معاشی عدم استحکام کے ذمہ دار شریف اور زرادری ہیں:شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی داغ بیل ڈالی، فوا د چوہدری

  • اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا طریقہ متعارف کروایا، جعلی اکاﺅنٹس بنائے ان میں رقوم ڈالیں اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھیجیں، پھر ٹی ٹی کے ذریعے شریف فیملی کے چالیس لوگ جن میں دور دراز کے رشتہ اور جاننے والے شامل تھے کے نام پر رقوم واپس بھیجی گئیں
  • آصف زرداری سندھ میں جعلی بینک اکاﺅنٹس نیٹ ورک کے بانی ، بلاول بھٹو کے اخراجات، ایان علی کے ایئر ٹکٹس، بلاول ہاﺅس کا خرچہ اوربختاور بھٹو کی سالگرہ کے اخراجات بھی انہی اکاﺅنٹس سے پورے کے گئے،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فوادچوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میںشریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی داغ بیل رکھی،پیٹی بندبھائی اس سے زیادہ تیز نکلے اور پورا بینک ہی خرید کرسندھ میں ایک نیٹ ورک بنایا گیا، بلاول بھٹو کے اخراجات، ایان علی کے ٹکٹ بلاول ہاﺅس کا خرچہ بھی انہی اکاﺅنٹس سے جاتا رہا ۔بختاور بھٹو کی سالگرہ کا خرچہ بھی انہی اکاﺅنٹس سے گیا، اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا طریقہ متعارف کروایا، جعلی اکاﺅنٹس بنائے ان میں پیسے ڈالے گئے یہ پیسے حوالہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھیجے گئے، 2000 میں مجسٹریٹ کے سامنے اسحاق دار اعتراف جرم کرچکے ہیںمہنگائی اور معاشی عدم استحکام کے ذمہ دار شریف خاندان اور آصف زرادری ہیں ۔اتوارکووزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوادچوہدری نے کہا کہ 1947ءسے 2008ءتک ملک کا کل قرض37 ارب ڈالر تھا۔ 2008ءسے 2018ءتک یہ قرضہ 97 ارب ڈالر تک چلا گیا۔ 10 سالوں میں 60 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ۔اس سارے عرصے میں پاکستان پر دو خاندان شریف خاندان اور زرداری خاندان حکمران رہے۔ 1985ءمیں نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب اور 1990ءمیں وزیر اعظم بنے۔ اس کے بعد شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے ۔ایک سوچ بنی کہ کسی طرح زیادہ سے زیادہ سرکاری پیسے کو ہڑپ کیا جائے ۔شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی داغ بیل رکھی۔ 1990ءکے شروع میں شریف خاندان کے پاس بے بہا پیسہ اکٹھا ہو گیا ۔اگلی سوچ یہ پیدا ہوئی کہ کسی طریقے سے ہم اس پیسے کو وائٹ منی کے طورپر ہر جگہ استعمال کر سکیں۔ لہٰذا 1992ءمیں معاشی اصلاحاتی ایکٹ 1992ءلایا گیا۔اس میں بظاہر بڑی معصوم سی خفیہ شق رکھی گئی کہ اگر آپ کا پیسہ باہر آ رہا ہے تو ملک میں پاکستانی حکام یہ پوچھنے کے مجاز نہیں ہوں گے کہ آپ کے پیسے کے ذرائع کیا ہیں۔ 1996-97-98ءمیں اتھارٹی نے نوٹ کیا کہ بڑی خفیہ ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔ اس کے پیچھے حدیبیہ پیپر کمپنی ہے۔ اس کمپنی کی کل لاگت تقریبا ساڑھے نو کروڑ روپے تھی۔ اس میں اچانک 81 کروڑ روپے کا زر مبادلہ آ گیا ۔جس پر متعلقہ حکام چونک گئے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے لہذا اس پر تحقیقات کا آغاز ہوا جس میں پتہ چلا کہ حدیبیہ پیپر مل کے مالک میاں محمد شریف ہیں۔ نوازشریف کی والدہ شمیم اختر اس کی ڈائریکٹر میاں عباس شریف مریم صفدر صبیحہ عباس حسین نواز اور حمزہ شہباز شریف اس کمپنی کے بینیفشریز تھے۔ بعد میں پتہ چلا کہ اکنامک ہٹ مین اسحاق ڈار کو ہائیر کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا طریقہ متعارف کروایا۔انہوں نے جعلی اکاﺅنٹس بنائے ان میں پیسے ڈالے گئے یہ پیسے حوالہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھیجے گئے۔ مستا خان اور خستا خان نامی حوالہ ڈیلروں کو استعمال کیا گیا اور دیگر بہت سے ذرائع بھی استعمال کیے گئے ۔پہلے پیسے باہر بھیجے گئے پھر وہاں سے ٹی ٹی لگ کر شریف فیملی کے چالیس لوگ جن میں دور دور کے رشتہ اور جاننے والے تھے ان کے نام پر یہ پیسہ واپس لایا گیا۔اسحاق ڈار نے 2000 میں مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کیا اور تمام تفصیلات بتائیں۔انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی تحقیق جاری نہ رہ سکی۔ شریف خاندان کو این آر او مل گیا اور سعودی عرب چلے گئے ۔بعد کے تمام کرپشن ماڈل میں ان میں بالکل یہی سکیم استعمال کی گئی۔ ہل میٹلز اسٹیبلشمنٹ میں بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا جو حدیبیہ پیپرز مل میں استعمال کیا گیا ۔حسین نواز نے ایک لاکھ 26 ہزار 768 یورو بھیجے۔ انہوں نے کل ایک ارب 16 کروڑ 56 لاکھ روپے نواز شریف کو ٹی ٹی کے ذریعے بھیجا۔اس میں سے نواز شریف نے 82 کروڑ روپے مریم نواز کو دیا اور مریم نواز سے اس رقم سے زرعی زمین خریدی۔ ان کے پیٹی بند بھائی آصف زرداری نے اس سارے معاملے کو ایک نئی جہت دے دی۔انہوں نے پورا بینک ہی خرید لیا ۔سندھ میں ایک نیٹ ورک بنایا گیا جہاں جعلی اکاﺅنٹس بنائے گئے اور ان کے ذریعے فلودے والے مالی گارڈز ڈرائیوروں کو اربوں روپے منتقل کیے گئے۔ ایف آئی اے نے پانچ ہزار اکاﺅنٹس کی تحقیقات کیں پتہ چلا ان سب اکاﺅنٹس کے اوپر 32 اکاﺅنٹس ہیں ۔ان 32 اکاﺅنٹس سے بلاول بھٹو کے اخراجات نکلتے رہے۔ ایان علی کے ٹکٹ بھی انہی اکاﺅنٹس سے ادا ہوتے رہے۔ بلاول ہاﺅس کا خرچہ بھی انہی اکاﺅنٹس سے جاتا تھا ۔بختاور بھٹو کی سالگرہ کا خرچہ بھی انہی اکاﺅنٹس سے جاتا تھا۔انہوں نے ایک پورا نیٹ ورک بنایا ۔جعلی اکاﺅنٹس سے پیسے ٹھیکیداروں سے آتے تھے۔ بہت سے پیسے باہر جاتے اور باہر سے دوبارہ ٹی ٹی لگ کر واپس آتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ آپ ہم سے پوچھ نہیں سکتے۔ فواد چودھری نے کہا کہ کرپشن کیخلاف جنگ لڑنا صرف عمران کی ذمہ داری نہیں، قوم چاہتی ہے اب احتساب کا عمل آگے بڑھنا چاہیے۔ آج جو ملک میں مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے تو اس کی وجہ یہی خاندان ہیں۔فواد چودھری نے کہا کہ دو طرح کے لوگوں نے ان کو پیسے بھیجے، ایک جن کا وجود نہیں، دوسرا جو پیسہ بھجوانے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ شہباز شریف انگلی لہرا کر کہتے تھے کہ ایک روپیہ ثابت ہو گیا تو سیاست چھوڑ دیں گے کیونکہ ان کے پاس اپنا ایک روپیہ بھی نہیں، سارا عوام کا پیسہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 70 کے قریب لوگوں کی شناخت ہوئی جنہوں نے شہباز شریف خاندان کو پیسے بھیجے۔ پنڈدادن خان کے منظور پاپڑ والے نے ایک ملین ڈالر کی ٹی ٹی لگوائی۔ محبوب علی صادق پلازہ کے سامنے ریڑھی لگاتا ہے اس کی 7 لاکھ کی ٹی ٹی لگوائی گئی۔ اس کے علاوہ رفیق نامی شخص کا شناختی کارڈ بھی استعمال ہوا جو کئی سال پہلے مر چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شہباز شریف کے خاندان کے نام پر 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالر منتقل کیے گئے۔ ان کے خاندان کی تقریبا تمام آمدن سووفٹ میسجز سے آ رہی ہے۔ 2018 میں شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات شروع ہوئیں۔ تحقیقات شروع ہونے کے بعد شہباز شریف کی اہلیہ بچوں سمیت اچانک باہر چلی گئیں۔وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری نے سندھ میں جعلی اکانٹس کا نیٹ ورک بنایا۔ مالی، ڈرائیورز اور گارڈز کے نام پر جعلی اکانٹس کے لیے استعمال کیے گئے۔ ایف آئی اے نے تحقیقات سے پانچ ہزار کے قریب جعلی اکانٹس پکڑے۔ ان جعلی اکانٹس کو چلانے کے لیے 32 بڑے اکانٹ بنائے گئے۔ سارے نیٹ ورک میں اومنی گروپ شامل تھا۔ آصف زرداری نے سندھ میں جعلی اکانٹس بنائے اور پی ایس ڈی پی کا سارا پیسہ ان اکانٹ میں استعمال کیا۔

Scroll To Top