سسلےن مافےاز کا مکروہ دھندہ اور ہتھکنڈہ

  • جرم کرو اور اعلیٰ انسانی، آئےنی اور جمہوری اقدار کے پےچھے جا چھپو

سسلےن مافےاز
جی ہاں ےہی کہا گےا تھا عدل انصاف کے بلند ترےن مقام ومنصب سے!
بہت ماتھے ٹھنکے تھے، شکن آلودگی دےکھی گی تھی، چےن بجبےن ہونے والے بھی کم نہ تھے اور ماتم زئی وپٹ سےاپا بھی خوب ہوا تھا۔
پارسائی فروشوں کے لئے آب کبھی اےسی دھنائی ہوئی ہوگی ۔ اور پھر وہی ہوا جو اےسے مافےاز وائٹ کالر کرائمز کے سلسلے مےں کرتے آئے ہےں ۔
ہر گناہ ، ہر جرم کو جمہورےت ، انسانی حقوق، اور آئےن اور قانون کے پےچھے چھپا دےنے کی ناکام کوشش، عقےدے ، صحافت اور نمائش بےنوں کے ذرےعے احتساب کے نام پر انتقام کا وادےلا اور پٹ سےاپا۔ کس نے سچ کہا اس صدی کے آغاز مےں جاتی عمرہ والے ناشرےفوں نے کرپشن کا دھندہ پکڑا، اپنے اقتدار واختےار کو مےگا پروجےکٹس مےں مےگا رشوت ستانی کا ذرےعہ بناےا اور قومی دولت کو دونوں ہاتھوں بلکہ دونوں پےروں سے بھی خوب لوٹا” رل کے کھاﺅ ، رج کے کھاڑ“ کا مےکانزم انہی دنوں کی اےجاد بنا۔
اس ضمن مےں اےک کلاسےکل مثال ملا فضلو کا کردار ہے جس کا ہتھےار پارلےمانی اداروں مےں حاصل شدہ چند سےٹےں اور ملکی مدرسوں کے چند سو ےا ہزار طلبا ہےں جنہےں بوقت ضرورت ”ملےن مارچ“ کے لئے استعمال کےا جاسکتا ہے۔ (ےاد رہے کم علم ملا کو علم ہی نہےں کہ ملےن مارچ دراصل دس لاکھ مظاہرےن کے احتجاجی مظاہرے کو کہا جاتا ہے۔ بے نظےر نے اپنے دور حکومت مےں اس شخص کو پہلے پارلےمانی کمےٹی برائے خارجہ امور کا سربراہ بناےا پھر اسے کشمےر کمےٹی کا چےئرمےن بنا کر مٹھی مےں رکھا گےا۔ ےہی وطےرہ زرداری اور پھر نواز شرےف نے اختےار کئے رکھا۔ خدا جھوٹ نہ لکھوائے بلا خوف تردےد کہا جاسکتا ہے ان منصبوں پر فائز رہتے ہوئے ملا فضلو نے جو کروڑوں روپے کی تنخواہےں اور دےگر مالی فوائد حاصل کئے اس کے بدلے مےں موصوف نے خارجہ امور ےا کشمےر کا ز کے لئے دھےلے کا کام نہےں کےا۔ عوام مےں تو اب ےہ مطالبہ مےں گردش کر رہا کہ پی پی پی اور نون لےگ والوں سے عدالتی چارہ جوئی کے ذرےعے وہ تمام رقوم واپس لی جائےں جو ملا فضلو کو پچھلے تےرہ سال تک دونوں پارلےمانی کمےٹےوں کی سربراہی کے دوران دی گئےں ۔ ملا فضلو کے علاوہ کے پی کے کا اسفندر ےار والی اور بلوچستان کے بعض برخود غلط سےاسی عناصر بھی بکاﺅ مال بن کر نوازوزرداری کے گماشتے بنے رہے۔ اس شخص کی بھارت پرستی کے سبب سے پاکستان آج تک کالاباغ ڈےم کی تعمےر مےں کامےاب نہ ہوسکا۔ نتےجہ ملک شدےد آبی کمی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ آبی وسائل کے قرےب قرےب ، قحط کے علاوہ نواز زرداری اسفند ےار گٹھ جوڑ کے نتےجے مےں صوبہ سرحد اور بطور خاص صوبہ بلوچستان دہشت گردی کے نشانے پر چلا آرہا ہے۔ اسی ہفتے پاکستان کے اس وسےع ترےن صوبے کے مقام پر ہزار گنجی مےں اےک مخصوص نسلی آبادی کو دہشت گردی کے نشانے پر لےا گےا جس کے نتےجے مےں معصوم جانےں خون مےں نہا گئےں جبکہ زےادہ بے گناہ شہری شدےد زخمی ہوئے ۔ نواز زرداری گٹھ جوڑ سسلےن مافےاز کے طرز واردات کے مطابق بظاہر مخالفت کے باوجود اندر خانے اےک دوسرے کی کاز کی بھرپور حمائت کرتے ہےں۔ مثلاً جب سے عمران خان اقتدار واختےار کی مسند پر مربجان ہوئے ہےں اور انہوں نے ملک مےںکرپشن کے خلاف ابھی فقط اےک نفسےاتی فضا ہی قائم کی ہے۔ زرداری اور نواز شرےف کے خلاف اپنے تےئس کوئی مقدمہ قائم نہےں کےا، نےب کے ڈھانچے مےں بھی کوئی تبدےلی نہےں کی۔ بلکہ حقےقت ےہ ہے کہ نواز ہو ےا زرداری ان کے خلاف خود مختار احتسابی ادارے نےب، جس کی تشکےل اور سربراہی کے منصب پر موجود ہ چےئرمےن تک سابقہ ادوار ہی کی مرہےن منت ہے، اور اس پر مستزاد ان دونوں سابقہ حکمرانوں کے خلاف جاری لےگ مقدمات انہی دونوں حکمرانوں نے اےک دوسرے کے خلاف قائم کر رکھے ہےں۔ مگر اس کے باوجود ان دونوں کی مکاری ، چالاکی اور عےاری کا ےہ عالم ہے کہ ےہ خود اور ان کے ہر رنگ ڈھنگ اور انگ سنگ کے سےاسی گماشتے اور صحافتی لفافےے منشی نےم اےک ہی راگ الاپنے مےں جتے ہوئے ہےں کہ عمران خان ان کے خلاف احتساب نہےں انتقام لے رہا ہے۔ اور ستم ظرےفی تو ےہ ہے کہ آج بھی عام اور سادہ لوہے ووٹروں کی اےک قابل لحاظ مقدار ان کے سفےد جھوٹ پر ےقےن کر رہی ہے۔ مےں خود اےسے کئی مظاہرےن کو جانتا ہوں جو زرداری اور نواز کی نےب اور دےگر عدالتی پےشےوں پر ان کے حق مےں پٹ سےاپا گروپ کا حصہ بن کر احتجاجی ناٹک مےں شرےک ہوتے ہےں۔ اور اس کے عوض انہےں چار پانچ سو روپے کی دہاڑی مزدوری اور قسمت ےاوری کرے تو اےک ڈبہ برےانی مےسر آجاتی ہے۔
اب تازہ ترےن واردات کا احوال پڑھئے۔ شوباز اور اس کے بےٹے حمزہ نے اپنی لوٹ کھسوٹ کی بھاری بھرکم رقوم زرداری کی طرح غرےب مطہر زےمن ےا چھاپڑی فروشوں نام پر ےا پھر اپنی بےوےوں اور بہنوں کے بنک کھاتوں مےں جمع کرارکھی ہےں ےا ان کے ناموں پر منی لانڈرنگ کے جرائم کا ارتکاب کےا جاتا رہا ہے۔ مثلاً پچھلے رقت اےک غرےب پاپڑ والے کے بنک اکاﺅنٹ کے زرےعے اےک کروڑ ڈالر کی منی لانڈرنگ کی گئی اسی طرح حمزہ کی والدہ اور بہنوں کے ناموں پر معاشی جرائم کا ارتکاب کےا گےا۔ اب جب تحقےقات اور احتسابی شکنجہ حکرمت مےں آےا تو کےا زرداری اور کےا نواز نے اپنے اپنے بےنڈ باجوں کے ذرےعے پٹ سےاپا شروع کر دےا کہ عمران خان نے انتقامی کاروائےوں کے ذرےعے مشرقی تہذےب اور چادر اور چار دےواری کا تقدس پامال کر دےا ہے۔ مگر سوال پےدا ہوتا ہے جب ےہ لوگ اپنی محترم گھرےلو خواتےن کے ناموں کو معاشی جرائم کے لئے استعمال کرتے ہےں ان کی نام نہاد مشرقی تہذےب کہاں گھاس چرنے گئی ہوتی ہے۔

Scroll To Top