رائٹ اور رانگ کا مطلب ہے حق اور باطل 25-11-2014

گوجرانوالہ کے جلسہ ءعام میں عمران خان نے ایک ایسی حقیقت بیان کی جس پر بہت کچھ لکھاجاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں سیاسی کشمکش رائٹ اور لیفٹ کے درمیان نہیں رائٹ اور رانگ کے درمیان ہے۔ جب بات رائٹ اور لیفٹ کی ہوتی ہے تو رائٹ کا مطلب دایاں بازو اور لیفٹ کامطلب بایاں بازو ہوتا ہے۔دائیں بازو سے یہاں مراد ہمیشہ یہ لی گئی ہے کہ ایسی قوتیں جو مذہب اور روایات کو مقدم رکھتی ہیں۔ بائیں بازو کی ترکیب ان قوتوں کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے جو مذہب کو سیاست سے دور رکھتی ہیں اورجو روایات پر آزاد سوچ اور آزاد روش کو ترجیح دیتی ہیں۔ ان قوتوں کے لئے دوسری اصطلاح لبرل ہے۔ خود کو یہ سیکولر کہنا اورکہلوانا زیادہ پسند کرتی ہیں۔
عمران خان نے رائٹ اوررانگ کی جو بات کی ہے اس کا آسان ترین اور سب سے زیادہ قابل فہم ترجمہ حق و باطل ہے۔حق و باطل کی ترکیب بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ مگر عمران خان نے اس ترکیب کووسیع معنوں میں استعمال نہیں کیا۔ ان کامقصدصرف یہ کہنا ہے کہ وطنِ عزیز میں جو سیاسی محاذ کھلا ہواہے اس میں ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو معاشرے میں انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لئے سرگرمِ عمل ہیں اوردوسری طرف وہ قوتیں ہیں جو کرپشن ظلم استحصال بے انصافی اور اونچ نیچ کے موجودہ نظام کو ہر قیمت پرقائم رکھنا چاہتی ہیں۔ ان قوتوں میں دائیں اور بائیں دونوں بازوﺅں کی متحارب جماعتیں شانہ بشانہ نظر آرہی ہیں۔
میںسمجھتا ہوں کہ یہ جنگ صرف اس حد کے اندر نہیں رہے گی اور درحقیقت حق اور باطل کے درمیان معرکے کی صورت اختیار کرلے گی جس میں حق کا واحد مطلب سرزمین پاکستان پر حاکمیت خداوندی قائم کرنا ہوگا۔ ایک مسلمان کے لئے دوسری کوئی سیاست اور دوسری کوئی حاکمیت قابلِ قبول نہیں۔
جب تک اس ملک میں اللہ تعالیٰ کا قانون نافذ نہیں ہوگا حقیقی عدل و انصاف اور عظمتوں کی طرف اس ملک کا سفر شروع نہیں ہوسکے گا۔۔۔

Scroll To Top