مےں عدل کےا کرو عدل کےا ہے ہر شے کا وےت زاوےے اور سمت کے ساتھ اپنے اصل مقام پر توازن بدوش پےرائے مےں قائم ہونا موجود ہونا عدل کہلاتا ہے ۔ عدل کا الٹ اور مخالف ظلم ہے۔ ظلم ےعنی اشےاءاقدار ومعاملات کا اپنی جگہ نہ ہونا، کسی دوسری جانب کھسک جانا، مستحق سے دور ہوجانا اور غےر مستحق کے قرب مےں سمٹ جانا ظلم کہلائے گا عدل کے حوالے سے اےک اور وضاحت ضروری ہے اور وہ ےہ کہ اکثر لوگ قانون کو عدل کے مترادف سمجھ لےتے ہےں ۔ ہرگز نہےں اگر اےک قانون اپنے دامن مےں عدل کے تمام جواہر خصائصی اور اوصاف رکھتا ہے تو اےسا قانون عادلانہ قانون کہلائے گا اور مستحق ہوگا۔ انسانی سماج مےں اللہ کرےم اپنے بندوں سے اےسے ہی عادلانہ قانون کی منشا ومرضی رکھتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر کسی قانون مےں عدل کا نور نہےں ہوگا تو وہ قانون منشائے الہیٰ سے ےکسر متصادم ہوگا جےسے فرعون کا وہ قانون جس کے مطابق حضرت موسیٰ کے قبےلے کے ہر بچے کو پےدا ہوتے ہی قتل کر دےنے کا حکم دےا گےا تھا۔ مےرا خےال ہے مےری ان معروضات سے معاشرے مےں عدل ، انصاف اور نےک وبد کے حوالے سے معاملات کی تفہےم کافی آسان ہوجائے گی۔ اب اگر ان نظری، فکری اور اصولی بےانےے کی روشنی مےں ہم اپنے ملکی معاملات وواقعات اور معاملات کا تجزےہ کرےں تو ہمارے سامنے اےک اےسا منظر نامہ کھلتا ہے جو اےک حسےن وجمےل اور جنت نظےر باغ باغےچے ، اور گلستان سے آراستہ ہے مگر جہاں دو گروہ انسانی آپس مےں ستےزہ کار ےعنی برسر پےکار ہےں ۔ اےک طرف کمزور ہےں دوسری طرف زوراور ، اےک جانب فاقہ کشی ہےں تو دوسری طرف تنو مندر اےک سمت مےں مظلوم سمٹے ہوئے ہےں تو دوسری طرف ظالم پھےلے ہوئے ہےں۔ بےشتر لوگ علمی کمی کے سبب سے ظالم کے ظلم کو اپنا مقدر سمجھ کر اس سے مفاہمت کر لےتے ہےں ۔ کئی اےک خود ظالم بن جاتے ہےں مگر کچھ اےسے بھی ہوتے ہےں جو ظلم سے مفاہمت، موافقت ےا مطابقت پےدا نہےں پاتے ۔ ان پر ان کے اللہ کی ہدائت ان کے ےقےن، اےقان اور اےمان کا حصہ بن چکی ہوتی ہے شکر الحمد للہ خالق کائنات ہمارے اللہ سوہنے کی مرضی ومنشا کے تحت پاکستان مےں اےک بطل جلےل اور ررجل رشےد جناب عمران خان کی صورت مےں سرےر آرائے سلطنت ہوچکا ہے ۔ دےانت ، امانت ، صداقت اور اصابت اور سب سے بڑھ کر اللہ رحےم وکرےم کی رحمت ، برکت اور محبت اس کا سب سے بڑاورثہ ، اور اثاثہ ہے اور وہ اسی کے ذرےعے ظلم وستم ، جبر وقہر اور شےطانی طاغوت سے مصروف ستےزکار ہے ۔ رمضان کرےم مےں لےلة القدر کی سلامتی والی ساعتوں کے ساتھ قائم ہونے والے چنستان پاکستان کو اےک بار تو ظلم کے درندوں اور کارندوں سے نجات پائی ہے ۔ ظالم ومظلوم کی چپقلش ، آوےزش اور کشمکش کو مظلوم کے حق مےں نتےجہ خےر ہوکر رہنا ہے ۔ کہ اقبال بھی اس ضمن مےں کہہ گئے ہےں۔
ستےزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز،
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی،

Scroll To Top