بادشاہوں کے جانشین!۔۔۔(حصہ دوم)

میں 1993ءکی انتخابی مہم کے دوران کلیدی طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ منسلک رہا۔ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے 1990ءکی انتخابی مہم میں اُن کا مکمل اعتماد حاصل کیا تھا۔ اس اعتماد کا اظہار1993ءکی انتخابی مہم کے دوران محترمہ بڑے بھرپور انداز میں کرتی تھیں۔
ایک گفتگو کے دوران میں نے اُن سے پوچھا۔ ” بیگم صاحبہ سندھ میں اپنے بیٹے کی حمایت کیوں کررہی ہیں۔؟“
جواباً محترمہ بڑے تلخ انداز میں مسکرائیں اور بولیں۔
” ہمارے معاشرے میں بیٹی خواہ کتنی ہی قابلیت کیوں نہ رکھتی ہو اس کا مقام ماں کی نظروں میں بیٹے سے ہمیشہ کم ہی ہوتا ہے `خواہ وہ کس قدر ہی نالائق کیوں نہ ہو۔“
مجھے یہ بات آج اس لئے زیادہ شدت کے ساتھ یاد آرہی ہے کہ آج پھر پاکستان پیپلزپارٹی ” جانشینی “ کے مسئلے کا ہی سامنا کررہی ہے۔ اس ضمن میں مجھے وہ انتخابی نعرہ بھی یاد آرہا ہے جو 1993ءکی مہم میں محترمہ نے سندھ میں بڑی کثرت کے ساتھ استعمال کرایاتھا۔
پیر کا نہ میر کا ۔۔۔ووٹ بے نظیر کا
پیر سے مراد پیر پگاڑا تھی اور میر سے میر مرتضیٰ بھٹو !آج پی پی پی جانشینی کے جس مسئلے کا سامنا کررہی ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ اب یہ بات پوری قوم کے ساتھ ساتھ جناب آصف علی زرداری کے علم میں بھی آچکی ہے کہ ان کے فرزند ارجمند بلاول بھٹو زرداری کو اللہ تعالیٰ نے اُن صلاحیتوں سے مالا مال کرکے پیدا نہیں کیا جن کے بغیر بھٹو خاندان کی سیاسی جانشینی کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر زرداری اس مقصد کے لئے اپنی زیادہ تر توجہ اپنی چھوٹی بیٹی آصفہ کی ” گرومنگ“ (Grooming)پر صرف کررہے ہیں۔ اگر یہ بات فرض بھی کرلی جائے کہ آصفہ میں کسی حد تک مطلوبہ ” جوہرِ قابل “ موجود ہے تو بھی انہیں حقیقی ” سیاسی بلوغت “ تک پہنچنے میں خاصا وقت لگے گا۔ تب تک پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کیا شکل اختیار کرچکا ہوگا اس کے بارے میں آج کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی۔
بظاہر آج یوں لگ رہا ہے کہ پی پی پی کا سیاسی مستقبل اب سندھ تک محدود ہوچکا ہے۔ اور جس قسم کی کارکردگی پی پی پی نے گزشتہ پانچ برس کے دوران دکھائی ہے ` اسے سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو اس بات کا امکان بہت ہی کم نظر آتا ہے کہ آصفہ معجزاتی طور پر بے نظیر بھٹو ثانی بن سکتیں ہیں۔
پاکستان میں ایک دوسرا حکمران خاندان بھی ہے جسے اِسی انداز میں ” جانشینی “ کے مسئلے کا سامنا ہے۔ میری مراد شریف خاندان سے ہے۔میاں نوازشریف کی قائدانہ حیثیت مسلّمہ ہے۔ میاں شہبازشریف ہمیشہ اُن کے سائے میں ہی کام کرتے رہیں گے۔ مگر آگے مستقبل کس کا ہے ۔؟ کچھ عرصہ پہلے تک حمزہ شہبازشریف کا نام لیاجارہا تھا ۔ اب اُن کے بھائی سلیمان شہباز بھی سامنے آرہے ہیں جو ہر لحاظ سے زیادہ باصلاحیت دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اگر جانشینی کی مسلّمہ روایات کو سامنے رکھا جائے تو میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نوازشریف بھی اپنے سیاسی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کرچکی ہیں۔آنے والے ادوار میں تخت پر کون بیٹھے گا اور تاج کس کے سر پر سجے گا ` اس کا صحیح اندازہ آج اس لئے نہیں لگایا جاسکتا کہ دنیا میں تبدیلیاں بڑی تیزی کے ساتھ رونما ہورہی ہیں۔ کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ دس سال بعد پاکستان کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا۔۔۔!
(یہ کالم اس سے پہلے بھی شائع ہوچکا ہے)

Scroll To Top