اِن پر بھی غداری کا الزام صادق آتا ہے۔۔۔۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر غداری کے الزام میں مقدمہ چل رہاہے۔۔۔اِس غداری کا ارتکاب انہوں نے آئین کی ایک شق کی خلاف ورزی کرکے کیا تھا۔۔۔ میرے نزدیک حقیقی غداری جنرل پرویز مشرف نے یہ کی کہ انہوں نے پاکستان کو تباہی کے دروازے تک لانے والی خود غر ض ¾ کرپٹ اور نالائق سیاسی قیادتوں کو ان کی آخری آرام گاہ تک پہنچانے میں کوتاہی برتی۔۔۔اور انہیں 2008ءکے بعد کی پوری دہائی تک پاکستان کو اپنی شکارگاہ بنائے رکھنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا۔۔۔
امریکی صدر اوباما جب صدارت سے الگ ہوئے تو وہ ہنوز بھرپور جواں تھے۔۔۔ لیکن امریکی جمہوریت کی روایات کسی بھی شخص کو آٹھ سال سے زیادہ اقتدار میںنہیں رکھتیں۔۔۔
آج جارج بش ¾ کلنٹن اور اوباما سب عام شہریوں کی زندگی بسر کررہے ہیں۔۔۔ بدقسمتی ہے ہماری کہ یہاں کے حکمرانوں کا حقِ حکمرانی تاحیات ہوتا ہے اور اگر کسی مرحلے پر ان کے حقِ حکمرانی کو خطرہ لاحق ہوجائے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔۔۔
آج کل اِن حکمرانوں پر برا وقت آیا ہوا ہے مگر ہمارا عدالتی نظام ان کی بقاءکی جنگ میں عملی طور پر ان کی ڈھال بن گیا ہے۔۔۔
میری رائے میں آنے والے مورخ ان تمام ججوں پر غداری کے الزام میں مقدمہ چلانا چاہیں گے جن کی فیاضی کی بدولت ڈاکوﺅں کا یہ ٹولہ سزائیں پانے یا سزاﺅں کے قریب پہنچنے کے باوجود درندناتا پھر رہا ہے۔۔۔

Scroll To Top