ظلم کی رات سے طلوع ہونے والا عدل کا سوےرا

  • پچھلے روز اپنے سےنئر دوست اور بلند پاےہ شاعر جناب منےر نےازی کی 91وےں سالگرہ کی مناسبت سے ان کے مندرجہ ذےل شعری تبرکات میری لوح ےادواشت کو منور کر گئے ۔ جوں جوں ان کی معنوےت پر غور کےا تو ےوں لگا کہ اےک وجدانی شاعر کچھ عرصہ پہلے جو کہہ گےا تو اس مےں ہمارے اپنے ہی حالات کی عکاسی کی گئی ہے۔

کس دا دوش سی کس دا نےئں سی
لمےاں گلاں ہن کرن دےاں نئےں
وےلے لنگ گئے توبہ والے
راتاں ہوکے بھرن دےاں نئےں
کج اِنج راہوں اوکھےاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مےنوں مرن دا شوق وی سی
شاعربے مثل منےر نےازی کے ےہ شعری تبرکات درحقےقت اےک مرقع ہےں ، اےک ہشت پہلو آئےنہ بھی ہےں اور جراح کا تےز دھار نشتر بھی، ےہ مصوری کا اےک اےسا شاہکار ہے جس مےں مجھے اپنی معاشرت کے سارے کھلے اور ڈھکے چھپے خدوخال اور نقوش اپنی لوح بصارت پر رقصاں دکھائی دے رہے ہےں ۔ ان اشعار کو اگر ہم اپنے قومی حالات کے تناظر مےں پرکھےں تو ہمارے سامنے معاملات وحادثات کی تےن پر ےتی اور جہتےں ابھر تی ہےں ۔
ہم نے اپنی تارےخ کے اےک غالب حصے کو متعےن کردہ مقاصد سے ہم آہنگ نہےں رکھا ملک کو حقےقی فلاحی مملکت بنانے کی بجائے اسے اےک مخصوص مفادات ےافتہ طبقے نے ےر غمالی بنائے رکھا اور ےوں پوری معاشرت دو حصوں مےں بٹ گئی ےعنی اےک طرف امارات کے وسےع وعرےض بحر بےکراں اور دوسری جانب غرےبی ، محرومی ، بےماری اور محتاجی کے بے آب وگےا ہ رےگستاں۔
اور اب کہ ملک مےں عوامی سطح پر شعور وآگہی اور فہم وفراست کو فروغ حاصل ہوا ہے تو چار جانب الزام ، وشنام اور افہام کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور اس طوفان کے دامن سے ملک مےں اےک اےسی مصلح قےادت بھی ابھر آئی ہے جو سالہا سال کے بگاڑ ، ظلم اور ناانصافی کے خاتے اور اےک عادلانہ سماجی ومعاشی نظام متعارف کرانے کا عزم صمےم رکھتی ہے ۔ ظاہری بات ہے ےہ اصلاحی تحرےک معاد ےافتہ طبقات اورا ن کے حوارےوں موالےوں اور گماشتوں کے لئے موت کا پےغام ہے سو بدی، شےطنت اور ظلم کی وہ ساری قوتےں اےک مصلح تحرےک ، اس کے بانی اور داعی ، موجودہ صورت حال کے حوالے سے ےہ ہستی جناب عمران خان کے سوا اور کون ہوسکتی ہے ۔ سو مصنوعی طور پر وہ اےک ےکہ وتنہا ہستی مجر ظلمات کے مگرمچھوں سے نبرآزما ہورہی ہے ۔ سو شاعر بے مثل منےر نےازی کے ےہ اشعار تو ہر اعتبار سے پاکستان کے موجودہ قومی تناظر مےں جناب عمران خان پر منطبق ہوتے ہےں ۔
کج انج وی ساہواں اوکھےاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مےنوں مرن دا شوق وی سی
ےہ تو ہوا جناب عمران خان کے حوالے سے حالات ومعاملات کی عکاسی ، اب ہم اس گھمبےر صورت حال سے نکلنے کے لئے آگے کی سوچتے ہےں ، لارےب منےر نےازی اپنے اشعار مےں اےک معےن حوالے سے پاکستان کی موجودہ صورت حال کی عکاسی ہی کر گئے ہےں مگر کہانی ےہےں ختم نہےں ہوئی ، شعری تسلسل ہنوز جاری ہے، شاعر کی کسی بھی صورت حال بابت تنقےد بنےادی طور رپ جذبہ تعمےر سے آراستہ ہوتی ہے۔ اور جذبہ تعمےرےہ ہے کہ کسی بھی فرد، معاشرت ےا مملکت ورےاست کو ہر نوع کے مسائل ومصائب کے حل اور ان سے نجات بابت سنجےدگی سے غور وفکر کرتے ہوئے تعمےر وترقی کے لئے سوچنا چاہئے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی درپےش و آگہی اور فہم وفراست کے ساتھ قوم اور معاشرے کو ماضی کے مصائب سے آزاد کراتے ہوئے حال اور مستقبل کی ترقی، خوشی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دنےا چاہئے۔ اےک معےن مفہوم مےں جناب عمران خان ہی منصب پر اور اس راہ پر گامز ن ہےں ۔ اس راہ مےں مگر رکاوٹےں بہت ہےں اور مفاد پرست عناسر خود اور اپنے گماشتوں کے ذرےعے ان مےں روز بروز اضافے پر اضافے کئے جارہے ہےں اس ضمن مےں نون لےگ اور پےپلز پارٹی جن مےں عرصہ دراز تک جوتےوں مےں دال بٹتی رہی ان دنوں محض اپنی لوٹ کھسوٹ کی دولت بچانے کی غرضی سے عمران خان صاحب کے خلاف شےروشکر ہوچکی ہےں اس پر مستزاد اپنے ہی گھر مےں شکست کھا جانے والا بڑا فضلو، مذہبی جذبات کی آڑ مےں اور خود اپنے احتساب کے خوف کے مارے زرداری نواز کا حاشےہ بردار بنا ہوا ہے۔ اور عمران حکومت کو چلتا کرنے کے لئے اےڑھی چوٹی کا زور لگا رہا ہے مگر شکر ہے عوام ان چوروں اچکوں کی اےک نہےں سن رہے۔ تارےخ مےں پہلی بار ہوا ہے کہ حالےہ اےام مےں ہونے والی چہارسو مہنگائی پر لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نہےں نکل آئے۔ اس کی وجہ صرف ےہ ہے کہ اپنے فروغ پذےر شعور کے باعث عوام اس حقےقت کو پہچان گئے ہےں کہ ان کی موجودہ تمام معاشی تنگےوں کا باعث موجودہ عمران حکومت نہےں بلکہ پچھلے تےس سال سے حکمرانی کرانے اور عوام کی دولت لوٹنے والے طبقے ہےں جن کے سر خےل زرداری اور نواز شرےف ہےں عمران خان تو فقط ان قومی معاشی مجرموں کا پےدا کردہ گند غلاظت صاف کر رہے ہےں ۔ سو اس وقت صورت حال ےہ ہے کہ عمران خان اےک بہادرسپ سالار کی طرح اس ناگفتہ بہ حالت کو بہتر کرنے کے لئے سرگرداں ہے جس کی تمام تر ذمہ داری ظالم طبقوں اور زرداری ونواز پر عائد ہوتی ہے۔ ظلم کی اس اندھےری رات کو اےک عادلانہ صبح کی صورت طلوع ہوکر رہنا ہے۔

Scroll To Top