اگر یہ بدبخت سمندر میں نہیں پھینکے جاسکتے تو انہیں کے پی کے میں پھینک دو ! 29-11-2014


چوہدری نثار علی خان ` خواجہ سعد رفیق ہوں یا پھر طلال چوہدری وغیرہ قسم کے ہر کارے اور بھونپو۔۔۔سب نے سوچ لیا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران سے سرخرو ہو کر نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ جی بھر کر عمران خان کا مذاق اڑاﺅ۔ دل کھول کر ان لوگوں کی تضحیک کرو جو انصاف کی تلاش میں عمران خان کی آواز سے آواز ملانے کے لئے گھر سے نکلے ہیں۔
کوئی نہیں جانتا کہ 30نومبر کو کیا ہوگا۔ مگر حکومت کے اقدامات سے یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم پچھلی صدی کے اس دور میں چلے گئے ہوں جب اِن فضاﺅں پر تاجِ برطانیہ کا راج تھا اور اِس دیس کے بیٹے بیٹیاں ۔۔۔ جو ان اور بوڑھے آزادی کی امنگ لے کر باہر نکل رہے تھے یا نکلے ہوئے تھے۔
چوہدری نثار علی پر مجھے ” جنرل ڈائر “ کا گماں ہوتا ہے لگتا ہے کہ اسلام آبادآج کے دور کا جلیاں والا ہے۔ اور میاں نوازشریف جارج ششم ہیں۔ لیکن جارج ششم یہاں کبھی نہیں آئے تھے۔ ان کی خواہشات کی تکمیل ان کے مقررکردہ دیسی انگریز کررہے تھے۔
ہمارے شہنشاہ کھٹمنڈو میں مودی سے ہاتھ ملانے کا اعزاز حاصل کرکے خوش خوش یہاں پہنچے۔ مگر یہاں آتے ہی ان کے ماتھے پر تیوریاں آگئیں۔ آواز میں شاہی طیش۔
یہ لوگ کون ہیں جو 30نومبر کو ہمارے چین` ہمارے آرام اور ہمارے راج میں خلل ڈالنے کا ارادہ کررہے ہیں ؟ یہ ہماری رعایا نہیںہوسکتے۔ اور اگر یہ ہماری رعایا نہیں ہیں۔۔۔ تو انہیں اٹھا کر سمندر میں پھینک دو۔ اگر سمندر میں نہیں پھینکے جاسکتے تو خیبر پختون خوا میں پھینک دو۔ یہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہاں جاکر کریں۔ ہماری اقلیم میں اگر انہوں نے رہنا ہے تو انہیں آدابِ شہنشاہی سیکھنے ہوں گے۔
لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جارج ششم 14اگست 1947ءکی آمد کونہیں روک سکے تھے۔ کیا ہمارے بادشاہ سلامت کروڑوں عوام کا طوفانِ آرزو روک سکیں گے ؟

Scroll To Top