حمزہ شہباز کی نیب میں دو گھنٹے پوچھ گچھ ،تسلی بخش جواب دینے میں ناکام:16اپریل کو دوبارہ طلب

  • 2003ءمیں اثاثے 2کروڑ روپے تھے، اب 41کروڑ روپے سے تجاوز کرگئے، ذرائع آمدن کیا تھے؟‘نیب ٹیم کا سوال
  • ذرائع کے مطابق نیب نے فنانشل مینجمنٹ یونٹ سے اہم ریکارڈ تک دسترس حاصل کرلی، 23ٹرانزیکشنز میں سے 18مبینہ فرنٹ مینوں یا قریبی افراد کے ذریعے کی گئیں

لاہور ( این این آئی) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف و مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما حمزہ شہباز قومی احتساب بیورو (نیب ) لاہور میں پیش ہو گئے ، حمزہ شہباز سے اثاثہ جات سے متعلق پونے دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی ، انہیں 16اپریل کو دوبارہ طلب کر لیا گیا ، لیگی رہنما کی گاڑی نیب آفس کے باہر روک کر انکے سٹاف ساتھ جانے کی اجازت نہ دی گئی ، اظہار یکجہتی کے لئے آئے کارکن نعرے بازی کرتے رہے ۔ بتایا گیا ہے کہ نیب نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو 11 بجے طلب کر رکھا تھا تاہم حمزہ شہباز تقریباً ایک گھنٹہ 20 منٹ تاخیر سے نیب لاہور آفس پہنچے ۔ان کے ہمراہ ذاتی سٹاف بھی موجود تھا جس کے سبب حکام نے حمزہ کو دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ بعد میں سٹاف کو باہر روک کر حمزہ کو دفتر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حمزہ شہباز سے پوچھ گچھ کے دوران نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مختلف سوالات کئے۔ان سے پوچھا گیا کہ 2003ءمیں آپکے اثاثے 2کروڑ روپے تھے، اب 41کروڑ روپے سے تجاوز کرگئے، ذرائع آمدن کیا تھے۔ حمزہ شہباز نے جواب دیا کہ ہمارے بزنس ہیں، مختلف ذرائع آمدنی ہیں۔ جس پر تحقیقاتی ٹیم نے کہا کہ ہم نے بھی یہی پوچھا وہ ذرائع آمدنی بتائے جائیں۔اس کے جواب میں حمزہ شہباز نے ٹیم کو کچھ دستاویزات فراہم کیں۔نیب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سوال کیا کہ آپکے زیادہ تر اثاثے اس وقت بنے جب آپ کے والد پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے؟ ۔جس پر حمزہ نے کہا کہ ہمارے بزنس کا کسی سیاسی عہدوں سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے اپنے بزنس کو سیاست سے الگ رکھا۔ نیب ٹیم نے سوال کیا کہ بتایا جائے فضل داد سے کیا تعلق ہے جس پر حمزہ شہا زنے جواب دیا کہ فضل دادا عباسی ہمارا ملازم رہا ہے۔حمزہ شہباز نے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مالی معاملات سلمان شہباز دیکھتے ہیں، میں صرف سیاسی معاملات دیکھتاہوں۔حمزہ شہباز تقریباً پونے دو گھنٹے نیب کے زیر تفتیش رہنے کے بعد واپس روانہ ہو گئے تاہم انہیں نماز کا وقفہ ملا ۔اظہار یکجہتی کے لئے آئے لیگی کارکن نیب آفس کے باہر حمزہ شہباز کے حق میں بھرپور انداز میں نعرے بازی کرتے رہے ۔ ترجمان عطاءتارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو جب حمزہ شہباز نے بلایا وہ پیش ہوئے، حمزہ شہباز نے تینوں کیسوں میں ضمانت کروالی ہے، اللہ تعالی سے ہمیں اچھی امید ہے، اللہ خیر کرے گا۔میڈیا رپورٹس میں نیب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حمزہ شہباز سوالوں کا تسلی بخش جواب نہ سکے جس پر انہیں 16اپریل کو دوبارہ نیب میں طلب کر لیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ 10 اپریل کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں حمزہ شہباز کو طلب کیا تھالیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں 12 اپریل کو دوبارہ طلب کرلیا تھا۔خیال رہے کہ رمضان شوگرملزاورصاف پانی کیس میں گرفتاری کے خوف سے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز لاہور ہائی کورٹ پہنچے ، جہاں عدالت نے سترہ اپریل تک عبوری ضمانت حاصل کرلی تھی۔اس سے قبل احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز کیس میں نامزد سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم دونوں نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔واضح رہے کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے دو بار حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا تاہم نیب انھیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی تھی۔نیب نے اعلامیے میں کہا تھا کہ نیب لاہور کی ٹیم حمزہ شہباز کی آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر گرفتاری کے لیے گئی تھی تاہم حمزہ شہباز کے گارڈز کی جانب سے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا گیا جبکہ حمزہ شہباز کے محافظوں نےنیب اہلکاروں کو دھمکیاں دی۔بعد ازاں لاہور ہائی کوٹ نے حمزہ شہباز کی 10 دن کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی تھی اور اور نیب سے تفصیلی جواب طلب کرلیا تھا۔

Scroll To Top