گر آپ کو اپنے علاج کے لئے مستند ڈاکٹر چاہئے تو پاکستان بچارے کا کیا جرم ہے ؟ 12-12-2009

جمہوریت میں بے شمار خوبیاں ہوں گی۔ آپ سینکڑوں تبصروں اور تحریروں میں ان کا ذکر سن یا پڑھ چکے ہوں گے۔ لفظی طور پر جمہوریت کی اصطلاح کا مطلب جمہور کی حکمرانی ہے۔مگر عملی طور پر جمہوریت کا یہ مطلب ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ دنیا میں آج تک عوام نے کبھی حکومت نہیں کی۔ البتہ ایسی حکومتیں ضرور قائم ہوئی ہیں جنہیں عوام کی حمایت حاصل رہی اور جو عوام میں مقبول رہیں۔ یہ کہنا البتہ بہت مشکل ہے کہ ایسی تمام حکومتیں ان ہی معنوں میں ” جمہوری“ تھیں جن معنوں میں ہمارے سیاستدان حکومتوں کو جمہوری کہتے ہیں ، یا جن معنوں میں ہمارے مغربی دوست حکومتوں کوجمہوری قرار دیتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کا خیال یہ ہے اور اس خیال سے مغربی اکابرین بھی اتفاق کرتے ہیں کہ جو حکومت انتخابات کے نتیجے میں قائم ہو وہ جمہوری ہوتی ہے ، خواہ قائم ہو جانے کے بعد وہ ان عوام کے ساتھ کوئی بھی سلوک کرے جن کے ووٹوں کے بل بوتے پر وہ قائم ہوتی ہے۔یہاں تھیوری اور عمل میں بڑا واضح فرق ہے۔ تھیوری میں تو حکومت واقعی عوام کے ووٹوں سے قائم ہوتی ہے ، لیکن عمل میں اس کا قیام و سائل اور دولت کی قوت سے ممکن بنتا ہے۔ پارلیمنٹ میں کتنے لوگ پہنچتے ہیں جن کے وسائل دس بیس کروڑ کی مالیت سے کم ہوتے ہیں ؟ اور عوام میںکتنے لوگ ہوتے ہیں جو یہ دعویٰ کرسکیں کہ انہوں نے زندگی میں دور سے بھی دس بیس کروڑ کی جھلک دیکھی ہے۔؟ میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک کی 95فیصد آبادی مہینے کے آخری ایام میں زیادہ تر اپنی دعاﺅں اور اپنی ” قوت صبر و برداشت“ پر بھروسہ کرتی ہے۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کی حکومت صرف ایک بارقائم ہوئی تھی اور وہ صرف چند دہائیوں تک قائم رہی۔ میری مراد یہاں اس حکومت سے ہے جو دنیا کی تقدیر بدل ڈالنے والی ہجرت کے بعدمدینہ میں قائم ہوئی۔ آنحضرتﷺ اس کے بانی ، اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) اس کے آخری سربراہ تھے۔ یہاں اس ضمن میں اموی خاندان کے حضرت عمر بن عبدالعزیز(رضی اللہ عنہ) کانام بھی لیا جاسکتا ہے جنہوں نے امور حکمرانی سنبھالتے ہی سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اپنی تمام دولت اورجائیداد بیت المال میں جمع کرادی اور پھر اپنے خاندان اور دوسرے امیر خاندانوں سے بھی ان کی ” اضافی“ دولت اور جائیداد لےکر بیت المال کو دے دی۔ میں یہاں عمر بن عبدالعزیز(رضی اللہ عنہ) کا ایک بیان درج کرناچاہوں گا۔
” اگر ایک شخص دو روٹیاں کھا کر زندہ رہ سکتا ہے کپڑوں کے دو جوڑوں میں گزارہ کرسکتا ہے تو دوسرے شخص کو دو سو روٹیوں اور دو سو جوڑوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے کہ وہ ان کے لئے مال جمع کرے۔؟“
یہ جمہوریت حقیقی جمہوریت تھی۔ اس دور کے بعد شاید کبھی عوام کو اس احساس کی طمانیت سے لطف اندوز ہونے کا موقع نہیں ملا کہ وہ واقعی حکمران ہیں۔
صرف حکمران ہی حکمران ہوتے ہیں ۔ اور ان کے نام ہوتے ہیں کبھی آصف علی زرداری تو کبھی میاں نوازشریف۔ کبھی جنرل ضیاءالحق توکبھی جنرل پرویز مشرف بھی۔
آپ انہیں طبقہ اشرافیہ میںشمار کریں یا طبقہ خواص و امرا میں۔ عوام وہ بہرحال نہیں ہوتے ۔
بات کا آغاز میں نے ان الفاظ سے کیا تھا کہ جمہوریت میں بے شمار خوبیاں ہوں گی مگر اس کی ایک خصوصیت خوبی ہرگز نہیں کہلا سکتی۔
ملک ایسے حکمرانوں کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے جن کی واحد اہلیت ان کی ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کیا آپ کسی ایسے سرجن سے آپریشن کرانا پسند فرمائیں گے جسے سی ڈی اے کے خاکروبوں نے ووٹوں کی اکثریت سے منتخب کیا ہو؟
اگر آپ اپنی زندگی ایسے سرجن کے رحم و کرم پر دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے تو بچارے پاکستان کا کیا قصور ہے؟

Scroll To Top