چوہدری صاحب آپ تاریخ اور نواز شریف کوبیک وقت خوش نہیں کرسکتے!

چوہدری نثار علی میری نظروں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چند سلجھے ہوئے ذہین ،مہذب اور قابلِ برداشت لیڈروں میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر انہیں نہیں جانتا مگر اُن کی شہرت اچھی ہے۔ کبھی کبھی بڑی دلیری کے ساتھ سچ بھی بول جاتے ہیں۔ لیکن اِس بات کو بہرحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ میاں نواز شریف کی کابینہ کے وزیر ہیں۔ اُن کا انفرادی کردار کابینہ کے اجتماعی کردار سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہو سکتا۔ جتنا مختلف ہے وہی اُن کے اورباقی کابینہ کے درمیان کشیدگی رکھنے کے لئے کافی ہے۔ اِس بات پر چوہدری نثار علی خان کو بہرحال خراجِ تحسین ضرور پیش کرنا چاہئے کہ وہ اس مغل دربارمیں رہ کر بھی درباری نہیں بنے۔
میری خواہش ہے کہ وہ آج پریس کانفرنس نہ کرتے جس کا لوگوں کوبڑی شدت سے انتظارتھا۔ اگر وہ چپ رہتے تو زیادہ مناسب ہوتا۔ پھر انہیں سچ کو چھپانے کے لئے اِدھر اُدھر سے دلائل اکٹھے کرکے پیش نہ کرنے پڑتے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں زیادہ زور اس بات پر دیا کہ فوجی قیادت اورسول قیادت کے درمیان کبھی تلخ باتیں نہیں ہوتیں حتیٰ کہ چوہدری نثار علی ،شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی آرمی چیف سے ملاقات بھی نہایت خوشگوارتھی!
یہ کون نہیں جانتا کہ فوج اپنی تلخی کا اظہار گرج برس کر نہیں کرتی وہ تویہی کہے گی کہ ہمیں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا انتظار ہے۔ وہ تو یہی پوچھے گی کہ قومی سلامتی میں شگاف ڈالنے والی خبر کی تحقیقات میں اتنی لمبی تاخیر کیوں؟ فوج گُھور گُھور کر وفاقی وزراءاور وزیر اعظم کی طرف نہیں دیکھے گی۔ اور نہ ہی وفاقی وزراءآرمی چیف سے کہیں گے کہ ”جناب یہ کیا حرکت تھی؟“
حکومت کے پاس مشاہد اللہ خان اور رانا افضل جیسے ”جمہوریت پسندوں“ کو سامنے لانے کا آپشن موجود ہوتاہے۔
بہرحال میں بات لمبی نہیں کرنا چاہتا۔ چوہدری نثارسے صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوںکہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ پرویز رشید صاحب کو صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ خبر چھپوانے میں ان کا ہاتھ تو ضرور ہوگا۔ مگر”خبر سازی“ کا کام کسی اور نے کیا۔ کوئی ایسا شخص جو بھارت کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہتا تھا۔
پرائم منسٹر ہاﺅس میں ایسا شخص کون ہوسکتا ہے۔؟
اس سوال کا جواب مشکل نہیں ہونا چاہئے۔ مگر چوہدری نثار علی اسے بہت مشکل بنارہے ہیں۔ اس لئے مشکل بنا رہے ہیں کہ جھوٹ کا وکیل ہونا آسان نہیں ہوتا۔
اور جھوٹ کی وکالت چوہدری صاحب نے دھرنے کے بارے میں گوہر افشانیاں کرتے وقت بھی کی۔
چوہدری صاحب آپ تاریخ اور نواز شریف کوبیک وقت خوش نہیں کرسکتے!

Scroll To Top