ضم شدہ اضلاع کے عوام کو فوری ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمود خان

  • وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ضم شدہ اضلاع کیلئے ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات کو ٹائم لائن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کردی
  • نئے اضلاع کیلئے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی، وزیراعلیٰ خیبرپختونوا کا ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے اجلاس سے خطاب

پشاور(الاخبار نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ضم شدہ اضلاع کیلئے فوری اثرات کے حامل ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات کو ٹائم لائن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بعض منصوبوں کیلئے درکار سمریز /پی سی ون کی منظوری ، آلات کی خریداری اور دیگر ضروریات تیز رفتاری سے پوری کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ضم شدہ اضلاع میں منصوبوں کیلئے درکار وسائل بروقت جاری کئے جائیں تاکہ منصوبے تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو تیزرفتار ریلیف دینا حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، نئے اضلاع کی ترقی اور اصلاحات کا مجموعی عمل غیر معمولی توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ تمام شعبے نئے اضلاع میں جاری اقدامات پر پیش رفت یقینی بنائیں اور متفقہ نظام الاوقات کے اندر انکی تکمیل ممکن بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاو¿س پشاور میں ضم شدہ اضلاع کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی ، وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اور صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ضم شدہ اضلاع کیلئے فوری اثرات کے حامل مختلف اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی محکمے ضم شدہ اضلاع کیلئے اقدامات کی تکمیل کیلئے جب اپنی مرضی سے ایک ٹائم لائن پر اتفاق کر لیتے ہیں تو پھر اس پر عمل درآمد بھی یقینی ہونا چاہئیے، ہر محکمہ اپنے شعبے میں اقدامات کی بروقت تکمیل کا ذمہ دار ہے ، صوبائی حکومت نئے اضلاع کیلئے منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر برداشت نہیں کرے گی۔ اجلاس میں شعبہ صحت میں جاری اقدامات کا خصوصی طور پر جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے ہسپتالوں میں صوبے میں پہلے سے موجود آزاد مانیٹرنگ یونٹ کے ذریعے مانیٹرنگ کا عمل شروع ہے تاہم آئی ایم یو کے مستقل سٹاف کیلئے پی سی ون پیش کر دیا گیا ہے۔ 30مئی 2019تک ضم شدہ اضلاع میں آئی ایم یو کے مستقل سٹاف کی تعیناتی کا کام مکمل کر لیا جائیگا۔وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع میں ٹیلی میڈیسن کی سہولیات کی فراہمی کا پائلٹ پراجیکٹ فوری طورپر شروع کرنے اور 15جون 2019 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی، پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی اور اثرات کو دیکھتے ہوئے اسے دیگر علاقوں تک توسیع دی جائیگی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کے سات ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں کیلئے سٹاف کی فراہمی رواں ماہ کی 30تاریخ تک مکمل کی جائیگی، مقامی سطح پر دستیاب آلات کی خریداری 30مئی تک جبکہ امپورٹڈ آلات کی خریداری 30جون 2019تک مکمل کی جائیگی۔ ضم شدہ اضلاع کے ابتدائی و ثانوی تعلیمی اداروں میں خالی آسامیوں پر بھرتی پر کام شروع ہے جو 30جون تک مکمل کرلیا جائیگا۔ پہلے مرحلے میں 2364آسامیوں پر بھرتی کی جارہی ہے۔ اجلاس میں ضم شدہ اضلاع کے 25سب ڈویڑنز میں سپورٹس گراو¿نڈز کی تعمیر و بحالی پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے پہلے سے موجود 19سپورٹس گراو¿نڈز کی بحالی پر کام شروع کرنے اور اس کی تکمیل کیلئے ٹائم لائن کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں انہوں نے چھ نئے سپورٹس گراو¿نڈز کا سنگ بنیاد بھی 15مئی تک یقینی بنانے اور دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع میں ایک ارب روپے کی لاگت سے انصاف روزگار سکیم کے تحت بلا سود مائیکرو فنانس سکیم پر فوری عمل درآمد کیلئے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کیلئے محکمہ خزانہ ، صنعت اور دیگر متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کیا ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضم شدہ اضلاع میں 16میونسپل کارپوریشن کو فعال بنانے پر بھی کام شروع ہے۔ پچاس کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے آلات اور گاڑیاں خریدی جارہی ہے، پچیس گاڑیوں پر مشتمل پہلا بیچ30 جون تک جبکہ باقی گاڑیاں اگست کے وسط تک فراہم کی جائیگی۔ میونسپل کارپوریشن کیلئے آسامیوں پر بھرتی کا عمل بھی جون 2019کے آخر تک مکمل کر لیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کے پبلک مقامات ، کمرشل/سٹی سنٹرز اور 300مساجد کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا کام بھی دسمبر 2019تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں مختلف ہسپتالوں کی سولرائزیشن اکتوبر 2019تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔وزیراعلیٰ نے ضم شدہ اضلاع کیلئے پولیس کی بھرتی کے سلسلے میں انسپکٹر جنرل پولیس کو ہوم ورک مکمل کرنے اور آئندہ ہفتے ایک علیحدہ اجلاس کی ہدایت کی جس میں پولیس میں بھرتی کیلئے نئے اضلاع کے لوگوں کیلئے خصوصی رعایت کا حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔

Scroll To Top