کامران خان اور طلعت حسین صحافت کے مولانا فضل الرحمان ہیں۔۔۔۔

گزشتہ دنوں میں نے ٹوئیٹر پر کچھ ایسے صحافیوں کا ذکر کیا تھا جنہیں میں ذاتی طور پر پسند کرتاہوں۔ کچھ ایسے صحافیوں کا بھی جو اپنے رویوں اور نظریات سے قطع نظر بڑا پیشہ ورانہ قد کاٹھ رکھتے ہیں۔ اور کچھ ایسے صحافیوں کا بھی جو حالیہ منظرنامے میں اپنا قد کاٹھ بڑھا رہے ہیں۔
الیکٹرانک میڈیا نے صحافت کا منظر نامہ یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے ۔ 18برس قبل تک صحافت پرنٹ میڈیا تک محدود تھی اور صحافی کا قدکاٹھ اس کی رپورٹنگ یاپھر کالم نگاری کے حوالے سے پہچانا جاتا تھا۔
پیشہ ورانہ خوبیوں سے قطع نظر صحافی کی بڑائی کا گہرا تعلق اس کی فکری اورعملی دیانت سے بھی ہے۔ میں صرف ایسے صحافی کو بڑا مانتا ہوں جس کا حب الوطنی سے باہر اگر کوئی ایجنڈا ہو بھی تو ایسا ہو کہ ہمیں محسوس نہ ہو اور نظر نہ آئے۔
یہ حقیقت ہے کہ صحافت بھی کرکٹ کی طرح ” کمرشلائز“ہوچکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال کامران خان اور طلعت حسین ہیں۔ ان کا قد کاٹھ بہت بڑا ہوتا اگر وہ ” مخصوص مفادات “ کے رکھوالے یا ترجمان نہ بنتے۔ ” مخصوص مفادات“ دوسروں کے بھی ہوسکتے ہیں اور اپنے بھی ہوسکتے ہیں۔
میں نے اپنی ٹوئیٹس میں جن بڑے پروفیشنل صحافیوں کے نام لئے تھے ان میں ارشد شریف ` رﺅف کلاسرہ اور عامر متین کے ساتھ حامد میر بھی شامل تھے۔ حامد میر کے نام پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا اور یہ اعتراض ” فکری اور عملی دیانت “ کے حوالے سے تھا۔ میں نے وضاحت کردی تھی کہ فکری اور عملی دیانت کا تعین کرنے کا پیمانہ ہر ایک کا اپناہوتا ہے۔
میں نے نظریاتی بنیادوں پر ارشاد عارف اور اوریا مقبول جان کو اپنی پسندیدگی میں سنگل آﺅٹ کیا۔ مگر ڈاکٹر شاہد مسعود ` صدیق جان اور سمیع ابراہیم کے نام لینا بھول گیا۔ نام میں نے احمد قریشی بھی نہیں لیا جنہیں میں بہت پسند کرتا ہوں۔
جہاں تک صابر شاکر اور ارشاد بھٹی کا تعلق ہے ` انہوں نے بلاشبہ بڑے مختصر عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہاں عارف بھٹی کا بھی ذکر ہوجانا چاہئے۔ مگر وہ اپنی ذات اور ذاتی سوچ کو اپنے صحافتی قد سے ذرا اونچا رکھتے ہیں۔
ویسے صحافی اور بھی نام پیدا کررہے ہیں ۔ لیکن میڈیا کا اپنا امیج اُن لوگوں کی وجہ سے بری طرح مجروح ہورہا ہے جن کے ارشادات کے رخ کا تعین تجارتی بنیادوں پر ہوتا ہے۔
یہاں بے اختیار میاں نوازشریف کا نام ذہن میں آتا ہے جن کی سوچ ان کے اِس ارشاد میں جھلکتی ہے۔
” میں کبھی کسی ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرتا جسے میں نے خریدا نہ ہو۔۔۔۔“
صحافت میں خرید و فروخت ایک عرصے سے چل رہی ہے۔
کامران خان اور طلعت حسین صحافت کے مولانا فضل الرحمان ہیں۔۔۔۔

Scroll To Top