سارا سچ جاننے کے لئے فوج اورعدلیہ کی نگرانی میں ایک بااختیار کمیشن قائم ہونا چاہئے 27-11-2014


حکمران جماعت پی ایم ایل(این)نے بالآخر یہ حکمت عملی تیار کرلی ہے کہ رائے عامہ میں کنفیوژن پیداکرنے کے لئے پی ٹی آئی کی قیادت پر مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات کی بھرمار کردی جائے۔ گزشتہ روز نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کی مشترکہ پریس کانفرنس اسی سلسلے کی کڑی تھی۔اس پریس کانفرنس یا پریس بریفنگ میںمحمد زبیر صاحب نے جہانگیر ترین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اور یہ سوال اٹھایا کہ جو شخص ربع صدی قبل معمولی وسائل رکھتا تھا وہ ارب پتی کیسے بن گیا۔ موصوف نے یہ انکشاف بھی کیاکہ پی ٹی آئی کے ستر فیصد ارکان انکم ٹیکس نہیں دیتے۔ موصوف کا کہنا یہ بھی تھاکہ عمران خان نے 1990ءکی دہائی میں کبھی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ محمد زبیر کی اس ” انکشافات خیز “ پریس کانفرنس کی زمین ہموار کرنے کے لئے پرویز رشید کچھ دنوں سے عمران خان پر تابڑ توڑ حملے کررہے تھے جن میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ کوئی کاروبار نہ ہوتے ہوئے عمران خان ارب پتی کیسے بنے۔ اور وہ کون سی آمدنی پر اس قدر شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ پرویز رشید نے جہانگیر ترین کو بھی ان کی شوگر مل کے جہاز کے استعمال کے حوالے سے الزامات کے نشانے پر لے لیا تھا۔
عمران خان اپنے ارب پتی ہونے کی خبر پر حیران ضرور ہوئے ہوں گے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے عملے کے لوگوں سے کہا ہو کہ سراغ لگاﺅ کہ میرے اتنے سارے ارب کہاں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر چند کروڑ ہی مل جائیں تو دھرنے کے اخراجات پورے کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔
میں یہاں الزامات کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ ایک دو باتیں ضرور ریکارڈ پر لاﺅں گا۔ یہ محمد زبیر صاحب اگرنجکاری کمیشن کے چیئرمین ہیں تو اُن کا اُن معاملات سے کیا تعلق جن پر روشنی ڈالنے کے لئے انہوں نے پریس کانفرنس کی ہے ؟ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھاہے کہ ” کیا یہ محمد زبیر واقعی پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کے بھائی ہیں۔ اگر ہیںتو ایک بھائی ایک انتہا پر دوسرا دوسری انتہا پر کیوں اور کیسے کھڑا ہے ۔؟“
میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ میں صرف یہ جانتا ہوں کہ اسد عمر ایک سلجھے ہوئے پڑھے لکھے اور فکری طور پر دیانت دار نظر آنے والے شخص ہیں جن پر عمران خان بھرپور اعتماد کرتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر اسد عمر کو زیادہ نہیں جانتا اور ان کے بھائی کو بھی صرف میڈیا کے ذریعے جانتاہوں۔ میری رائے البتہ یہ ضرور ہے کہ محمد زبیر اگر فکری اور پیشہ ورانہ دیانت سے کام لیتے تو اپنے ”باسز“ سے یہ سوال ضرورپوچھتے کہ جناب کیا عمران خان اور جہانگیر ترین پر حملہ آور ہونا بھی نجکاری کے عمل کا حصہ ہے ۔؟
دوسری بات جو میں یہاں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میاں نوازشریف اینڈفیملی پر الزام یہ نہیں کہ وہ ارب پتی اور کھرب پتی کیسے بنے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ انہوں نے حکومتی اختیارات کو اپنے کاروبار کے فروغ اور اپنی دولت میں اضافے کے لئے استعمال کیا ہے۔ عمران خان اور جہانگیرترین کبھی بھی ملک کے وزیراعظم یا پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیںرہے۔
یہاں ایک تجویز بھی میرے ذہن میں آرہی ہے اور وہ یہ کہ اگلے دو تین سال کے لئے حکومت فوج اور عدلیہ کے حوالے کردی جائے جو فوری طور پر ایک ” فیکٹ فائنڈنگ ٹروتھ کمیشن “ یعنی حقائق اور سچ جاننے والا کمیشن قائم کرے جس کا کام یہ معلوم کرنا ہو کہ ہمارے تمام سیاستدان بشمول میاں برادران ` زرداری خاندان اور عمران خان اور جہانگیر ترین خان وغیرہ کے پاس کتنی دولت ہے۔ کہاں کہاں ہے۔ کس کس کا روبارمیں لگی ہوئی ہے اور اِس دولت کو کیسے کیسے کمایا گیا ہے۔
مجھے یقین ہے ایک بااختیار کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں جو حقائق سامنے آئیں گے وہ ہماری قومی سیاست کو کرپشن اور لوٹ مار میں سر سے پاﺅں تک غرق عناصر سے پاک کرنے میں مدد گار ہوں گے۔
پھر کسی کو بھی کنٹینر پر کھڑے ہو کر الزامات کے تیر چلانے یا پریس کانفرنسیں کرکے نئے نئے ” انکشافات “ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
میں نہیں سمجھتا کہ قوم کے سامنے میری اس تجویز پر عمل کرنے کا کوئی اور نتیجہ خیز راستہ موجود ہے۔

Scroll To Top