کے پی کے:وزیر اعلیٰ کی ضم شدہ اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی فوری ترسیل کی ہدایت

  • ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو کیٹیگری اے ہسپتالوں کا درجہ دینے کے منصوبے سے اتفاق، ڈاکٹرز کی تعیناتی کا شفاف طریقہ کار وضع کرنے کا حکم
  • متعلقہ حکام کو صوبے بھر کے ہسپتالوں میں مریضوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت

پشاور(این این آئی) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی تیز رفتار تقسیم کی ضرورت پر زور دیا ہے اور انصاف کارڈ کے تحت عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے، انہوں نے بنیادی مراکز صحت کو جامع ہیلتھ یونٹس میں تبدیل کرنے کے منصوبے سے اتفاق کیا ہے اور پہلے مرحلے میں 200 بنیادی مراکز صحت کی جامع ہیلتھ یونٹس تک اپ گریڈیشن کا مکمل پلان بمعہ ٹائم لائن پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے پانچ سالہ پروگرام کے تحت ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کو کیٹیگری اے ہسپتالوں کا درجہ دینے کے پلان سے بھی اصولی اتفاق کیا ہے ۔انہوں نے ہیومین ریسورس مینجمنٹ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ڈومیسائل ، تخصص اور سپاﺅز پالیسی کی بنیاد پر ڈاکٹرز کی تعیناتی کا طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی موجودگی ضروری ہے ، اس کے بغیر کوئی ہسپتال نہیں چل سکتا ، ضلعی سطح پر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے بڑے ہسپتالوں پر بوجھ بڑھتا ہے ، مریضوں کو تکلیف ہوتی ہے اور مجموعی طور پر طبی سہولیات کی فراہمی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ صحت اور تعلیم اہم ترین شعبے ہیں، یہ عوام کی زندگی اور مستقبل کا معاملہ ہے جسے سیاست یا ذاتی مفادات کی نذر نہیں ہونے دینگے۔ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ سکل لیب کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت جبکہ دیگر مختصر المدتی ، وسط مدتی اور طویل المدتی منصوبوں کو ٹائم لائن کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ خود ٹائم لائن کی نگرانی کریں گے ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ صحت کی کارکردگی ، حاصل کئے گئے اہداف اور مستقبل کی ترجیحات کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیر صحت ہشام انعام اللہ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اور صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر، چیف سیکرٹری سلیم خان ، سیکرٹری صحت ڈاکٹر فاروق جمیل ، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو صحت پالیسی ، گورننس و احتساب ، سوشل ہیلتھ پروٹیکشن ، ہیومین ریسورس مینجمنٹ، ہیلتھ کئیر ڈیلیوری سسٹم ، انسداد پولیو، ترقیاتی سکیموں اور دیگر امور میں محکمہ کی گذشتہ8 ماہ کے دوران کارکردگی اور اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ 8 ماہ کے دوران ناگزیر نوعیت کے متعدد اقدامات مکمل کئے گئے ہیں جو شعبہ صحت کی کارکردگی پر براہ راست مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں ،صوبے کی پہلی صحت پالیسی تشکیل دی گئی ہے ، شعبہ صحت میں سٹرٹیجک پلان 2019-25 تیار کیا گیا ہے جو صحت پالیسی پر عمل درآمد کیلئے حکمت عملیاں فراہم کرتاہے۔ ہیلتھ کئیر کمیشن اور ایم ٹی آئز کیلئے بورڈز آف گورنر تشکیل دیئے گئے ہیں، خیبرپختونخوا ریجنل اینڈ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی بل 2019 صوبائی کابینہ سے منظور ہوچکا ہے جو جلد صوبائی اسمبلی کے سامنے پیش کیا جائے گا ، خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈاتھارٹی کے ترمیمی بل کی محکمہ قانون سے جانچ پرکھ ہوچکی ہے، سوشل ہیلتھ پروٹیکشن کے تحت 611,159,451 روپے کی لاگت سے 25610 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے ، صحت انصاف کارڈ کو نئے اضلاع تک توسیع دی گئی ہے ،باجوڑ اور مہمندمیں انصاف کارڈز کی تقسیم فل فلیج شروع ہے، دیگر اضلاع میں بھی کارڈز کی تقسیم کیلئے انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں۔نئے اضلاع کے ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کو محکمہ صحت میں ضم کر دیا گیا ہے ، آزاد مانیٹرنگ یونٹ کی نئے اضلاع تک توسیع ہوچکی ہے، ڈرگ کنٹرول اور فارمیسی سروسز کی بہتری کیلئے ایک علیحدہ ڈائریکٹریٹ کے قیام کی صوبائی کابینہ سے منظوری ہوچکی ہے ۔صوبے میں پولیو کے خاتمے اور پولیو وائرس کے پھیلنے کو روکنے کیلئے باقاعدگی سے انسداد پولیو مہم جاری ہے ۔ضم شدہ اضلاع کا صوبائی پولیو روک تھام پروگرام میں انضمام مکمل کیا جا چکا ہے ، پشاور کیلئے پولیوایکشن پلان کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔جنوبی اضلاع میں پاپولیشن لنکیج سروے مکمل کیا گیا ہے۔ ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 47 سکیمیں منظور کی گئی ہیں ، شعبہ صحت کے ترقیاتی وسائل کے حوالے سے 18 سمریاں منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو بھیجی گئی ہیں، برن اینڈ ٹراما سنٹر حیات آباد مکمل کیا گیا ہے ۔ گجوخان میڈیکل کالج صوابی کی پی ایم ڈی سی سے تو ثیق کی گئی ہے۔ترقیاتی سکیموں کیلئے جاری شدہ وسائل کا 68 فیصد مارچ تک استعمال کیا جا چکا ہے ، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال میں 520 آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں ۔ علاوہ ازیں صوبے کے ہسپتالوں میں سٹاف کی کمی پوری کرنے کیلئے مزید 1983 آسامیاں تخلیق کی جارہی ہیں۔ 2023 تک صوبہ بھر کے 500 بنیادی مراکز صحت کو جامع ہیلتھ یونٹس میں منتقل کیا جائے گا جن میں چھوٹے نوعیت کے آپریشنز بھی کئے جا سکیں گے ۔ ضلعی سطح پر درجہ دوم کے ٹراما سنٹر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نئے اضلاع میں صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہیں، پاک آرمی کے تعاون سے نئے اضلاع میں ہائبریڈ کمپری ہنسیو ہیلتھ یونٹ قائم کئے جائینگے۔نئے اضلاع کے ڈومیسائل کے حامل افراد کو بھرتیوں کے عمل میں ترجیح دی جائیگی۔طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت صوبے کے تمام ہیڈکوارٹر ز ہسپتالوں کو کیٹیگری اے کا درجہ دیا جائے گا۔ ہر تحصیل کی سطح پر ایک کیٹیگری ڈی ہسپتال یقینی بنایا جائے گا۔ درجہ سی اور ڈی کے ہسپتالوں میں سولرائزیشن / ایکسپریس لائن ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں 24 گھنٹے خدمات کی فراہمی اور مجموعی طور پر ہسپتالوں کی بہتری کیلئے کمزوریاں دور کر کے موجود سہولیات کا کارآمد استعمال ترجیحات میں شامل ہے ۔

Scroll To Top