بڑھتی آبادی کا مسئلہ حل کرنے کا موثر ترین طریقہ ۔۔۔ ہسپتال بند کردیئے جائیں 26-11-2014

 

کچھ عرصہ قبل وہاڑی کے چلڈرن ہسپتال میں ناکافی سہولتوں کے باعث متعدد نومولود بچوں کی اموات ہوئی تھیں جن پر شور اٹھا تو خادمِ اعلیٰ نے فوراً نوٹس لے کر نہ صرف یہ کہ ہسپتال کے منتظم ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی بلکہ ہسپتال ہی بند کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاڑی سے بچوں کی اموات کی خبریں آنا بند ہوگئیں۔ گویا فرشتہ ءاجل کو کہہ دیا گیا کہ ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں وہ بچوں کی روح گھروں میں ہی قبض کرسکتا ہے۔
اب سرگودھا سے خبریں آرہی ہی کہ سات دن کے اندر 24بچے ہسپتال میں انکیوبیٹرز کی عدم دستیابی کی وجہ سے موت کی نیند سو چکے ہیں۔
اس بات کا مطلب یہ نہ لیاجائے کہ فرشتہ ءاجل وہاڑی اور سرگودھا پر ہی مہربان ہوا ہوگا ۔ صوبے بھر میں اس قسم کے واقعات ہوتے ہوں گے جو میڈیا کے علم میں نہیں آپاتے ہوں گے۔یہ تو ملک کے سب سے ” ترقی یافتہ “ صوبے کا حال ہے۔ دوسرے صوبوں کے حالات جس قدر ناگفتہ بہ ہیں اس کااندازہ تھر میں ہونے والی اموات سے لگایا جاسکتاہے۔ تھرمیں بچوں کی اموات کا سلسلہ تھمتا نظر نہیں آرہا۔ جیسے جیسے تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے وہاں کے وزیراعلیٰ وضاحتی بیان دینے کے لئے کوئی نہ کوئی لطیفہ ارشاد فرما دیتے ہیں۔ اُن کی ایک وضاحت سنہری حروف میں لکھی جانے کے قابل ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ تھر میں بچے دراصل غذا اور طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں مر رہے غربت اورکمزوری کی وجہ سے مر رہے ہیں جس کے لئے حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
بہرحال سید قائم علی شاہ نے خادمِ اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کبھی نہیں کیا۔ اس قابلِ تعظیم یا قابلِ رشک منصب پر صرف میاں شہبازشریف نے اپنے آپ کو فائز کر رکھا ہے۔ ان کافلسفہ ءترقی یہ ہے کہ جو غریب خاندان علاج کی سہولتوں کے مفقود ہونے یا کھنڈرات کا منظر پیش کرنے والے نام نہاد ہسپتالوں کے ناگفتہ بہ حالات کی وجہ سے شب وروز میتیں اٹھاتے ہیں ان کی بدقسمتی پر تو دکھ کا اظہار کیا جاسکتا ہے مگر زیادہ توجہ ہمیں ٹھوس نظر آنے والی ترقی پر مرکوز رکھنی چاہئے جس کی روشن مثال میٹروبس سروس کے منصوبے ہیں۔ میاں صاحب شاید یہ بھی سوچتے ہوں کہ آبادی میں اضافے کے سنگین مسئلے پر قابو پانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ مرنے والوں کو مرنے دیا جائے۔ ہسپتالوں وغیرہ پر قومی دولت کوضائع کیا گیا تو ترقی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔
اور اب یہ بات کوئی سربستہ راز نہیں کہ میٹرو منصوبوں کو سرمایہ مہیا کرنے کے لئے تعلیم صحت سوشل ویلفیئر اور اس نوعیت کی دوسری مدوں سے پیسے نکال کر ” ٹھیکیداروں “ کا پیٹ بھرا گیا ہے۔
میاں صاحب کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے وہ اپنے ان اشتہارات کو چلانے کا بندوبست نہیں کرسکیں گے جن کے ذریعے وہ بے مثال ترقی کا سحر پیداکررہے ہیں۔ وہاں انہیں ہر اس موت کا حساب دینا ہوگا جو محض اِس وجہ سے روکی نہ جاسکی کہ ہسپتال میں انکیوبیٹر موجود نہیں تھے۔
ہمارے ملک میں ایسا طبقہ بڑی تیزی سے سر اٹھا رہا ہے جو خدا کو امور مملکت سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ جہاں خدا سے نظریں چرائی جاتی ہیں وہاں راج ابلیس کا ہی ہوتا ہے۔

Scroll To Top