اسلام بمقابل اسلام۔۔۔(حصہ اول)

مسلمانانِ عالم کے لئے یہ صورتحال ایک بڑے المیے سے کم نہیں کہ دنیا کے جن خطوں میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہا ہے ان میںزیادہ تر گولیاں کھانے والے بھی مسلمان ہیں اور گولیاں مارنے والے بھی مسلمان ہیں۔دلچسپی اور ستم ظریفی کی بات اس ضمن میں یہ ہے کہ کوئی بھی مثال ایسی نہیں کہ ایک مسلمان ملک نے دوسرے مسلمان ملک پر باقاعدہ حملہ کررکھا ہو ` جہاں جہاں بھی اور جتنی بھی خونریزی ہورہی ہے اندرونی طور پر ہورہی ہے۔ یعنی ایک ہی ریاست یا مملکت میں مسلمانوں کا ایک گروہ مسلمانوں کے دوسرے گروہ کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ عرف عام میں اس صورتحال کو خانہ جنگی کا نام دیا جاتا ہے۔زیادہ تر یہ خانہ جنگی مختلف گروہوں کے درمیان نسلی فکری یا مسلکی بنیادوں پر ہورہی ہے لیکن کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں ریاستی قوت ایسے عناصر کے خلاف برسرپیکار ہے جنہوں نے مختلف وجوہ کی بناءپر ریاستی رٹ کو اپنی خون آشامی کے نشانے پر لے رکھا ہے۔ اس نوعیت کی سب سے بڑی اور اہم مثال پاکستان کی ہے جہاں ریاستی طاقت ایسے عناصر کے ساتھ برسرپیکار ہے جن کے مقاصد میں سرفہرست وطنِ عزیز کی بنیادیں ہلانا اور اسے عدم استحکام اور عدم تحفظ کی گہرائیوں کی طرف دھکیلنا ہے۔ دہشت گردی اِن عناصر کا نصب العین نہیں ` بلکہ اِن کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ اس ملک کے وجود کے سامنے ایک خوفناک سوالیہ نشان کھڑا کر دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے حالات کو خانہ جنگی سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ بنیادی طور پر یہ ایک جارحانہ حملہ ہے جو ہمارے ریاستی وجود پر کیا گیا ہے اور اس جنگ میں جو حملہ آور پاک فوج کے ساتھ بالخصوص اور پوری قوم کے ساتھ بالعموم برسرپیکا ر نظر آرہے ہیں وہ بظاہر ہماری اپنی سرزمین کے فرزند نظر آتے ہیں مگر درحقیقت جن کی تربیت اسلحہ بندی اور کمان سرحد پار سے ہورہی ہے۔ وطن ِ عزیز کا سیکولر حلقہ اس ضمن میں یہ موقف اختیار کرتا ہے کہ فساد کی اصل جڑ ” اسلامی انتہا پسندی“ اور اس انتہا پسندی کی کوکھ سے جنم لینے والی وہ عسکریت پسندی ہے جس کے تانے بانے ایک ” اسلامی خلافت“ کے قیام کے خواب سے جاملتے ہیں۔ اگرچہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گرد تنظیموں میں ایسے عناصر بھی موجود ہوں جو ” حبِ اسلام “ میں تباہی و بربادی کا راستہ اختیار کرچکے ہوں۔ بالکل اسی طرح جس طرح اوائل اسلام میں خوا رج نے خانہ جنگی کا راستہ اختیار کیا تھا۔۔۔مگر بنیادی طور پر یہ عناصر بھی اُن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو اسلام کو اسلام سے لڑا کر ایک طرف پاکستان میں اسلامی ریاست کے قیام کا راستہ روکنا چاہتی ہیں اور دوسری طرف عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی مملکت کے محفوظ اور مستحکم ہونے کے بارے میں خطرناک نوعیت کے سوالات اٹھانا چاہتی ہیں۔
اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ صہیونیت نواز مغرب کی تمام تر حکمت عملیوں کا بنیادی مقصد ایک صدی سے اسلام کے ممکنہ سیاسی احیاءکے خلاف بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔ یہ موضوع بڑی جامع بحث اور تفصیلات میں جانے کا متقاضی ہے مگر یہاں میں سفرِ تاریخ کے چار ایسے مقامات کا ذکر کرنا کافی سمجھتا ہوں جہاں اور جب ” اسلام کا راستہ “ روکنے کے لئے بڑے دور رس اقدامات کئے گئے۔
آغاز یہاں میں گزشتہ صدی کے اوائل میں کی جانے والی ان حدبندیوں کا کروں گا جن کے تحت عثمانی کنٹرول سے نکلنے والے مشرق وسطیٰ کو ایسی مملکتوں میں تقسیم کردیا گیا جنہیں اپنی پسند کے حکمرانوں کے ذریعے پوری طرح ” قابو “ میں رکھا جاسکتا تھا۔ برطانوی وزارت خارجہ کے سیکرٹری بالفور کی نگرانی میں امریکی حکومت کی پشت پناہی کے ساتھ کی جانے والی اس تقسیم یا بندر بانٹ نے سعودی عرب ` عراق ` اردن اور شام کی مطلق العنان حکمرانیوں کو جنم دیا۔ تقسیم کے اس عمل کے ساتھ ہی بالفور ڈیکلریشن کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی پشت میںاسرائیل کا خنجر گھونپ دیا گیا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب آزادی اور خود مختاری کی رو چلی تو عالمِ اسلام کے ہر خطے میں مغرب کی خوشنودی کو آئین کا درجہ دینے والے حکمران اپنی مطلق العنان عملداریاںقائم کرچکے تھے۔ اس عمومی منظر نامے میں دراڑیں پہلے مصر میں جمال عبدالناصر کے انقلاب اور پھر عراق میں شاہ فیصل اور نوری السعید کا تختہ الٹے جانے سے پڑیں۔
مغرب بہرحال اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب ہوتا نظر آیا کہ اسلام کے ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرنے کا جو امکان 1928ءمیں اخوان المسلمین کے قیام اور حسن البنیٰ کے ظہور سے پیدا ہوا تھا وہ کہیں بھی مضبوطی سے جڑیں نہ پکڑ سکے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب میں ایک طاقتور بادشاہت اور مصر میں ایک شخصی نظام کی موجودگی میں ”اسلام “ کے ایک مضبوط ” سیاسی متبادل“ کے طور پر ابھرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا۔ مغربی سرمایہ دارانہ نظام نے اس دور میں اشتراکیت کے چیلنج کو بالآخر کچل دیا اور اس کے لئے جو سردجنگ لڑی گئی اس میں ” مغربی جمہوریت “ کو تمام انسانی معاشروں میں پائی جانے والی تمام برائیوں اور بیماریوں کا تیربہدف علاج ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ مغرب کا خیال تھا کہ جس طرح ” جمہوریت “ کے تصور نے اشتراکیت کو ناک آﺅٹ کیا اسی طرح اس کے مقابلے میں ” اسلام “ بھی نہیں ٹھہر سکے گا ۔ یہ خیال الجزائر کے 1991ءمیں ہونے والے انتخابات میں ایک بڑے امتحان سے گزرا۔
آزادی کے بعد الجزائر کے عوام پہلی بار ایک ایسے انتخابی عمل میں ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے جس میں بہت ساری سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی تھیں۔ ان جماعتوں میں الجزائر کی جنگ آزادی جیتنے والی ایف ایل این بھی تھی جو اس وقت حکومت میں تھی اور جس کا رحجان سیکولرزم کی طرف تھا۔ ایف ایل این کی قیادت شازلی بن جدید کررہے تھے۔ ایک جماعت جنگ آزادی کے ایک اور ہیرو حسین ایت احمد کی سربراہی میں حصہ لے رہی تھی جس کا نام سوشلسٹ فورسز فرنٹ تھا۔
(جاری ہے )
(یہ کالم اس سے پہلے بھی شائع ہوچکا ہے)

Scroll To Top