خطرناک امراض پر تحقیق میں بچوں کے دودھ کے دانت اہم قرار

امریکی اور چینی ماہرین بچوں کے دودھ کے دانت کے خلیات کو کئی امراض کے علاج کے لیے استعمال کررہے ہیں (فوٹو: فائل)

پنسلوانیا: ابتدائی عمر میں بچوں کے ٹوٹے ہوئے دانتوں کو سنبھال کر رکھنے کا عمل طبی تحقیق اور جان بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکی قومی مرکز برائے بایو ٹیکنالوجی کے مطابق ننھے بچوں کے دانتوں میں موجود خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) ایک جانب تو ماحولیاتی نقصان سے بڑی حد تک دور ہوتے ہیں تو دوسری جانب وہ دیگرجسمانی اعضا کی تیاری میں بہت مدد دے سکتے ہیں۔ پھر ان کی بدولت کینسر کے علاج کے لیے بدن کے دوسرے حصوں سے گودے (بون میرو) حاصل کرنے کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی درجے میں ہیں لیکن اس کی مدد سے امراضِ قلب، دماغی بیماریوں اور کینسر کے علاج میں بہت مدد ملے گی۔ دانتوں کے اندر خاص قسم کے خلیاتِ ساق پائے جاتے ہیں جنہیں ’ہیومن ڈیسی ڈیئس پلپ اسٹیم سیلز‘ ( ایچ ڈی پی ایس سی) کہا جاتا ہے۔

اس کیفیت میں ان کے خلیات ہر جسمانی عضو میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس درجے پر یہ جگر، ہڈیوں کی دوبارہ افزائش اور آنکھوں کے متاثرہ ٹشو بھی بناسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دس سال تک کے بچوں کے ٹوٹے ہوئے دانت بہت کارآمد رہتے ہیں۔

چین میں اس کا دلچسپ تجربہ کیا گیا جس میں بچوں کے دانتوں کے خلیات سے ایسے بالغ افراد میں دانت اگانے کا فیصلہ کیا گیا جن کے دانت گر چکے تھے۔ 30 مریضوں پر آزمائش کی گئی تو ان میں دانت اُگ آئے لیکن دانت آدھے اور جزوی طور پربنے تھے۔

یونیورسٹی آف پینسلوانیہ کے ماہرین نے بچوں کے دانتوں سے خلیات لے کر جب دانت کھو دینے والے افراد میں لگا کر انہیں مصنوعی دانت نصب کیا گیا تو مریضوں نے دانتوں کے اندر حساسیت محسوس ہوئی جس سے ظاہر ہے کہ یہ عمل منتقل شدہ دانتوں میں بھی حساسیت پیدا کرسکتا ہے۔

یہ بات بھی زیر غور رہے کہ بچوں کے دودھ کے دانت سے حاصل شدہ خلیات کو دیگر کئی اقسام کے امراض میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top