بدلتے ہیں رنگ گرگٹ کیسے کیسے؟

زرداری ،نواز ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے، جلسوں، ریلیوں میں طے شدہ دہاڑی بھی نہیں دی جاتی، کام نکل جانے پر غریبوں کے لئے دھوکے، دھکے اور ٹھڈے،
چوہدری نثار عرف وگ سرکار کا وقفے وقفے سے دیدار، مال غنیمت کا انتظار، کوئی اور نہیں میں ہوں ناں یار!
نواب شاہ کی گدی انتشارکا شکار، خاندان کا مائنس زرداری فارمولا، زرداری ، اکیلا رہ گیا، سارا ٹبر دبئی چلا گیا

کون کہتا ہے تبدیلی آگئی۔
تبدیلی کی ہانڈی ابھی چولہے پر دھری پڑی ہے۔ پکوان بھی پکا نہیں ،بھوک پاس بھی وہی ہے۔
ماڈل ٹاو¿ن وہی
ماڈل ٹاو¿ن پولیس بھی وہی
نتیجہ مگر جدا
5سال پہلے اسی پولیس نے حاملہ خواتین سمیت40بے گناہ انسان پھڑکا دیئے تھے۔
5سال بعد یہی قاتل پولیس ماڈل ٹاو¿ن ہی کے ایک محل کی بِل میں چھپے گھسے چوہے عرف حمزہ ککڑی کو گرفتار نہ کر سکی۔
وجہ؟
دوسرے اداروں سمیت پولیس میں بھی اور نیب میں بھی ابھی نون غنے بھرے پڑے ہیں۔
یحییٰ خان نے بھدی ذہنیت اور بیمار مائنڈ سیٹ کے مارے ایسے1300گندے انڈوں کو نکال باہر پھینکا تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے 303گندی مچھلیوں کو ان کے انڈوں بچوں سمیت تالاب سے نکال باہر کیا تھا۔
مگر عمران خان ۔۔ بس جانے دیجئے۔
میرے پیارے فیصلہ سازو رکشے کے ازکار رفتہ انجن اور اس کے گلے سڑے کل پرزوں سے جہاز نہیں اڑایا جا سکتا۔ نتائج کی روشنی میں اور بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں حکمت عملی بدل لینا، صراط مستقیم سے انحراف نہیں کہلاتا بلکہ صراط مستقیم کی روح کے مطابق منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کو مثبت طور پر نتیجہ خیز بنانا کہلاتا ہے۔
خلق خدا کی سنیئے
”تیز رفتار ہوم ڈلیوری سروس، اب گھر میں باحفاظت بیٹھے بیٹھے، حفاظتی ضمانت حاصل کریں۔
ماڈل ٹاو¿ن ایچ بلاک کے بنگلے کے باہر پچاس ساتھ دہاڑی دار متوالے2000روپے نقد دہاڑی اور بریانی کے ڈبے کے وعدے پر لائے گئے تھے۔پچھلے ہفتے بلاول نے کراچی تا لاڑکانہ جو ”ملک گیر“۔ ”ملین ٹرین مارچ“ کیاتھا اس میں بھی دہاڑی دار مزدور عورتوں اور مردوں کو2000ہزار روپے نقد اوربریانی بستر کے وعدے پر ٹرخا دیا گیا تھا اور وہ یوں کہ بندے سپلائی کرنے والے آڑھتی کو زرداریوں کے کسی چھپے کرچھے نے صرف تین سو روپے فی کس ادا کئے اس نے ایک سو روپیہ فی کس کمیشن کاٹ کر دہاڑی دار مرد و زن کو دو دو سو روپے دے کر ٹرخا دیا۔
ادھر مادل ٹاو¿ن لاہور میں ناشریفوں نے بھی اپنے دہاڑی داروں پر خوب وار کیا دو ہزار کی بجائے یہاں بھی صرف دو دو سو روپے فی کس ادا کئے گئے اور بریانی کے ڈبے کے لئے چھینا جھپٹی اور دھکے ٹھڈے چونگے میں الگ کھائے۔ سوشل میڈیا پر ان مناظر کی انسانیت سوز فلم وائرل ہو چکی ہے۔
ایسے ہی دھوکے دھکے بلاول کی ٹرین مارچ کے دیہاڑی داروں کا نصیبہ بنے۔ بات اگر گڑھی خدابخش تک محدود رہتی تو بھی خیر تھی مگر برا ہوا ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر کا جس نے غریبوں پر کی گئی اس ”بلاول گردی“ کی فلم بنا کر پہلے چینل پر نشر کرادی پھر سوچل میڈیا پر وائر کی۔ دکھائے جانے والے مناظر میں بلاول کے کارند گان خاص غریب دہاڑی داروں کو لاتیں ٹھڈے اور مکے مار مار کر ایک عمارت سے باہر دھکیل رہے ہیں اور دوسرے مناظر میں سندھ کی دیہاتی عورتیں اور مرد کھلے میدان میں سخت گرمی میں جھلستے ہوئے چینل کے رپورٹر کو اپنی داستان غم سنا رہے ہیں۔ ج
جونہی یہ فلم چینل اور سوشل میڈیا پر وائر یل ہوئی بلاول کے غنڈوں نے ٹی وی چینل کے رپورٹر اور کیمرہ مین نوشہرو فروز سے تعلق رکھنے والے عزیز میمن کو جادبوچا اور اس کی خوب درگت بنائی یہاں تک کہ جب اسے جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے دی گئیں تو اس بچارے کے پاس اپنے بال بچوں سمیت سندھ چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہ بچا۔ بے چارے عزیز میمن پر ہونے والے اس ظلم کی فلم بھی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر وائر ہوئی جسے لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ اور ”بلاول گردی “ کے مناظر پر توبہ توبہ کرتے رہے۔
اپنے تاریخی اور ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ٹرین مارچ کی بے مثل”کامیابی“ کے بعد عزیزی بلاول اہم ترین ملاقاتوں کے لئے دبئی روانہ ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق عزت مآب ثاقب نثار کا یہ ’معصوم بچہ“ دبئی میں“ اپنی ماں کا مشن مکمل“ کرنے گیا ہے۔ اس ضمن میں اندر کی کہانی کی کچھ کڑیوں اور ٹوٹوں کا اشارہ میں پیش کئے دیتا ہوں۔
ذرا سوچئے کہ پچھلے روز بیٹھے بٹھائے یہ زرداری صاحب قبلہ کو کیا سوجھی کہ مظلومیت کا پیکر بنتے ہوئے فرمایا اگر میں جیل چلا جاتا ہوں تو میرے بعد آصفہ میری جگہ الیکشن لڑیں گی۔ اس سے پہلے بھی موصوف بلاول کو پیچھے دھکیل کر آصفہ کو پیش منظر پر لانے کی واردات کر چکے ہیں۔ اس بار مگر وجہ یکسر مختلف ہے۔
وہ وجہ کیا ہے؟ صرف اشارے دیکھ لیجئے، تفصیل کسی آئندہ نشست میں بشرط زندگی ضرور نذر قارئین کروں گا۔
بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل کی پیروی نہ کرنے پر زرداری اور بچوں کے مابین شدید خاندانی تناو¿،
بلاول کا بوجوہ مائنس زرداری فارمولے پر اصرار،
فاطمہ بھٹو کی میدان سیاست میں انٹری اور اس کے ساتھ خاندانی وسیاسی تعلقات کی تجدید بابت باپ اور اولان کے بیچ پیدا ہو جانے والے شدید تضادات۔
ساری اولاد کی دبئی منتقلی، جاں بچوں کی خالہ یعنی صنم بھٹو بھی موجود ہیں۔
بہر حال اپریل کے اگلے چند روز میں جہاں زرداری ٹولے اور خانواے کے مستقبل کے بیشتر فیصلے متوقع ہیں وہیں ان فیصلوں سے قومی سیاسی منظر نامے پر بھی غیر معمولی اور غیر متوقع ہلچل پیدا ہوسکتی ہے۔ خاص طور پر جب زرداری کی طرح نواز شریف بھی قانون مکافات کی گرفت میںبری طرح پھنس چکا ہے۔
چوہدری نثار طرف وگ سرکار ایسے میں نہیں بار بار اپنی بل سے باہر نکل کر اپنے ہونے کا پتہ دینے لگتا ہے۔(جاری ہے)

Scroll To Top