مسائل کے حل کے لیے علاقائی ممالک میں تعاون ناگزیر ضرورت بن چکا

  • بلوچستان کا محل وقوع گواہی دے رہا کہ مسقبل قریب میں بھی اسے کئی چیلنجز درپیش ہوں گے
  • غیر قانونی آمدورفت کی حوصلہ شکنی کے لیے پاک افغان سرحد پر 370 کلومیڑ باڈ لگائی جاچکی ہے
  • ووٹ سے منتخب ہونے والے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اپنی زمہ داریوں ادا کرنے کو تیار نہیں
  • ان کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا جو دشمن کو ہماری صفوں میں مداخلت کرنے میں مددگار ثابت ہورہیں۔

بلوچستان میں امن وامان کے حالات بہتر ہونا بڑی کامیابی ہے، اس ضمن میں ہمیں خدا کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کی ضرورت ہے جس نے ارض وطن کے بدخواہوں کے عزائم ناکام بنا دئیے۔ صوبے کے حالات سے باخبر ہر شخص آگاہ ہے کہ بلوچستان کا محل وقوع خود اس بات کی گواہی دے رہا کہ مسقبل قریب میں بھی اس سرزمین کو بدستور چیلنجز درپیش ہوں گے۔ ادھر سی پیک کی شکل میں ایسا معاشی منصوبہ تیزی سے پایہ تکیمل کو پہنچ رہا جس سے بلوچستان کو بالخصوص اور پاکستان کو بالعموم بے شمار معاشی فوائد ہوسکتے ہیں۔ ٹھیک کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کا پاکستان کا مسقبل ہے چنانچہ بطور قوم ہمیں ممکن حد تک اس کی تعمیر وترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں امید افزاءپیش رفت یہ ہوئی کہ کمانڈر سندرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بلوچستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں۔مائننگ کمپنیاں آئیں انھیں ہر مکمل تحفظ فراہم کیا جائیگا،صوبے میں امن وامان بہتر ہونے کے بعد حالات تبدیل ہورہے ہیں ۔صوبائی دارلحکومت میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے حوالے سے منعقد سیمنار سے خطاب میں جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ لاہور اور اسلام آباد کے بعد کوئٹہ میں بھی سیف سٹی پروجیکٹ پر کام شروع ہوگا۔ غیر قانونی آمدورفت کی حوصلہ شکنی کے لیے پاک افغان سرحد پر 370 کلومیڑ باڈ لگائی جاچکی ہے ۔“
سالوں سے بلوچستان کے مسائل حل کرنے لیے سول حکومت کی مدد کرنے میں دفاعی ادارے پوری سنجیدگی کے ساتھ آگے آئے ۔یہاں تک کہہ جارہا کہ اگر عسکری قیادت اس صوبے میں بہتری کے لیے کلیدی کردار ادا نہ کرتی تو شائد مسائل ا س کامیابی سے حل نہ ہو پاتے ۔ افسوس بلوچستان کے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی مسائل بڑھنے کی نمایاں وجہ یہ رہی کہ ووٹ کی طاقت سے منتخب ہونے والے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اپنی زمہ داریوں پر توجہ دینے پر تیار نہ ہوئے۔ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کے جاگیردار اور سردار ہی صوبے کے سرمایہ دار ہیں ، بااثر خاندانوں کا مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں سے وابستہ ہونا بتا رہا کہ سارا کھیل صرف اور صرف ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول کا ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ بلوچستان کو ہی کیوں بدنام کیا جائے ، کیا پنجاب، سندھ اور خبیر پختونخواہ میں ایسے سیاست دان نہیں جو عوامی خدمت کی بجائے اپنے اپنے مفاد کے حصول کے لیے سرگرداں ہیں۔
بلاشبہ بلوچستان کو کئی دہائیوں سے نظرانداز کیا جاتا رہا چنانچہ حالات میں بہتری کے لیے اگر کئی دہائیاں نہیں تو کم ازکم سال ضرور درکار ہونگے۔ یہ مطالبہ غلط نہیںکہ جب تک بلوچ عوام کا سیاسی شعور مثالی شکل اختیار نہیں کرتا تو اس وقت کسی ڈرامائی تبدیلی کی توقع نہ رکھی جائے۔
وطن عزیز میںجمہوری نظام کے تسلسل کا ایک فائدہ یہ ہورہا کہ پسماندہ علاقوں کی بہتری کے مواقع پیدا ہورہے ۔ اب پرنٹ ، الیکڑانک اور سوشل میڈیا میں ہر علاقے کے لوگ بے خوف وخطر اپنے مسائل بیان کررہے ، بظاہر اہل بلوچستان سے فوری طور پر یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ بلاخو ف وخطر اپنے حق میں آواز بلند کرسکیں مگر آثار یہی ہیں کہ اب حالات ماضی کی طرح نہیں رہے۔
ایک نقطہ یہ ہے کہ بلوچستان کے حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک پڑوسی ملکوں سے تعلقات دوستانہ نہیں ہوجاتے ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ صوبے میں مداخلت کرنے والے کوئی اور نہیں بعض پڑوسی ممالک ہیں۔یقینا کسی دوسرے پر اعتراض کرنے سے پہلے ہمیں ان کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا جو دشمن کو ہماری صفوں میں داخل کرنے میں مددگار ثابت ہورہیں۔
اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا کہ افغانستان کی خانہ جنگی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں دھڑے سے مداخت کی جارہی۔ بھارت ہی نہیں افغانستان بھی بلوچستان میں منفی قوتوں کی سرپرستی کرنے سے باز نہیں آرہا۔ حالات پر نگاہ رکھنے والے بعض حلقے تو یہاں تک دعوی کررہے کہ بلوچستان میں خرابی پیدا کرنے میں بھارت اور افغانستان ایک ہی پیج پر ہیں۔ دراصل افغانستان میں طالبان کے حملوں سے پریشان امریکہ کے لیے سیاسی طور پر سودمند یہی تھا کہ وہ طالبان کی حمایت کا پاکستان پر الزام لگا کر اسلام آباد کو بدنام کرتا رہے، یقینا واشنگٹن باخبر ہے کہ کب اور کیسے بھارت اور افغانستان بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں شرپسند عناصر کی حوصلہ افزائی کرنے میں ملوث ہیں۔
پاکستان کی حد تک یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ بھارت سمیت کسی بھی ملک میں کھلے عام مداخلت کا مرتکب نہیں وجہ یہ کہ اسلام آباد خود مسائل کا شکار ہے۔ امریکہ کے افغانستان پرحملے کو سترہ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود واشنگٹن کے مسائل کم نہیں ہورہے۔ چنانچہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور سے یہ امید کرنا غلط فہمی ہوگی کہ وہ اعلانیہ اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کو خالی کرڈالے۔ یہ تجویز نظر انداز کرنے کے قابل نہیں کہ امریکہ ، افغانستان اور بھارت جیسے ملکوں کو یہ باور کروانا ہوگا کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں جنگ سے ممکن حد تک بچا جائے ۔ ایک دوسرے کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے کہیں بہتر ہوگا کہ خطے کے بڑے مسائل حل کرنے کے لیے ریاستی سطح پر تعاون کو فروغ دیا جائے۔ کوئٹہ میں درحقیقت کمانڈر سندرن کمانڈ لیفٹیننٹ عاصم سلیم باجوہ بھی یہی کہ رہے کہ بڑے مسائل کے حل کے لیے خطے کے ممالک میں معاشی تعاون ناگزیر ضرورت بن چکی ۔

Scroll To Top