ٹرائے کی لڑائی ختم نہیں ہوئی 23-10-2014

علامہ طاہر القادری کی طرف سے اسلام آباد دھرنے کے خاتمے کے اعلان سے پہلے بھی چہ میگوئیاں ہورہی تھیں اور افواہوں کا بازار گرم تھا ` اور اس کے بعد بھی مختلف قسم کی قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ علامہ صاحب نے متعدد مرتبہ اس الزام کی تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنے دھرنے کے خاتمے اور شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے معاملات پر حکومت سے کوئی خفیہ ڈیل کی ہے لیکن ہماری سیاست کا پہیہ ہمیشہ سے قیاس آرائیوں اور اِن قیاس آرائیوں کے نتیجے میں اخذ کئے جانے والے اندازوں کے ایندھن سے چلتا رہا ہے۔ اصل حقائق اکثر صیغہ ءراز میں رہا کرتے ہیں۔ علامہ طاہر القادری کا موقف یہ ہے کہ اُن کا دھرنا اپنا ایک بڑا مقصد پورا کرچکا ہے اور اب انقلاب کی تحریک کو ملک بھر میں پھیلانے کا مرحلہ آچکا ہے۔ اس موقف میں بڑی جان بھی ہے۔ جن لوگوں نے اسلام آباد کے دھرنوں سے یہ امیدیں باندھ رکھی تھیں کہ ان کے نتیجے میں ”کچھ “ ایسا ضرور ہوگا کہ میاں نوازشریف اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے ` ان لوگوں کی توقعات کو دم توڑے بھی کافی دن ہوچکے ہیں۔ چنانچہ اب ضرورت یقینی طور پر اس ” جنگ نما “ تحریک کے اگلے مرحلے پر جانے کی ہے۔ علامہ طاہر القادری اس ضمن میں فیصل آباد اور لاہور میں نہایت کامیاب جلسے کرکے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ انہوں نے سوا دو ماہ کے عرصے میں ایک سیاسی قوت کا درجہ حاصل کرلیا ہے اور وہ ملک کے آنے والے ادوار کے خدوخال متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آچکے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کے بارے میں اب اُن کے بدترین مخالف بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ ان کی طوفانی یلغار کے سامنے روایتی سیاست کے پرچم برداروں اور موجودہ نظام کی چیرہ دستیوں کو جمہوریت کا نام دینے والوں کے قدم بری طرح اکھڑ چکے ہیں۔ اب عمران خان کو اپنی منزل کی طرف پیش قدمی کرتے رہنے کے لئے نہ تو کسی خفیہ اشارے کی ضرورت ہے ` اور نہ ہی کسی خفیہ سرپرستی کی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ آج ملک کی سیاست کا رخ متعین کرنے کے لئے جتنا اختیار روایتی ” پاور پلیئر“ یعنی عسکری قیادت کے پاس ہے ` اسی قدر اختیار عمران خان بھی اپنی بے پناہ مقبولیت کی بناءپر حاصل کرچکے ہیں۔
مطلب اس کا یہ ہوا کہ ایک باب کے اختتام کا مطلب یہ نہ لیاجائے کہ کہانی کا کلائمیکس آچکا ہے۔ یہ کہانی ابھی آگے جانی ہے۔ ٹرائے کی جنگ کا فیصلہ ابھی ہوناہے۔ ٹرائے والوں نے جیت کا جشن منانے میں ذرا جلدی کی تھی۔ یونانی محاصرہ ختم کرکے واپس نہیں گئے تھے۔ وہ ایک نئی موج میں ڈھلنے کے لئے پلٹے تھے۔ جیتنا ٹرائے والوں کا مقدر نہ تھا۔
چنانچہ ابھی نتائج اخذ کرنے کا وقت نہیں۔ کہانی کے اگلے باب کے شروع ہونے کے انتظار کا وقت ہے۔

Scroll To Top