بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو جواب پہلے جیسا ہی ملے گا،پاکستان

  • پاکستان دوحہ میں امریکا، طالبان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا،عالمی برادری کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے
  • پلوامہ واقعہ پر آٹھ سوالات کے جوابات نہ دینے پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب،سوالنامہ بھی تھما دیا گیا،ڈاکٹر محمد فیصل

اسلام آباد(صباح نیوز)ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل نے کہا ہے کہ پاکستان دوحہ میں امریکا طالبان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہناہے کہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے، حریت رہنماﺅں سمیت کشمیریوں پر بھارتی تشدد کی مذمت کرتے ہیں، عالمی برادری کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے۔ پلوامہ واقعے پر بھارتی ہائی کمیشن کو مزید سوالات کا ایک سیٹ دیا گیا ہے، امید ہے بھارت واقعے سے متعلق ان سوالات کا جلد جواب دے گا، بھارتی حملے کی ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹ تھی، اسی لیے وزیرخارجہ نے اس کا ذکر کیا۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے لیکن ان مذاکرات کو پاکستان کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے، پاکستان کشیدگی نہیں چاہتا لیکن جارحیت کا جواب ضرور دیا جائے گا، بھارت نے اگر ہمارے عزم کو چیلنج کیا تو جواب وہی ہو گا جو 27فروری کو تھا۔ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا تھا کہ انٹرا افغان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ماسکو میں ہو رہا ہے، پاکستان افغان مفاہمتی عمل کا حامی ہے، پاکستان مستقبل میں بھی مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا، لیکن پاکستان قطر کے دارالحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوگا۔ دریں اثناءپلواما حملے پر بھارتی ڈوزیئرکے معاملہ پر پاکستان نے بھارت سے مزید سوالات کے جواب مانگ لئے ۔ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو ملاقات کےلئے بلاکر وزارت خارجہ کے ڈی جی برائے جنوبی ایشیا ڈاکٹر فیصل نے سوالنامہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کے حوالے کیا۔دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایک سوالنامہ بھارت کے حوالے کیا ہے جس میں آٹھ کے قریب سوالات کے جواب طلب کئے گئے ہیں، بھارت سے پوچھا گیا کہ اس نے اب تک پاکستان کی تحقیقات کے بعد پوچھی گئی مزید معلومات کا جواب کیوں نہیں دیا، اس کے علاوہ بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ کالعدم جیش محمد کے مبینہ ترجمان محمد حسن کے بارے میں معلومات فراہم کرے کہ وہ کون ہے، اس کی مکمل معلومات پاکستان کو فراہم کی جائیں، پاکستان نے کالعدم جیش کے مبینہ ترجمان کے فون کے سم کارڈ کا بھی مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے کہ یہ سم کارڈ کس فون میں استعمال کیا گیا، کس نمبر پر استعمال کیا گیا، اس کا آئی پی ایڈریس کیا ہے، اس پر کہاں کہاں واٹس ایپ کال کی گئیں، یہ کالز کن نمبروں پر کی گئیں، سم کارڈز کا ڈیٹا بھی فراہم کرنے کو کہا گیا ، پاکستان کی طرف سے ایک بار پھر بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ قابل عمل ثبوت اور شواہد فراہم کرے پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کیا جائےگا۔

Scroll To Top