نیا پاکستان ہاﺅسنگ اسکیم کا افتتاح:مفاد پرست ٹولے کی رکاوٹوں کے باوجود تبدیلی کی جنگ جیت چکے، عمران خان

  • ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلنے والے کس منہ سے ہم پر تنقید کر رہے ہیں ،قوم نے گھبرانا نہیں مشکل وقت کامیابی کی نوید لے کر آتا ہے ، میرا وژن وہی ہے جو بانیان پاکستان کا تھا ، ریاست مدینہ کے اصول اپنا کر پاکستان کو ایک عظیم ملک بنائیں گے
  • ” احساس “ ہماری حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کا مقصدملک بھر سے غربت کا خاتمہ ہے ابیت المال سمیت تمام منصوبوں میں شفافیت کےلئے پرعزم ہےں، وزیر اعظم کا منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ منصوبہ شروعات ہے ، ملک بھر میں مختلف جگہوں پر اسکیمیں شروع کرینگے ، 50 لاکھ گھروں کا ٹارگٹ بہت بڑا ہے، سرمایہ کاروں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں،ہمارے پاس پیسہ نہیں، بینک کرپٹ ہیں، 10 سال میں جو لوٹ مار ہوئی سب سے زیادہ تاریخی قرض ہم پر ہے،ایک دن میں 650 ارب سود دے رہے ہیں ، ملک کو قرضے میں ڈبونے والے کس منہ سے ہمیں سبق سکھاتے ہیں، عوام فکر نہ کریں، ہم جب نبی کریم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے تو اللہ کی برکت آئےگی، ہمیں اپنی آبادی کنٹرول کرنا پڑے گی، ہماری آبادی بہت بڑا اثاثہ بھی ہے،5 ارب روپے بلا سود قرض دیں گے، 25 ہزار گھر راولپنڈی اسلام آباد میں بنا رہے ہیں، ایک لاکھ گھر بلوچستان میں اور 6 ہزار آزاد کشمیر میں بنائیں گے،مشکل وقت قوموں کو مضبوط کرنے کےلئے آتے ہیں، قوم نے گھبرانا نہیں ، ملک میں اکثریت محرومیوں کاشکار ہے، معاشرے میں تبدیلی اسٹیٹس کو کو شکست دینے کے بعد آئے گی۔ بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیا پاکستان ہاو¿سنگ اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک شروعات ہے، ہم ملک بھر میں مختلف جگہوں پر اسکیمیں شروع کریں گے۔عمران خان نے بتایا کہ جب سے حکومت میں پہلے دن سے میرا وژن بہت سیدھا ہے کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے، پہلے دن سے کلیئر ہوں کیا کرنا چاہتے ہیں، یہ آسان ہوتا تو 70 سال میں لوگ کر چکے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ فلاحی ریاست اور دوسری ریاست میں یہی فرق ہے کہ ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے، اس کی پالیسی نچلے طبقے کو اٹھانا ہوتا ہے یہ ہمارا وژن ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نبی کریمکے راستے پر چلنا چاہتے ہیں، یہی راستہ زندگی کا مقصد ہے ان کا راستہ یہ تھا کہ وہ انسانیت کےلئے آئے تھے، انہوں نے جو انسانیت کےلئے کیا وہ کسی نے نہیں کیا، ہم اسی راستے پر چلنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں، بینک کرپٹ ہیں، 10 سال میں جو لوٹ مار ہوئی سب سے زیادہ تاریخی قرض ہم پر ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ مخالفین مجھے کہتے ہیں کہ میں ا±لجھن کا شکار ہوں لیکن میں انہیں بتایاچاہتا ہوں کہ میں جب سے سیاست میں آیا ہوں ا±لجھن کا شکار نہیں تھا اور میں پاکستان سے متعلق خواب بالکل سادہ ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ تبدیلی میں سب سے بڑی رکاوٹ مفاد پرست ٹولہ ہوتا ہے، فلاحی مملکت میں کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، پاکستان میں تعلیم کے 3 الگ الگ نظام چل رہے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ ملک کو قرضے میں ڈبونے والے کس منہ سے ہمیں سبق سکھاتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ ملک میں اسٹیٹس کو ہر شعبے میں تبدیلی کی راہ کی رکاوٹ بن گیا اور مفاد پرست ٹولہ نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے، ملک میں اکثریت محرومیوں کاشکار ہے، معاشرے میں تبدیلی اسٹیٹس کو کو شکست دینے کے بعد آئے گی۔وزیر اعظم نے کہاکہ مفاد پرست ٹولے نے لوٹے گئے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کئے۔عمران خان نے کہاکہ ایک دن میں 650 ارب سود دے رہے ہیں لیکن فکر نہ کریں، ہم جب نبی کریم کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے تو اللہ کی برکت آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کےلئے اپنی چھت بہت مشکل ہے، اس لیے یہ بڑا چیلنج لیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور تنخواہ دار لوگوں کے پاس پیسہ نہیں، 50 لاکھ گھروں کا ٹارگٹ بہت بڑا ہے لیکن سرمایہ کاروں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنی آبادی کنٹرول کرنا پڑے گی، ہماری آبادی بہت بڑا اثاثہ بھی ہے، مشکل حالات ہیں لیکن سرمایہ کار آرہے ہیں، انہیں پتا ہے کہ پاکستان 21 کروڑ لوگوں کا ملک ہے جس میں سے 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم ہے۔عمران خان نے کہا کہ کوشش ہے کہ اس اسکیم میں نجی سیکٹر آئے، نوجوان اپنی فرمز بنائیں اور خود بزنس مین بنیں۔انہوں نے کہا کہ کسی نے آج تک کچی آبادیوں کا نہیں سوچا، کراچی میں 40 فیصد لوگ کچی آبادی میں رہتے ہیں، کچی آبادیوں میں رہنے والوں کے پاس کوئی سہولت نہیں، کچی آبادی میں زمین دیں گے جس پر فلیٹ بنائیں گے۔وزیر اعظم نے کہاکہ 5 ارب روپے بلا سود قرض دیں گے، 25 ہزار گھر راولپنڈی اسلام آباد میں بنا رہے ہیں، ایک لاکھ گھر بلوچستان میں اور 6 ہزار آزاد کشمیر میں بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے کہا کہ قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ یاد رکھیں جدوجہد کبھی بھی آسان نہیں ہوتی، اس میں ہمیشہ اونچ نیچ ہوتی ہے اور مشکل وقت آتے ہیں، انسان ان مشکلات سے لڑتا ہے اوپر جاتا ہے اور نیچے جاتا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ قوم نے گھبرانا نہیں ہے، کبھی مشکل وقت سے نہیں ڈرنا، مشکل وقت قوموں کو مضبوط کرنے کےلئے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میری ساری زندگی اونچ نیچ میں گزری ہے، میرے لیے زندگی کا یہ حصہ سب سے بہترین وقت ہے۔عمران خان نے کہا کہ ملک کا پسا ہوا طبقہ جس کی آج تک کسی نے بات نہیں کی، نبی کریم کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل کر کے نچلے طبقے کو اٹھا کر پاکستان کوعظیم ملک بنائیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے نیا پاکستان ہاو¿سنگ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کےلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 50 لاکھ گھروں کی تعمیر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہوگا اور ہاو¿سنگ منصوبے سے تعمیرات سے منسلک 40 صنعتوں کو فروغ ملے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ہاو¿سنگ منصوبے سے ملازمتوں کے بھی وسیع مواقع میسر آئیں گے اور کم آمدن افراد کے لیے قرضوں کی اسکیم کو بھی آسان بنایا جائے گا، ہاو¿سنگ پروگرام کےلئے 5 ارب روپے کا ریوالونگ فنڈ مختص کردیا۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ 10 سال معیشت تباہ کرنے والے پاکستان کی ترقی نہیں چاہتے۔ادھر وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت بیت المال سمیت تمام پروگرامز میں شفافیت کے لئے پرعزم ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں غریبوں کے تحفظ ، کفالت، گھر، ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پورٹلز اورروزگارکے پروگرامز کاجائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ احساس موجودہ حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، احساس منصوبے کا مقصد غربت کا خاتمہ ہے اور حکومت بیت المال سمیت تمام پروگرامزمیں شفافیت کے لئے پرعزم ہے۔

Scroll To Top