”اللہ تعالیٰ کے قوانین کے علاوہ کون سا قانون ہے جو منشائے عوام کو مسترد کرسکتا ہو ۔۔۔؟“

 

گورنر کے پی کے شاہ فرمان کو میں تب سے جانتا ہوں جب انہیں چپ کرانے کے لئے چیئرمین عمران خان حکم دیا کرتے تھے کہ اگلے پندرہ منٹ تک تم ایک لفظ نہیں بولو گے۔ یہ تب کی بات ہے جب تحریک انصاف کے قدم ابھی پوری طر ح نہیں جمے تھے لیکن جمنے شروع ہوگئے تھے۔ تحریک انصاف کی پارٹی میٹنگز ہمیشہ دھواں دار ہوا کرتی تھیں۔ خاموش رہنے والوں کی تعداد بولنے والوں سے خاصی کم ہوا کرتی تھی۔ عمران خان کھل کر تبادلہ ءخیالات کے حامی ہیں۔ سننے والی بات وہ کان لگا کر سنتے ہیں۔ شاہ فرمان باتوں کا ذخیرہ لے کر میٹنگوں میں آیا کرتے تھے۔ مگر بہت زیادہ بولنے کا موقع انہیں کم ہی ملتا تھا۔
16اپریل کی شب انہوں نے اے آر وائی کے پروگرام دی رپورٹرز میں صابر شاکر کے ساتھ ایک ایسے موضوع پر کھل کر بات کی جو ہمیشہ ” ممنوعہ علاقہ “ بنا رہا ہے۔اسی موضوع کی اہمیت اور افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے ون نیشن موومنٹ یعنی ایک قوم تحریک کی داغ بیل ڈالی تھی۔ عام انتخابات کی وجہ سے اس تحریک کو تاحال فعال نہیں بنایا جاسکا لیکن اس کا مرکزی خیال ہر محب وطن اور حقیقت پسند پاکستانی کے ذہن میں موجود ہے۔
شاہ فرمان نے اس موضوع کو چھیڑ کر اپنی حب الوطنی کا ناقابل تردید ثبوت دیا ہے۔ عام طور پر جب بھی کوئی شخص موجودہ پارلیمانی نظام کی فرسودگی اور چیرہ دستیوں سے نجات کے لئے زیادہ فعال اور زیادہ متحرک صدارتی نظام کی بات کرتا ہے تو علاقائی عصبیتوں کے وہ محافظ جنہیں اقتدار میں رہنے کے لئے پارلیمانی نظام میں ہی حقیقی جمہوریت نظر آتی ہے ` ایکدم میدان میں اتر آتے ہیں اور ایوب خان اور ضیاءالحق کی آمریت کا شورمچ جاتا ہے۔ شاہ فرمان نے سچ کہا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی صوبے ہیں وہاں پارلیمنٹ ایک ہی ہے۔علاقائی خود مختاری اورمقامی حاکمیت کا پارلیمانی نظام سے کوئی تعلق نہیں۔
” میں ذاتی طور پر صدارتی نظام کے حق میں ہوں۔ ضروری نہیں کہ اس کے لئے پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت کا انتظار کیا جائے۔ آئین کے آرٹیکل 48کے تحت وزیراعظم کے پاس اختیار ہے کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں بھیجے جہاں سادہ اکثریت سے یہ تجویز منظور کی جاسکتی ہے کہ عوام سے پوچھا جائے کہ وہ صدارتی نظام چاہتے ہیں یا نہیں۔۔۔“ شاہ فرمان نے کہا۔” اگر ریفرنڈم میں عوام صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ دے دیں تو اللہ تعالیٰ کے قوانین کے علاوہ کون سا قانون ہے جو منشائے عوام کو مسترد کرسکتا ہو۔۔۔۔؟“

Scroll To Top