پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام منظور:حکومت کا شریف خاندان کیخلاف کرپشن کے نئے مقدمات دائر کرنے کا فیصلہ

  • صوبائی پارلیمانی پارٹی اور صوبائی کابینہ اجلاس : وزیراعظم نے وزرا ءکو شریف فیملی کی ہوشربا کرپشن بارے آگاہ کیا اور مزید کرپشن بے نقاب کرنے کا ٹاسک بھی سونپ دیا ،نئے کیسز دائر کرنے کی تیاری مکمل
  • نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، دیہاتوں میں پنچایتی اور شہروں میں نیبر ہوڈ کے نام سے نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، ایک سال کے اندر پنچایت، نیبر ہوڈ اور میٹروپولیٹن کے نئے انتخابات ہوں گے

لاہور(صباح نیوز) حکومت نے شریف خاندان کیخلاف کرپشن کے نئے مقدمات دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔لاہور میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف پنجاب کی صوبائی پارلیمانی پارٹی اور صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں نئے بلدیاتی نظام کے مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ نئے نظام کے مسودے کو منظوری کے لیے جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر میاں محمودالرشید نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے شریف فیملی کے خلاف نئے کیسز کی تیاری مکمل کرلی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کے اداروں نے نئے کیسز کے لیے مواد اکٹھا کر لیا۔میاں محمودالرشید نے کہا کہ شریف فیملی کے خلاف پہلے پرانے کیسز تھے مگر اب نئے مقدمات دائر ہونگے، وزیراعظم عمران خان نے وزرا کو شریف فیملی کے خلاف کرپشن کی معلومات سے آگاہ کیا اور مزید کرپشن بے نقاب کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔وزیر ہاوسنگ پنجاب میاں محمود الرشید نے بتایا کہ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام دو درجوں پر مشتمل ہوگا جن میں تحصیل اور ویلیج کونسل شامل ہیں، ولیج کونسل اور محلہ کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر جبکہ تحصیل اور میونسپل کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں گے۔محمود الرشید نے مزید کہا کہ شہروں میں میونسپل اور محلہ کونسل جبکہ دیہات میں تحصیل اور ویلیج کونسل ہوگی جو ضلع کونسل کو ختم کرکے قائم کی جائے گی۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر قانون راجا بشارت کا کہنا تھا کہ پنچایت کے اختیارات کو لوکل گورنمنٹ میں وضع کیا گیا ہے۔ نئے نظام میں ضلع کی سطح والے امور تحصیل کی سطح پر انجام دیئے جائیں گے۔وزیر قانون راجا بشارت کا کہنا تھا کہ دیہاتوں میں پنچایتی اور شہروں میں نیبر ہوڈ کے نام سے نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے اندر پنچایت، نیبر ہوڈ اور میٹروپولیٹن کے نئے انتخابات ہوں گے۔ نئے نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات جماعتوں کی سطح پر ہوں گے۔ دیہاتوں میں 22 ہزار پنچائیتیں ہونگی جبکہ 182 شہروں میں میونسپل کمیٹی ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ نئے نظام کے نفاذ سے موجودہ بلدیاتی ادارے تحلیل ہو جائیں گے اور مقامی آبادی اپنے نمائندے منتخب کرے گی۔ ہمارا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہے، ہم اقتدار کو صیح معنوں میں نچلی سطح پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ نئے بلدیاتی نظام میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی لگے گا اور نچلی سطح پر لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔ بجٹ سیشن سے پہلے ہم نیا بلدیاتی نظام نافذ کر دیں گے ،راجہ بشارت نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد عوام کو با اختیار بنانا ہے۔ نئے بلدیاتی نظام میں عوام کے مسائل فوری حل ہوں گے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اقتدار میں شامل کرنا ہماری حکومت کا ویژن ہے، نئے نظام میں عوام کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ 40 ارب روپے ولیج کونسلزکو منتقل کیے جائیں گے۔ اقتدارکوصحیح معنوں میں نچلی سطح پرمنتقل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام پروزیراعظم عمران خان کی معاونت رہی ہے۔ ایک موثربلدیاتی نظام لے کرآرہے ہیں۔

Scroll To Top