خدا نہ کرے کہ مولانا کی شِدت آرزو اس انتہا کو نہ پہنچ جائے کہ انہیں اپنے گھر میں مجرا دکھائی دے ! 21-10-2014

بات میں بڑی سخت لکھنے لگا ہوں ` الفاظ بھی خاصے سخت استعمال کروں گا لیکن جب مولانا فضل الرحمن قوم کی ان بہو بیٹیوں پر مجرا کرنے کا الزام لگاتے ہیں جو ایک فاسد اور فرسودہ نظام کے خلاف قومی تحریک میں ہر اول دستے کا کردار ادا کررہی ہیں تو ان کی اپنی ہی زبان میں ان کی بات کا جواب ہمیں خود بخود مل جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر خبث باطن کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کے دھرنوں میں مجرے ہوتے ہیں۔ یقینی بات ہے کہ مولانا فضل الرحمن مجروں سے خوب واقفیت رکھتے ہیں۔ورنہ دھرنوں میں خواتین کا جوش و خروش دیکھ کر اُن کا دھیان مجروں کی طرف نہ جائے۔ کسی سیانے نے خوب کہا ہے کہ آدمی وہی کچھ دیکھتا ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ آدمی کی ظاہری آنکھیں بھی وہی کچھ دیکھتی ہیںجو اس کی باطنی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ مولانا کی ”شِدت آرزو“ اِس انتہا کو نہ پہنچ جائے کہ انہیں خود اپنے گھر کی بہو بیٹیوں پر ” مجروں “ کا گماں ہو۔
لیکن یہ وہ بات نہیں جو میں کہنا چاہتا ہوں۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ یوں تو وطنِ عزیز میں ” سیاسی طوائفوں “ کی کوئی کمی نہیں مگرمولانا کو ساتھ ہی ساتھ یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ” دینی رہنما “ بھی ہیں۔ اللہ اِس قوم کو اُن کی ” رہنمائی “ سے محفوظ رکھے کیوں کہ میرے نزدیک وہ مولوی جو ” دین “ بیچتا ہے اس طوائف سے زیادہ بدبودار ہوتا ہے جو صرف جسم بیچتی ہے۔ جسم تو پانی میں دُھل کر صاف بھی ہوجاتا ہے` ” دین “ پر لگے داغ کیسے دُھل سکتے ہیں ؟
میں خود اُس مکتبہ ءفکر سے تعلق رکھتا ہوں جس کے خیال میں صنف نازک کا عمومی سماجی رویہ اُن حدود کے اندر رہناچاہئے جو ہماری جانی پہچانی اقدار نے متعین کررکھی ہیں۔ لیکن ” اللہ ہُو“ اور ” بن کر رہے گا نیا پاکستان “ کی صداﺅں سے جڑی موسیقی میں مولانا کو وہ مُجرا کیوں دکھائی دیتا ہے جس کی طلب انہیں بے چین رکھتی ہے ؟

Scroll To Top