اسلامو فوبیا کا مقابلہ طاقت سے نہیں بلکہ محبت سے کرنا ہو گا: مہاتیر محمد

  • ملائیشیا کا پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کا اعلان، عمران خان کی طرح ہمیں بھی کرپشن پر بہت تشویش ہے،پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں‘ وزیراعظم ملائیشیا
  • اسرائیل کے علاوہ دنیا میں کوئی اور دشمن نہیں ہے،کچھ لوگوں نے مسلمانوں سے نفرت پھیلائی، لیکن انتقام اور لڑائی جھگڑے سے اس نفرت کا مقابلہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ لوگوں کے دل و دماغ جیتنے ہوں گے

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ اسلام سے نفرت کا مقابلہ طاقت سے نہیں بلکہ محبت سے کرنا ہوگا۔اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان آنے پر بہت خوش ہوں اور اس کی ترقی میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، عمران خان سے معاشی تعلقات کے فروغ اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے کیا خرید و فروخت کرسکتے ہیں، اس دورے سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور تجارت کے فروغ میں مدد ملے گی۔ملائیشیا کے وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان کی طرح ہمیں بھی کرپشن پر بہت تشویش ہے، اسلامی ممالک غریب نہیں بلکہ کرپشن کی وجہ سے غریب ہوجاتے ہیں، اسی لیے ملائیشیا میں بھی کرپشن کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان کرپشن کے خاتمے کے لیے معلومات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے، دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی فروغ دینا ہوگا، آج ایک مسلم ملک بھی ترقی یافتہ نہیں۔مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ کا واقعہ مسلمانوں سے نفرت، خوف اور دشمنی کی وجہ سے پیش آیا، میڈیا اور کچھ لوگوں نے مسلمانوں سے نفرت پھیلائی، لیکن انتقام اور لڑائی جھگڑے سے اس نفرت کا مقابلہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ لوگوں کے دل و دماغ جیتنے ہوں گے، اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ تعلیم اور کفایت شعاری کے ذریعے قومیں ترقی کرتی ہیں۔ آزادی کے وقت ملائیشیا ایک غریب ملک تھا، نہ سرمایہ تھا اور نہ ٹیکنالوجی، جس کے باعث چھوٹی انڈسٹری کا سہارا لیا اور صنعتیں قائم کیں جس کے باعث ملائیشیا میں غربت کا خاتمہ ہوا، پاکستان اور ملائیشیا کو سرمایہ کاری کو آگے بڑھانا ہو گا، دنیا میں اسرائیل کے علاوہ ہمارا کوئی دشمن نہیں ہے۔اسلام آباد میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ میں بزنس کانفرنس کے انعقاد پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ تاجروں کیلئے اشتراک کے مواقع پیدا کرنا بہت ضروری ہے اور اس طرح کی کانفرنسز دوست ممالک کو قریب لاتی ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت ملائیشیا ایک غریب ملک تھا ، ہمارے پاس سرمایہ تھا، نہ ٹیکنالوجی، جس پر ہم نے چھوٹی انڈسٹری پر انحصار کیا ، کاروباری مواقع، تعلیم اور تربیت سے صنعتوں کو فروغ دیا جس سے غربت کے خاتمے میں مدد ملی اور اس کے بعد آنے والے وقت میں ہم نے تیزی کیساتھ ترقی کی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کوریا اور جاپان کے تجربے سے استفادہ حاصل کیا ، ایک ایکڑ زراعت سے وہ کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا جو ایک ایکڑ پر لگے کارخانے سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور تقریباً 500 لوگوں کو روزگار ملتا ہے جبکہ کسی بھی ملک کی ترقی میں امن و استحکام کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار کے مواقع فراہم کرنا ہے، ملائیشیا میں بیرونی سرمایہ کاروں کو سہلویات دی گئیں، ابتدائی طور پر دس سال ٹیکس چھوٹ دی گئی، ہمیں دونوں ممالک کی سرمایہ کاری کو آگے بڑھانا ہو گا۔ اسرائیل کے علاوہ دنیا میں کوئی اور دشمن نہیں ہے اور اسرائیل کے ساتھ کبھی کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا جبکہ اس کے علاوہ تمام ممالک کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں، اسرائیل اور مغربی ممالک آزادی کے حامی ہیں تو ہمیں بھی بات کرنے کا حق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مشترکہ طور پروٹون گاڑیاں بنانا چاہتے ہیں جس کیلئے ایک پلانٹ لگانے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر نے وزیراعظم عمران خان کو پروٹون گاڑی تحفے میں دینے کا اعلان کیا۔

Scroll To Top