پارٹی میں کوئی جھگڑا نہیں،حکومت وزیر اعظم کے فیصلوں پر چلتی ہے، فواد چوہدری

  • ن لیگ سکڑ کر صرف وسطیٰ پنجاب تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، نواز شریف اور شہباز شریف کا کوئی مستقبل نہیں
  • آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے سوال میرے قد سے اوپر کی بات ہے،یہ سوال وزیر اعظم سے پوچھا جائے ، نجی ٹی وی کو انٹرویو

اسلام آباد (صباح نیوز)وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پارٹی میں کوئی جھگڑا نہیں،حکومت وزیر اعظم کے فیصلوں پر چلتی ہے ،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے سوال میرے قد سے اوپر کی باتیں ہیں،یہ سوال وزیر اعظم سے پوچھا جائے ۔ان خیالات کا اظہار فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کوئی جھگڑا نہیں ، مختلف آراءہو سکتی ہیں تاہم حکومت وزیر اعظم عمران خان کے فیصلوں پر چلتی ہے۔ جہانگیر ترین کا ہمیشہ سے اپنا ایک مﺅقف رہا ہے اور شاہ محمود قریشی کا اپنا مﺅقف رہا ہے دونوں اپنا نقطہ نظر وزیر اعظم کے سامنے رکھیں گے اور جس نقطہ نظر سے وزیر اعظم اتفاق کریں گے وہی پارٹی کا نقطہ نظر ہو گا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالہ سے سوال میرے قد سے اوپر کی باتیں ہیں ، یہ سوال وزیر اعظم عمران خان سے پوچھا جائے، اگر اپوزیشن کا اتحاد ہو بھی جائے تو اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ پی پی پی اور (ن) لیگ بطور وفاقی پارٹیاں برقرار رہیں اور ان کی سیاست باقی رہے مگر ان پارٹیوں کی قیادت نے پارٹیوں کو ہائی جیک کر لیا ہے اور پارٹیوں میں کوئی لوگ ہی نہیں جو ان کو چیلنج کر سکیں، ا الطاف حسین کی ایم کیو ایم ختم ہو گئی ، اب تو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور بیرسٹر فروغ نسیم کی ایم کیو ایم ہے اس کے ساتھ تو کسی کا کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے ۔ حمزہ شہباز شریف کی ضمانت ہو گئی ، اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں ۔ سانحہ ساہیوال میں ملوث پانچ افراد جیل میں ہیں اور ان پر قتل کا مقدمہ درج ہے ، کیا ان کو ابھی پھانسی دے دیں ، ابھی کیس چلنا ہے اور تحقیقات مکمل ہونی ہیں، یہ تو انتہاپسندی ہے کہ کہا جائے کہ تحقیقات کئے بغیر ان پانچ افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ پانچ پولیس افسران جن پر الزام ہے کہ انہوں نے قتل کیا ہے وہ قتل کے الزام میں جیل میں ہیںکیا ہم ان کو فائرنگ اسکواڈ کے آگے لگا دیں، کیا ٹرائل اور تحقیقات نہیں ہونی چاہئیں ، ملزمان پر فرد جرم عدالتوں نے عائد کرنی ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کا کوئی مستقبل نہیں، پاکستان کے لوگوں نے اس کا فیصلہ کر دیا ہے اور عدالتوں نے اس پر مہریں لگائی ہیں، (ن) لیگ پورے پاکستان سے سکڑ کر وسطیٰ پنجاب میں رہ گئی ہے ۔ ا نہوں نے کہا کہ لطاف حسین تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، الطاف حسین کا جو دہشت گرد نیٹ ورک تھا وہ ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیچھے جو لوگ رہ گئے ہیں یا جو لوگ اس نیٹ ورک کا حصہ نہیں تھے وہ اگر مین اسٹریم ہوتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر بات چیت جاری ہے اور وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومتی تجاویز دی ہوئی ہیں اور وہی اس حوالہ سے میڈیا کو بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی گاڑی کا انجن بیٹھ گیا ہے اور یہ گاڑی مولانا فضل الرحمان کا وزن نہیں سہار سکتی اب چاہے اس میںڈیزل ڈالیں یا پیٹرول ڈالیں اس نے چلنا نہیں ہے، یہ گاڑی وہیں کھڑی رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اس لئے شور شرابا کر رہی ہے کہ ان کا احتساب نہ ہو تاہم ان کا احتساب ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2015سے آصف علی زرداری اور 2016سے نواز شریف کے خلاف کیس شروع ہوئے ہیں، میں کیسز کے فیصلہ کی کوئی ڈیڈ لائن دینے میں یقین نہیں رکتھا تاہم پراسیس تیزی سے چل رہے ہیں اور ہم صحیح سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں مختلف سوچ ہوتی ہے، پارٹی میں کوئی جھگڑا نہیں ، مختلف آراءہو سکتی ہیں تاہم حکومت وزیر اعظم عمران خان کے فیصلوں پر چلتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کے حوالہ سے حتمی فیصلہ وزیر اعظم کرتے ہیں اور سب اس فیصلہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈالر اس لئے مہنگا ہو رہا ہے کہ ہماری برآمدات اور درآمدات میں بہت زیادہ فرق ہے، ہم معیشت کو بہتر بنانے کے لئے بنیادی فیصلے کر رہے ہیں، ماضی کے مقابلہ میں حکومت کم قرضے لے رہی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال قرضے لینے کے حوالہ سے نمایاں کمی آئی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید جاجوہ ایک زبردست آرمی چیف ہیں جس طرح آرمی چیف نے پلوامہ واقعہ پر پاکستان کو لیڈ کیا اس حوالہ سے میرا بڑا احترام ہے ان کے لئے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالہ سے میراتاثر یہی ہے کہ وہ بڑے شاندار آدمی ہیں ۔جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن دی جائے گی یا نہیں یہ میرے قد سے اوپر کی بات ہے

Scroll To Top