اب پورا معاشرہ زہر میں بجھے ان تیروں سے چھلنی چھلنی ہے !

جس پولرائزیشن نے 1969ءاور1970ءکی انتخابی مہم کے دوران جنم لیا اس نے پاکستان کے سیاسی کلچر کو دیمک کی طرح چاٹا۔۔۔
اس پولرائزیشن کے چند نعرے مجھے آج بھی یاد ہیں۔۔۔
” بھٹو واہ تے مودودی ٹھاہ “
” سوشلزم جاوے ای جاو ے اسلام آوے ای آوے “
ایک ہی خاندان کے اندر بھٹو کے حامی اور مخالف ایک دوسرے پر بندوقیں تان لیا کرتے تھے۔۔۔
اس پولرائزیشن نے ہمارے اندر قوتِ برداشت اور رواداری کو بالکل ختم کرکے رکھ دیا۔۔۔
اس کے اثرات ہم نے برسہا برس تک بھگتے۔۔۔
اس کے اثرات کے نتیجے میں ہی کچھ لوگ بے نظیر بھٹو کو سچ مچ سکیورٹی رسک اور میاں نوازشریف کو سچ مچ اسلام کا شیدائی سمجھتے تھے۔۔۔
جب عقیدتیں اور نفرتیں اندھی ہوجاتی ہیںتو سچ کا چراغ خود بخود بجھ جاتا ہے۔۔۔
ہم نے1990ءکی دہائی میں اندھی اور بہری عقیدتوں اور نفرتوں کا کھیل مسلسل کھیلا جاتا دیکھا۔۔۔
اب پھر ویسی ہی اندھی اور بہری عقیدتیں اور نفرتیں اپنی تمام تر وحشت ناکیوں سمیت جنم لے رہی ہیں۔۔۔ فرق صرف یہ ہے کہ تب بھٹو کا نام پولرائزیشن کا محور تھا۔۔۔ آج بھٹو کی جگہ عمران خان کا نام لے چکا ہے۔۔۔
اس پولرائزیشن کو آتش فشاں بنانے کے لئے مریم نوازشریف نے پروپیگنڈہ کرنے والا ایک لشکر تیار کیا۔۔۔
عمران خان کے حامی بھی پیچھے رہنے والے نہیں تھے ۔۔۔ لفظ ¾ لفظ نہ رہے ¾ زہر میں بجھے ہوئے تیر بن گئے ۔
اب پورا معاشرہ زہر میں بجھے ہوئے اِن تیروں سے چھلنی چھلنی ہے۔۔۔

Scroll To Top