کم از کم دو سال تو انتظار کر لیا جائے

10اپریل کی شب کاشف عباسی نے ایک دلچسپ موضوع پر پروگرام کیا۔ موضوع یہ تھا کہ جب بھی کوئی نئی حکومت بنتی ہے تو اس کا سربراہ یعنی وزیر اعظم ایک ہی قسم کی تقریر کرتا ہے
یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم بنے تو انہوں نے کہا۔” آمرانہ حکومت اور اس کے فیصلوں نے ملک کو سنگین بحرانوں میں مبتلا کر دیا ۔ مجھے ملک کو ان بحرانوں سے نکالنے کا ٹاسک ملا ہے اتنے برے حالات ملک نے پہلے کبھی نہیں دیکھے“۔
میاں نواز شریف جب وزیر اعظم بنے تو انہوں نے فرمایا” یہ تو میں جانتا تھا کہ ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کیاجاچکا ہے۔ مگر اس بات کا علم مجھے حکومت کے اندر آکر ہوا ہے کہ حالات اس سے بھی زیادہ برے ہیں جتنے برے میں سمجھتا تھا۔ اتنے برے حالات ملک نے کبھی نہیں دیکھے“۔
عمران خان نے بھی یہی کہا۔
”قرضوں کا بوجھ لاد لاد کر ماضی کی دو حکومتوں نے ملک کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ اتنے برے حالات ملک نے کبھی نہیں دیکھے۔ حالات اس سے کہیں زیادہ برے ہیں جتنے برے میں سمجھتا تھا“۔
میری رائے میںتینوں نے سچ کہا ہے۔
یہ ملک دراصل ایک ایسے طاغوتی نظام کے پنجوں میں گرفتار ہو چکا ہے جو اسے مسلسل تباہی وبربادی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اس نظام کی کوکھ سے جنم لینے والی کرپشن نے ہی اپنے تباہ کن نتائج کی بدولت عمران خان کو موقع دیا ہے کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال کر اصلاح ِاحوال کریں۔
اصلاح ِاحوال کے لیے آٹھ ماہ کا وقت بہت ہی ناکافی ہے پیپلز پارٹی کو پانچ سال ملے اور اس نے جو پاکستان نواز شریف کے حوالے کیا اس پر نواز شریف کا تبصرہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ پانچ ہی سال نواز شریف حکومت کو ملے۔ اس پر عمران خان کا تبصرہ آ پ کے سامنے ہے۔
اب فیصلہ آنے والے وقتوں نے دینا ہے کہ عمران خان پاکستان کو کس سمت میں لے جائیں گے۔ کم از کم دو سال تو انتظار کر لیا جائے!

Scroll To Top