پی ٹی آئی فیملی، نظریاتی کم مفاداتی زیادہ

  • چھوٹی بڑی ہونے کے باوجود کھاتے وقت ہاتھ کی انگلیاں برابر ہو جاتی ہیں
  • عمران خان کو چین کی طرح اپنے ہاں بھی سیاسی کارکنوں کے لئے نظریاتی سکول قائم کرنا چاہئے
  • جہاں ملک کا بچہ بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض ہو وہاں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں ہوشربا اضافہ صریحاً ظلم ہے۔
  • پنجاب اسمبلی ، سات ماہ جوتیوں میں دال بٹتی رہی مگر مالی مفادات کے لئے سب شیرو شکر ہوگئے۔
  • ان ارب پتی کنگلوں اور نوسر بازوں سے خدا کی پناہ!


آہ!
میرے پیارے انصافیو!
کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے۔
مورخ لکھے گا،
جب ملک کی 60فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گھسیٹ رہی تھی۔
اور جس ملک میں 3کروڑ بچے وسائل میں کمی کے باعث سکول کا منہ تک دیکھ نہیں سکتے۔
اور جہاں بھوک، بیماری اور بے روزگاری کے باعث غریب کے خواب، سراب بنتے جا رہے ہیں۔
اور جہاں تمہارے لیڈر کی کفائت ، امانت اور دیانت کا یہ علام تھا کہ اس نے وزیر اعظم کے محل میں رہنے کی بجائے اپنے گھر میں قیام کو ہی ترجیح دی جس نے وزیر اعظم ہاو¿س کے اخراجات میں 30فیصد اخراجات میں کفائت کا شاندار معرکہ سرانجام دیا۔ اور اپنی تنخواہ اپنے سٹاف سے بھی کم یعنی ایک لاکھ روپے مقرر کی۔
وہاں تمہارے پنجاب اسمبلی میں براجمان منتخب نمائندوں نے کیا چن چڑھایا۔ اس کی تفصیل جان کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
پچھے سات مہینے کے دوران پنجاب اسمبلی میں، جہاں تمہارے سوا نون لیگ اور کچھ دوسری پارٹیوں کے ارکان بھی براجمان ہیں۔ کام کیا ہوا ہے، شبانہ روز ایک دوسرے پر الزام دشنام اتہام کے تھوبڑے برسانے، پٹ سیاپے، دستاویزات پھاڑنے اور سپیکر کے گھیراو¿ اور واک آو¿ٹ کا چلن رہا۔۔ اسمبلی کا اصل کام یعنی قانون سازی ۔۔ بلا خوف تردید کہتا ہوں اس باب میں رتی بھر کام نہیں ہوا۔کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے مگر یہ دونوں وصف تو تمہارے لئے شجر ممنوعہ بن چکے ہیں۔
ہاں مگر نہیں، قانون سازی میں ایک پیش رفت ضرور ہوئی اور وہ یہ کہ سات مہینوں سے جو ارکان اسمبلی جوتیوں میں دال بانٹ رہے تھے وہ اپنے لئے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے سلسلے میں متحد ضرور ہوگئے۔ اور یوں وہ محاورہ تازہ ہو گیا کہ چھوٹی بڑی ہونے کے باوجود کھانے کے وقت ہاتھ کی انگلیاں برابر ہو جاتی ہیں۔اور یہ تنخواہوں میں اضافہ کئی سوفیصد سے بھی زیادہ اور مراعات کا دائرہ اس قدر وسیع کہ ایک مقروض قوم میں رہنے والے باشعور عوام کے سرشرم سے جھک گئے۔
کاش کاش کاش، پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اکثریتی ارکان غریب اور مقروض قوم کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے سے پہلے ذرا اپنے عظیم لیڈر عمران خان کے وژن اور پالیسیوں کو ہی ذہن میں رکھ لیتے، کہاں ان کا رہنما سادگی، کفائت شعاری اور عوام کی غم گساری کا پیکر، اور جو ملک کے پسے ہوئے طبقات کو اوپر اٹھانے کے لئے شبانہ روز سرگرداں کاش آپ اس حقیقت کو ہی پیش نظر رکھ لیتے کہ آپ کے ملک کا رواں رواں اور بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔ بجٹ خسارہ عروج پر ہے، پاکستان کا بچہ بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ کا مقروض ہے۔ ایسے میں تم سب چند استثناو¿ں کے ساتھ، سوسائٹی کے متمول ترین افراد میں شامل ہوتے ہو، تمہیں حقیقت میں اس اضافی تنخواہ کی ہرگز کوئی ضرورت اور حاجت نہ تھی۔ مگر نہیں حرص و لالچ اور طمع نے تمہاری عقل پر ہزار پردے ڈالے رکھے۔
آہ میرے پنجاب کے نام نہاد حکمران جنہوں نے قومی خزانے کی لوٹ کھسوٹ کے وقت یہ بھی نہ سوچا کہ اس وقت پر تیس30کھرب روپے کے قرضوں کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ صرف غیر ملکی قرضوں کا حجم ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے۔ بجٹ خسارہ600ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود آپ لوگوں نے اپنے موجودہ مشاہرے ، مراعات اور دیگر مالی فوائد میں بعض حالتوں میں کئی سو گنا کا اضافہ کر لیا۔ اور وزیر اعلیٰ کے حق میں تو حاتم طائی کی قبر پر لاتیں مار مار کر حشر برپا کر دیا۔
آہ! کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔
اب ذرا پنجاب اسمبلی کے کھاتے پیتے صاحبان دولت وثروت کی عیاری، چالاکی اور مکاری کی خبرئیات کی تفصیل پر ایک طائرانہ نظر ڈالئے۔
وزیر اعلیٰ کی تنخواہ 59ہزار تھی جسے بیک جنبش قلم ساڑے تین لاکھ روپے کر دی گئی اور لاہور میں ذاتی مکان نہ ہونے کی صورت میں اسے تاحیات سرکاری مکان دے دیا جائے گا۔ 6سکیورٹی اہلکار، 25سو سی سی گاڑی، ڈرائیور،پرسنل سیکرٹری، دو کلرک، 10ہزار روپے ٹیلی فون الاو¿نس، صوبائی وزیر کی موجودہ تنخواہ 45ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ پچاس ہزار کر دی گئی ۔ جبکہ مہمانداری الاو¿نس40ہزار روپے کر دی گئی۔ ڈپٹی سپیکر36ہزار کی بجائے اب ایک لاکھ65ہزار روپے کر دیا گیا۔ رکن اسمبلی83ہزار روپے کی بجائے2لاکھ روپے اس کے علاوہ بے شمار مراعات، پارلیمانی سیکرٹری، سپیشل اسسٹنٹ اور مشیر کی تنخواہوں میں بالترتیب56،59اور54ہزار سے بڑھاتے ہوئے ایک لاکھ 47ہزار، ایک لاکھ85ہزار، اور ایک لاکھ 85ہزار کردی گئیں۔
مقام اطمینان ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی کی اس معاشی ”بدمعاشی“ کا بروقت نوٹس لیتے ہوئے انہیں اس روپے پر نظر ثانی کی ہدائت کر دی ہے۔
بات پھر وہی جو میں عرصہ دراز سے دہراتا چلا آرہا ہوں۔ پی ٹی آئی ایسا کنبہ ہے جس میں شامل لوگ نظریاتی کم مفاداتی زیادہ ہیں۔ خانصاحب کو اصلاح احوال کے لئے چین کی طرح اپنے ہاں بھی ایک نظریاتی سکول قائم کرناچاہئے۔ جہاں اپنے ارکان کے ذہنی غسل کا بندوبست ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو جو کچھ آج پنجاب میں ہوا وہ باقی صوبوں اور مرکز میں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔۔۔

Scroll To Top