لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

  • بدی، برائی اور شیطنت کی قوتیں خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے کی حماقت میں ضد، ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی روش پر چلتے ہوئے آخری تجزیے میں اپنے لئے مکمل تباہی کے انجام کا انتخاب کرلیتی ہیں، پاکستان کی صورت حال بھی مختلف نہیں، مگر تابہ کے۔ قانون مکافات عمل کا طبل بج چکا ہے اور وہ دن دور نہیں جب عہد عمرانی ہی ملک میں انقلابی تبدیلی کا نقیب بنے گا

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل پہ لکھا ہے ۔
جب ظلم وستم سے کوہ گراں
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑ کے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفامردودحرم
مسند پہ بٹھائے جائیںگے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
جناب فیض احمد فیض
ہمارے ملک کے ممتاز ادیب ،دانشور ، اخبارنویس اور شاعر گزرے ہیں زندگی اور اس سے جڑے مقامی یا بین الاقوامی معاملات اور حقائق بابت ان کے فکر و فلسفہ سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر ظلم و ستم اور جبر وقہرکے خلاف ان کے جذبہ مزاحمت پر کوئی دو آرا نہیں ۔زیر حوالہ اشعار کے ذریعے جناب فیض احمد فیض نے اپنی شعری تبرکات کے ذریعے ایک معین مفہوم ہی ملک میں طویل عرصے سے جاری استیصالی اور استحصالی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے عوام کے اند ر اس ظلم کے خلاف جذبہ مزاحمت لو پروان چڑھاتے ہوئے آخر کو اس قانون قدرت کی تصویر کشی کی ہے جس کے تحت ظلم وستم اور جبر وقہر کے ہر نظام کو شکستہ پائی سے دوچار ہونا ہوتا ہے اور اس کی جگہ ایک عادلانہ رفاہی نظام کی نوید سنائی ہے جس میں ہر نوع کا ظلم اپنے انجام کو پہنچے گا اور ارض خدا پر خدا کے عادلانہ نظام ڈنکا بجے گا ۔
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
پاکستانی تناظر میں اگر ہم حالات واقعات اور معاملات کا جائزہ لیں تو ہمارے رو برو ایک انتہائی ناگفتہ بہ صورت حال ابھرتی ہے
گذشتہ ستر سال سے بلعموم اور پچھلے تیس پینتیس سال سے بالخصوص ملک میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ یا دوسرے لفظوں میں نواز شریف اور آصف زرداری ٹولوں کی حکمرانی رہی ہے ان دونو ں ٹولوں نے جمہوریت ،آئین،انسانی حقوق ،ترقیاتی منصوبوں اور رفاعی پروجیکٹس کے نام سے اربوں کھربوں روپے کی خرد بردکی ۔ ان کے ادوارحکومت میں وائٹ کالر کرائم کو ایک سا ئنٹیفک ٹریڈ ،بزنس اور انڈسٹری کا درجہ دے دیا گیا ۔ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کئے جانے والے میگا پروجیکٹس میں میگا کرپشن ،کک بیکس ،کمیشن ،رشوت ،ٹھگی ٹکے ماری اور نوسر بازی کو انتہا تک پہنچادیا جاتا رہا ،ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے لی جانے والی بھاری بھرکم کمیشن ،کک بیکس اور رشوت باہر باہر سے ہی ان راشی پاکستانی حکمرانوںکے بنک اکاﺅنٹس میں جمع ہو جاتی رہیں اور یوں ملک میں تو غریبی مفلسی ،بھوک ،بیماری اور محتاجی کے ریگستان پھیلتے چلے گئے مگر زرداری اور نواز ٹولوں اور ان کے گماشتوں کی تجوریاں اور اوجڑیاں مال حرام سے پھلتی پھولتی حتی کہ پھٹتی رہیں
جیسا کہ مگر پچھلی سطور میں بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ نظام قدرت کے تحت بدی برائی اور شیطانی کے ہر مظہر کو ایک نہ ایک روز شکست نصیب ہونا پڑتا ہے سو پاکستان میں بھی ایساہی ہو رہا ہے اہل پاکستان پچھلے ستر سال سے طبقہ ظالمیہ و بدمعاشیہ کے ظلم وستم غیرمعمولی حدتک ہر پل کے ساتھ برداشت کرتے رہے مگر اسی دوران ارض پاکستان پر رحمت الہی کے تحت ایک بطل جلیل اور رجل رشید کا طلوع ہوا جو عمران خان کے روپ میں کراچی سے خیبر تک عوام کی نظروں کا تارا بن گیا ۔ اس سے پہلے عمران خان ملک میں سٹیٹ آف دی آرٹ معیار کا ایک کینسر ہسپتال قائم کر چکے تھے ۔ اس پر مستزاد یونیورسٹی کی سطح کے تعلیمی اداروں کا قیام ،ان امور نے عمران خان کو سپاہی حکومتی اور ریاستی معاملات کے لئے اہل پاکستان کے نزدیکک ایک بہترین متبادل لیڈر کے طور پر پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
25جولائی 2018کو عام انتخابات کے موقع پر عوام بے اپنی مرضی و منشاکھول کر سامنے رکھ دی انہوں نے سال ہا سال سے جاری جبر کے دو جماعتی نظام کو مسترد کر دیا ۔یہی وہ پیشگوئی تھی جو فیض صاحب ایک عرصہ پہلے اپنے ان شعری تبرکات کے ذریعے قوم کو دے چکے تھے ۔
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفامردودحرم
مسند پہ بٹھائے جائیںگے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
25جولائی 2018کا عوامی فیصلہ یقیناتائید الہی کے بغیر ممکن نہ تھا ۔اور اب یہ بھی تائید الہی کا لازمی ۔۔۔ہوگا کہ اس بہت بڑی ابتدائی تبدیلی کو حقیقی اور ۔۔۔طور پر ثمر بار بھی ہونا ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ وہ گاڑی جو سال ہا سال سے پٹڑی اتر کر دلدل میں پھنسی ہوئی تھی پاکستان کے بطل جلیل اور رجل رشید جناب عمران خان کے ذریعے اللہ کریم نے اسے دلدل سے نکال دیا ہے اور اب اسباب کی دنیا کے قوانین کے تحت عمران خان کو بدی اور ۔۔۔۔کی ان تمام قوتوں کو ان کے آخری انجام بد تک پہنچانا ہے جو تبدیلی کے سفر کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے کھوٹا کرنے کے در پے ہیں مگر یہ مفادات یافتہ معاشی جرائم پیشہ طبقہ بدمعاشیہ کی شکست خوردہ قوتیں اس ابدی حقیقت کو نہیں جانتی کہ بدی کو آخر کا ر شکست اور نیکی اور عدل کو کامرانی نصیب ہو کر رہتی ہے پاکستا ن میں تبدیلی کا یہ سفر یہ انقلاب تائید الہی سے کامیاب ہوکر رہتاہے ۔

Scroll To Top