بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے گونواز گو کل کا ناپسندیدہ نعرہ آج ناشریفوں کا پسندیدہ مطالبہ بن گیا


کانجی ہاو¿س ، جاتی عمرہ
لفافیے انٹل کچولوں کا ڈیرہ،
یہاں انہیں تھنک ٹینک کے مخفف یعنی ٹی ٹی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
یہ لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اپنے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی روشنی میں ، پہلے سے دیئے گئے رہنما سکرپٹ میں نئی تجاویز ، مشورے اور حکمت عملی کے داو¿ پیچ ٹانکتے ہیں۔ اس عمل میں باو¿جی (میاں نواز شریف) اور ایم ایم (میڈیم مریم) کے لئے پروگرامز، نقل و حرکت، ٹی وی چینلز کے لئے ٹکرز کی یک سطریاں (ONE LINERS) ہیڈ لائنز کے لئے مختصر مگر چست جملوں ، عمران خان کی کردار کشی کے لئے ہر قسم کے مواد اور حریفوں کے لئے آتشیں پھبتیوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ ایک خاتون ”دانشمند“ ایم ایم کا وارڈ روب سنبھالتی ہیں۔ اور ذاتی آرائش جمال کے معاملات کی نگرانی پر مامور ہیں۔
ان دنوں ایم ایم یعنی میڈم مریم ذاتی سے زیادہ سیاسی مقصد کے لئے اپنے والد گرامی قدر سے ملاقات کے لئے ہسپتال یا کوٹ لکھپت جیل جایا کرتی ہیں چنانچہ جاتی عمرہ سے ان کی روانگی ہسپتال یا جیل تک پہنچنے اور پھر واپسی کے پروگرام کی تمام جزئیات پہلے سے طے کی جاتی ہیں۔ ان میں ان کے آرائش جمال، لباس ، گاڑی کے انتخاب اور رفتار اور پروٹوکل کے تمام معاملات کی پرکھ پرچول کی جاتی ہے۔ زیادہ اہمیت ہسپتال یا جیل میں مریم بی بی کی آمد اور استقبال کو دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں نعرے لگانے، دھکم پیل کرنے،گاڑی پر پھول پتیاں پھینکنے، یا حسب ضرورت کپڑے پھاڑنے کے امور کے لئے باقاعدہ دہاڑی داروں کا بندو بست کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں لاہور اور گرد و نواح کے نونی ایم این اے اور ایم پی اے خواتین وحضرات کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔
میڈیا ہی کے چند لفافیے منشی فیم مختلف ٹی وی چینلز کے کیمرہ کریو اور رپورٹرز کی جیل یا ہسپتال میں موجودگی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ ان حضرات کو ان کی کارکردگی اور شائع شدہ خبروں یا نشر کردہ ٹکرز اور کلپز کی بنیاد پر بھاری بھر کم ادئیگیاں کی جاتی ہیں۔ افوس صد افسوس چند محترم استثناو¿ں کے ساتھ، اس عید کی نئی میڈیا ئی پود کا قابل لحاظ حصہ بوجوہ مادی چمک دمک کی بھینٹ چھڑھا ہوا ہے۔
اب میں جاتی عمرہ کا نجی ہاو¿س کے ٹی ٹی خواتین و حضرات یعنی”ٹھنک ٹینک“ والوں کی اس اہم ترین سرگرمی بابت قارئین کرام کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں جسے تمام ہی نون غنے بقراطی سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں بلکہ ان محلات کے بچے کچھے مکین تو اسے زندگی و موت کا مسئلہ گردانتے ہیں۔ اور یہ مسئلہ ہے میاں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانتی رہائی کا یا دوسرے لفظوں میں بیرون ملک روانگی کا بالکل آج سے 19سال پہلے کے اس واقعے کا ایکشن ری پلے، جس کی رُ و سے نواز شریف فیملی اپنے باورچوں اور مالشیوں سمیت دس سال کے لئے سعودی عرب فرار ہو گئی تھی۔
ماہرین قانون کے مطابق جاتی عمرہ نا شریف ، نا اہل اور مجرم نواز نا شریف کو قانونی طور پر بیرون ملک جانے کا کوئی استحقاق میسر نہیں آسکتا چنانچہ اس ضمن میں عیاری مکاری اور چالاکی لتھڑا ہوا یہ حربہ استعمال کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے کہ میاں نواز شریف کی ذات کے اردگرد غیر معمولی مظلومیت کا ہالہ بنا دیا جائے۔ اور اس کی اسقدر زیادہ سے زیادہ غیر معمولی مظلومیت کا ہالہ بنا دیا جائے۔ اور اس کی اسقدر زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے۔ سوشل میڈیا پر، ٹی وی چینلز پر جلسوں، جلسیوں اور ریلیوں کے ذریعے کہ ایک ایسا ماحول بن جائے جس میں بچے بچے کی زبان پر ایک بار پھر ”گو نواز گو“ کا نعرہ گونج اٹھے۔ تاریخ کی کسقدر ستم ظریفی ہے کہ کل نواز شریف کے خلاف یہی نعرہ اسے وزارت عظمیٰ اور اقتدار و اختیار سے الگ کرنے کے لئے ملک بھر میں گونجتا رہا اور آج یہی نعرہ اس لئے لگوانے کی کوشش ہو رہی ہیں کہ کسی نہ کسی طور نواز شریف بیرون ملک ”گوگو! ہو جائے۔ اور پھر یوں بانس رہے گا نہ بانسری بجے گی۔
تازہ ترین اطلات کے مطابق جاتی عمرہ والوں نے بیرون ملک اپنے کارندوں، لابسٹ فرموں اور انسانی حقوق کی علمبردار انٹر نیشنل تنظیموں سے بھی رجوع کیا ہے کہ وہ خرابی صحت کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو پاکستان سے گوگو کروانے کے لئے دباو¿ ڈالیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جاتی عمرہ والوں نے بیرون ملک اپنے کارندوں، لابسٹ فرموں اور انسانی حقوق کی علمبردا ر انٹر نیشنل تنظیموں سے بھی رجوع کیا ہے کہ وہ خرابی صحت کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر نواز شریف کو پاکستان سے گوگو کروانے کے لئے دباو¿ ڈالیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جاتی عمرہ والوں کی اب تک کی تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں ۔
ادھر کوٹ لکھپت جیل قیدی نمبر4470نے مریم کو سخت تنبیہہ کی ہے کہ وہ ملکی سطح پر اس کی بیرون ملک روانگی کو ہر حال میں ممکن بنانے کے جتن کرے۔ اس سلسلے میں جیل کے باہر اور مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیوں کے علاوہ کارکنوں کے وفود تشکیل دینے کا بھی پروگرام بنایا گیا ہے جو وکلا تنظیموں سے رابطے کر کے انہیں بھی میاں نواز شریف کی ” گو گو“ تحریک میں اپنا حصہ ڈالنے کی ترطیب دیں گے۔۔

Scroll To Top