تثلیثِ شیطنت

  • ’تاریخ کا سفر پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لے آیا ہے جہاں رہزنوں اور قذاقوں کی لوٹ کھسوٹ، ٹھگی، ٹکے ماری اور نوسربازی کے امکانات ناپید ہوتے جا رہے ہیں، قدرت اپنے قانون مکافات عمل کو بروئے عمل لا چکی ہے۔ جرم اور گناہ کی بڑی علامتیں اور عامل اللہ کی پکڑ میں آ چکے ہیں، اب حق اور باطل کا نتارا ہو کر رہے گا۔ شکست خوردہ عناصر بدحواس جواریوں کی مانند اپنے بچاﺅ کے لئے اندھیرے میں میں ٹامک ٹوئیاں مارہے ہیں اس سلسلے میں بدی کی ایک تون یعنی تثلیث شیطنت بھی معرض وجود میں آ چکی ہے مگر شرمناک شکست اب اس کا نصیبہ ٹھہر چکا ہے‘

کوئی جائے اور بدی کی اس تکون کو سمجھائے، اس ثثلیث شیطنت پر یہ حجت پوری کر دے کہ بس بہت ہو گئی ، ان کا زمانہ لد چکا ہے۔ اب تاریخ کا پہیہ گردش معکوس قبول نہی کرے گا۔
ہاں ہاں زرداری، نواز وچولا فضلو(یہی وہ گھریلو نام تھا یاشاید اب بھی ہو، جو میں نے آج سے نصف صدی پہلے شیرانوالہ گیٹ لاہور کی مسجد کے ایک حجرے میں مولانا مفتی محمود مدظلہ سے اس نوعہ ”کھلنڈرے“ کی بابت سنا تھا جو حالیہ ایام میں سیاس وچولے کی حیثیت سے اور ڈیزل کی ”ال“ لئے اس تثلیث شیطنت کا حصہ بنا ہوا ہے)
پہلے نصف صدی ماضی کے اسی کھلنڈرے فضلو کا ذکر خیر ہو جائے یہ وہ ذات شریف ہیں جنہیں 25جولائی 18ءکے عام انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے اپنے روایتی حلقہ ہائے نیابت سے شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا گو کہ موصوف کی جماعت کے لگ بھگ درجن بھر امیدوار کامیاب ہو گئے جس سے پارلیمانی سودے بازے کیلئے ملا فضلو کی دکانداری قائم رہ گئی۔ البتہ ہارا ہوا جراری چونکہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوچکا تھا اور اس ناطے پچھلے تیرہ برس سے زرداری اور نواز شریف ناشریف کے ادوار میں اور اس سے پہلے بے نظیر حکومت میںبھی پارلیمنٹ کی خارجہ امور اور کشمیر امور کی کمیٹیوں کی چیئرمینی حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا جس کے نتیجے میں اسے اسلام آباد کے منسٹرز انکلیو میں شاندار بنگلہ،گاڑی، پٹرول، ٹیلی فون اور خدمت گاروں کی فوج ظفر موج میسر رہی تھی غیر ملکی دورے اور لمبی چوڑ تنخواہ اور دیگر مراعات ان سب پر سوار
اب مگر حالیہ انتخابی شکست نے ملا فضلو کو ایک ایسی منقبض کیفیت سے دوچار کردیا تھا کہ موصوف پر یہ شعری طنز بھرپور طور پر فٹ بیٹھ گئی تھی۔
بیکار مباش کچھ کیا کر
رومالی ہی پھاڑ کر سیا کر
سو ملافضلو نے اپنی بچی کھچی عزت آبرو(اگر اس کا کبھی کوئی وجود تھاتو) کی رومالی پھاڑنے اور اسے سینے میں ہی اپنی بے روزگاری کا علاج وضع کرلیا۔
ایک چالانک، عیار اور مکار سیاسی کھلاڑی کی حیثیت سے موصوف نے عمران خان جیسے دشمن کے مقابلے میں سب سے پہلے اپنے حلیفوں کی شناخت کی۔ زرداری اور نواز ناشریف ان کے لئے ”بہترین“ مواقع فراہم کر سکتے تھے، دونوں ہی اربوں کی کرپشن کے سبب سے نیب کے احتسابی شکنجے کی پکڑ میں تھے اور ہیں۔ مولانا نے انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لئے ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیئے۔ پہلے اسلام آباد کی طر ف ملین مارچ کے دعوے کی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کی۔ پھر عمران خان کو جعلی، بے نامی اور کسی کا نصب کردہ حکمران قرار دینے کی مہم شروع کی اور آخر میں یہ الٹی میٹم دیا کہ اگر حکمرانوں نے مستقبل قریب میں مہنگائی کے سونامی کا رخ نہ موڑا تو انہیں گھر بھجوانے میں لمحے بھر کی تاخیر نہ کی جائے گی۔ اسی دوران ملا فضلو نے دعویٰ کیا کہ وہ جدید مواصلاتی نظام یعنی سوشل میڈیا کے ذریعے عمران حکومت کو چلتا کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں گے۔
اپنے تئیں اس جنگی اسلحہ خانے کے ساتھ ملا جی نے نواز شریف سے ملنے کی خواہش کی جسے جاتی عمرہ والوں نے چند روز سرد خانے میں ڈال کر ملا وچولے کو اس کی اوقات یاد دلانے کا جتن کیا۔ ملا نے جب اصرار مکرر کیا تو مریم کے باﺅ جی نے کہلوا بھیجا کہ حضور آپ جیل میں تو مجھے ملنے آئے ہی نہیں۔ ملا نے روایتی حیلہ جوئی سے کام لیتے ہوئے ملبہ حکومت پر گرا دیا کہا ”مجھے آپ سے ملنے ہی نہیں دیا گیا“ جاتی عمرہ کے جواب الجواب آیا ”جنہوں نے ملنا تھا وہ تو ہر طرح کے حالات میں ملنے میں کامیاب ہوتے ہی رہے ہیں۔ اس کے بعد چونکہ دونوں طرف کے ستو تمام ہو جاتے تھے لہذا رسمی ملاقات کا موقع بہم کرایا گیا البتہ جاتی عمرہ والوں نے ملا کے ملین مارچ والے غبارے سے یہ کہہ کر ہوا نکال کر دی کہ چھوڑیے حضرت آپ کے مدرسوں میں طلباءکی تعداد چند ہزار سے زیادہ ہے ہی نہیں۔ پھر ملین مارچ کا ڈھکوسلہ کیا ہے۔ اب اندر خانے کی خبر یہ ہے کہ ملا فضلو نے عمران حکومت کو گرانے کے لئے جس ملین مارچ کے لئے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا تھا وہ کروڑوں میں تھا، جسے مریم نے پائے حقارت سے پھاڑ کر برنر میں پھینک دیا اور اپنے باﺅجی کی زبانی ملا فضلو سے کہلوا دیا”حضرت آپ کا جذبہ خیرسگالی لائق تحسین ہے مگر کیا کروں طبیعت اور صحت گراوٹ کا شکار ہے لہذا فی الوقت میں کسی احتجاجی تحریک میں حصہ داری کا وعدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔
جاتی عمرہ سے ٹھینگا سا جواب ملنے کے بعد موصوف زرداری سے ملے۔ زرداری بے شرم سیاست ہے۔ مقتول بیوی کی قبر کی کمائی کھا رہا ہے ۔ بھول گیا کہ یہی ملا بے نظیر کا راستہ کاٹنے کی غرض سے اس وقت کی امریکی سفیر این پیٹرسن کے پاس اس درخواست کے ساتھ پہنچ گیا تھا کہ ایک بار اسے وزارت عظمیٰ کا موقع دلوا دیا جائے پھر دیکھتے ہیں (ملا فضلو) کس وفاداری سے پاکستان میں امریکی مفادات کی نگہبانی کرتا ہوں۔
پنجاب میں اپنے لئے گم گشتہ مقام حاصل کرنے کے لئے چونکہ جاتی عمرہ والے زرداری اور بلاول کو خوش آمدید کہنے کو تیار نہیں سو اس کے لئے اب ملا فضلو کی حمایت میں غنیمت ہے۔
مگر یہ سب کچھ ایک عارضی مرحلہ ہے آنے والے ایام میں جوں جوں زرداری، نواز شریف اور ملا فضلو اور اس کے حواریوں موالیوں کی گردنوں کے گرد احتسابی شکنہ مزید تنگ ہوا تو بدی کی یہ تکون اور شیطنت کی تثلیث ایک بار پھر متحرک ہو جائے گی۔
مگر نہیں کامیابی اس کا نصیبہ نہ ہوگی
کوئی جائے اور اس تثلیث شیطنت پر حجت پوری کر دے کہ آنکھیں کھولو اور جان چکو کہ تاریخ کے پہیے کو اب الٹا نہیں گمایا جا سکتا۔

Scroll To Top