وفاقی کابینہ اجلاس:پینل کوڈمیں ترمیم ،ایمنسٹی اسکیم پر مزید مشاورت کا فیصلہ

  • وزیراعظم آج نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کا افتتاح کریں گے ، پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 35 ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے ، سرکاری ملازمتوں میں ایم این اےز کا کوٹہ ختم ، گریڈ ایک تا 5 تک کے ملازمین کی بھرتیاں قرعہ اندازی کے ذریعے ہوںگی
  • ملکی اقتصادی بحران کے ذمہ دار شریف اور زرداری خاندان ہیں، منی لانڈرنگ کیسز کومنطقی انجام تک پہنچائیں گے، حسن، حسین ،اسحاق ڈار اور الطاف حسین کو وطن واپس لانا اشد ضروری ہے، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی فیصلوں بارے میڈیا بریفنگ

اسلام آباد(صباح نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حسن، حسین نواز، اسحاق ڈار اور بانی ایم کیو ایم لندن کو دیئے گئے تحفے ہیں جنہیں وطن واپس لانا ہے۔ وفاقی کابینہ نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ڈی ٹی) کو منی لانڈرنگ کے معاملات دیکھنے کا اختیار دے دیا ہے اور اب منی لانڈرنگ کے کیسز کی جو تفصیل آئے گی اس سے ہوش اڑ جائیں گے،وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر 26 ملین ڈالر ظاہر کر کے پاکستان لاتے ہیں تو سوچیں شریف خاندان کاکتنا پیسہ باہر ہوگا کابینہ نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا یہ کیسز منطقی انجام تک پہنچائیں گے حسن حسین نواز اوراسحاق ڈار عدالتوں کا سامنا نہیں کر رہے شریف خاندان کے 95 فیصد اثاثوں کی ڈکلیئریشن ٹی ٹی کی بنیاد پر ہے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو بھی واپس لانا ضروری ہے فہرست بڑھتی جا رہی ہے د یکھتے ہیں ریڈورروڈ پر کس کس کی جائیداد ہے۔کابینہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی سب لوگ اپنے اپنے کام کررہے ہیں۔ہمیںمعلوم ہے ملک میں دہشت گردی اور کوئٹہ کے واقعات ہمارے اندرونی معاملات نہیں ہے اس میں بیرونی انفراسٹرکچر ملوث ہے جسے توڑنے میں وقت لگے گا ، انشاءاللہ عنقریب ایسے واقعات سے پاکستان نجات پائے گا۔ کابینہ اجلاس میں کوئٹہ کے شہداءکیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ، کریک ڈاﺅن کی وجہ سے بہت حد تک دہشت گردی میں کمی ہوئی ۔ نیشنل ایکشن پلان کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں بہت حد تک کمی ہوئی سول و عسکری قیادت اورقوم ایکشن پلان پرعملدرآمد کے حوالے سے متفق ہے وہ وقت دور نہیں ہے جب ہم دہشت گردی سے مکمل طورپر نجات حاصل کرلیں گے ، ہم بڑی تیزی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اجلاس میں طویل بحث کے بعد اثاثہ جات کے حوالے سے مزید بات چیت کی ضرورت محسوس کی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے آج بدھ کو دو بجے خصوصی اجلاس بلایا ہے ۔ اثاثہ جات کی ڈیکلئریشن کے حوالے سے کل مزید بات ہوگی ، اثاثہ جات ڈیکلیئر یشن اسکیم کو کل کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے گی ۔ کابینہ نے منی لانڈرنگ کے حالیہ کیسز پرشدید تحفظات کا اظہارک یا ہے ۔ منی لانڈرنگ کے حوالے سے کیسز منطقی انجام تک پہنچیں گے ۔ ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوںکی وجہ سے ملک اقتصادی بدحالی کا شکار ہوا۔ماضی میں شریف خاندان اورزرداری نے کرپشن کی انتہا کی حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار عدالتوں کاسامنا نہیںکررہے ہیں مہنگائی ڈالر کے مقابلے میںروپے کی قدر میں کمی اور اقتصادی بحران کی بہت بڑی وجہ وہ کرپشن ہے جو ماضی میں شریف اورزرداری فیملی نے کی ۔ ہمیں امید ہے قانون اپنا راستہ لے گا اور مقدمات منطقی انجام تک پہنچیں گے۔ ٹی ٹی پیغامات کے ذریعے نواز شریف اور شہباز شریف کو پیسے باہر سے آتے رہے ، شریف خاندان کے 95 فیصد اثاثہ جات کی ڈیکلیئریشن ٹی ٹی بیسڈ ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کابھی یہی حال ہے ۔ ایک ہی رات میں ہل میٹل سے نواز شریف کو ایک ارب 2 کروڑ روپیہ منتقل ہوتا ہے اور اگلی ہی رات 82 کروڑ روپیہ مریم نواز کو دیا جاتا ہے جس سے مریم نواز نے اپنی جائیداد خریدی۔ آصف زرداری نے تو پورا بینک ہی خرید لیا اس طرح کے مزید مقدمات سامنے آئیں گے ان کی ہوشربا تفصیلات عوام کی نیندیں حرام کردے گی ان کی کابینہ کے اہم وزراء بھی اسی دھندے میں ملوث تھے ۔ خواجہ آصف ، احسن اقبال ، خودنواز شریف کو اقامے رکھنے کی کیاضرورت تھی ابھی تک سامنے آنے والی تحقیقات ہمارے اقتدار میں آنے سے پہلے کی ہیں۔ اب ہمارے دور کی تحقیقا ت سامنے آئیں گی جب آصف زرداری اقتدار میں نہیں آئے تھے تو اس وقت اسٹیل ملز ایک منافع بخش ادارہ تھا لیکن زرداری نے آتے ہی اس وقت تک چین نہیں لیا جب تک اسٹیل مل کو بند نہیں کردیا۔ وزیراعظم کی خیرسگالی کی وجہ سے اسٹیل مل میں دوبارہ ری ویمپ ہورہاہے 6 کمپنیوں نے اپنی دلچسپی ظاہر کی ہے تجویز ہے کہ مل کو پبلک ٹرائیویٹ موڈ کے تحت چلایا جائے گا اس وقت اسٹیل مل کی پیداواری استطاعت 1.1 ملین ٹن ہے جس کو 3 ملین ٹن تک بڑھایا جائے گا جبکہ ہماری ڈیمانڈ9ملین ٹن کے قریب ہے ہم نے اس بات کاخیال رکھنا ہے کہ اسٹیل مل کے ملازمین کے مفادات متاثر نہ ہوں ۔ اڈیٹر جنرل کے آفس کی استعداد کار بڑھانے کا معاملہ ہے ۔ کابینہ نے ڈاکٹر عشرت کو ٹاسک سونپا ہے وہ اس کی دوبارہ میں رپورٹ دیں گے کہ کس طرح سے اڈیٹر جنرل کے آفس کو مضبوط بنایاجاسکتا ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن کے لائسنسوں کی تجدیدکامعاملہ بھی کابینہ میں زیر بحث آیا ۔ کئی ملین ڈالرکا معاملہ ہے ایک بہت بڑی ٹرانزیکشن ہے جو ہونے والی ہے اس پر وزیراعظم نے پہلے پی ٹی اے کا موقف لیا اب پی ٹی اے کی تجاویز بھی آگئی ہیں ۔ خالد مقبول صدیقی ،اسدعمر، رزاق داﺅد، عماد اظہر اور ذوالغنی بخاری ان افراد پر مشتمل ایک کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو جو پی ٹی اے کی تجاویز کو دیکھے گی اور پھر حتمی فیصلہ کرے گی۔ سرکاری ملازمتوں میں ایم این اے کا کوٹہ ختم کردیا گیا ہے ۔ گریڈ ایک سے 5 تک ملازمین کی بھرتیاں قرعہ اندازی یا بیلٹ کے ذریعے ہوںگی ۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اس کیلئے پوسٹیں نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے ہوتی ہیںمگر اس کی بہت شکایات ہیں۔ لہذا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے کہاگیا ہے کہ وہ ٹیسٹنگ سروس کی کمپنیوں کو ری ویمپ کرے صرف وہ کمپنیاں ٹیسٹ لے سکیں گی جن کی منظوری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن دے گا ۔ وزیراعظم بدھ کو نیا گھر اسکیم کا افتتاح کریں گے ۔ پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 35 ہزار اپارٹمنٹ بنائے جائیں گے ۔ اس کے بعد مجموعی طورپر5 سالوں میں 50 لاکھ گھر بنائے جائیں گے ۔ کابینہ نے سی ڈی اے کے چیئرمین عامر محمود کو مزید 3ماہ کی توسیع دیدی ہے اسی طرح فیڈرل بورڈ انٹر میڈیٹ اور سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے چیئرمین ڈاکٹر اکرام علی کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع دی گئی ہے ۔ ڈاکٹر عامر احمد اوبکیو ٹرسٹ نئے چیئرمین ہوں گے ۔ انمیں 3 نئے ممبر بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں طارق ا حمد شاہ ، سری چاند، اور یاسر زمانی شامل ہیں ۔ پروونیشنل کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو منی لانڈرنگ کے معالمے کودیکھنے کا اختیار دیاگیا ہے۔ لوک ورثہ کو کرتارپور کوریڈور پر کلچر سنٹر اور میڈیا سنٹر بنانے کا اختیار دیاگیا ہے ۔ لینڈ کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی موخر کردی گئی ہے ۔ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس سید سعود رضوی کو پاکستان سٹینڈر اینڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی کا چیئرمین بنایا گیا ہے ۔ میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کاواقعہ بہت افسوسناک ہے اس میں 2ایف سی اہلکار بھی شہید اور 2زخمی ہوئے ہیں ایسے واقعات پر سیاست نہیںکرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کو بھی واپس لینا ضروری ہے ۔ اسحاق ڈار ، حسین اورحسن نواز بھی پاکستان کے برطانیہ کو دئیے ہوئے تحفے ہیں جو ہم ان سے واپس چاہتے ہیں تاکہ ہم اپنی تفتیش شروع کرسکیں ۔ نیب نے ایک فرنٹ مین سے ایک ارب ریکور کرلیا ہے باقیوں سے بھی ریکوریاں شروع ہو جائیں گی جو اربوں روپے کی ہیں اگر یہ پیسے واپس کردیں تو گیس، بجلی کبھی مہنگی نہیں ہوگی۔ ایم کیو ایم اور ہم دو مختلف جماعتیں ہیں ان کا اپنا موقف ہے اور ہمارا اپنا موقف ہے ہم فیڈرل پارٹی ہیں وہ شہری علاقوں کی جماعت ہے ۔

Scroll To Top