جب پیشہ ورانہ فرائض میں حقائق کوجھٹلانا شامل ہوجائے! 18-10-2014

جب آدمی نتائج پہلے اخذ کرلے اور اس کے بعد حقائق کاجائزہ لے اوردلائل تخلیق کرے تو عموماً اس کا حال وہی ہوتا ہے جس میں میں آج کل عمران خان کے ” پیشہ ور “ ناقدین کو مبتلا دیکھ رہا ہوں۔ ” پیشہ ور “ کی اصطلاح میں یہاں جان بوجھ کر استعمال کررہا ہوں کیوں کہ ضروری نہیں کہ یہ اصطلاح صرف طوائف کے لئے مخصوص ہو ¾ یا پھرکسی ایسے ” عالمِ دین “ کے لئے جو اپنے دینی تشخص کی تجارت کرتا ہو۔ یہ اصطلاح ایسے لوگوں کے لئے بھی استعمال ہوسکتی ہے جو کسی مخصوص قسم کے فرائض کی ادائیگی پر مجبور ہوں۔ یہ مجبوری ” افتادِ طبع “ کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ آدمی ” متعلقہ “ فرائض کی ادائیگی کا معاوضہ وصول کرچکا ہوتا ہے۔
میرے سامنے اس وقت دو بیانات ہیں۔ ایک بیان وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشیدکا ہے اور دوسرا سینئر تجزیہ کار اور معروف ” دانشور“ جناب طلعت حسین کا۔ دوسرا بیان ایک ٹویٹ کی صورت میں سامنے آیا ہے جو کچھ یوں ہے۔
” عامر ڈوگر کی کامیابی نے عمران خان کو اس امتحان میں ڈال دیا ہے کہ وہ موصوف کو اس اسمبلی میں کیسے بھیجیں جس سے تحریکِ انصاف کے باقی سارے ارکان استعفیٰ دے چکے ہیں۔“
طلعت حسین کو جب بھی عمران خان کے بارے میں کچھ کہنا ہوتا ہے تو اُن کی سوچ خودبخود زہریلی ہوجاتی ہے جس کا سبب مجھے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یا تو طلعت حسین کو اس کا کوئی معاوضہ ملتا ہے یا پھر عمران خان نے کسی تقریب میں انہیں نظر انداز کرکے ان کی انا کو مجروح کیا ہوگا۔ جب کوئی ذہین آدمی انا پرست بن جاتا ہے تو وہ طلعت حسین کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جہاں تک معاوضے والی بات ہے میرا دل نہیں مانتا کہ طلعت حسین ¾ جاوید چوہدری کی سطح کے ” دانشور “ ہیں۔
طلعت حسین کو اگر کوئی الجھن ہے تو میں اسے دور کرنے کے لئے کہنا چاہتا ہوں کہ ملتان کے معرکے کا مقصد عامر ڈوگر نامی ایک شخص کو کامیاب کرا کے اسمبلی میں لانا نہیں ¾ جاوید ہاشمی نامی ایک شخص کو اس کی غداری اور بے ضمیری کی سزا دینا تھا۔
جناب پرویز رشید نے بھی معرکہ ءملتان کو ہی موضوعِ سخن بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں جتنی کم تعداد میں لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے اور ٹرن آﺅٹ جس قدر مایوس کن تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مڈٹرم الیکشن سے عوام کو کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی وہ اس کے لئے تیار ہیں۔
اسے سادگی کہا جائے یا کچھ اور۔ پرویز رشید صاحب یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ عوام نے جاوید ہاشمی کی ” بغاوت“ کے ساتھ ساتھ نون لیگ کو بھی مسترد کردیا ہے۔ ماہرین یہ فرما رہے تھے اور نو ن لیگ کے حلقوں میں یہ تاثر مقبول پایا جاتا تھا کہ ٹرن آﺅٹ جتنا کم ہوگا ¾ جاوید ہاشمی کی کامیابی کے امکانات اسی قدر زیادہ ہوں گے۔ یہ درست ہے کہ پی ٹی آئی کے ووٹر بہت بڑی تعداد میں نہیں نکلے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پی ٹی آئی کی زندگی اور موت کا نہیں ¾ نون لیگ کی زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ میرے خیال میں جناب پرویز رشید کو ایک ضمنی انتخاب میں 14ہزار ووٹوں کے فرق کو کافی سمجھ لینا چاہئے ¾ اگر فرق چالیس ہزار ووٹوں کا ہوتا تو نون لیگ کو نجانے کون کون سے نتائج اخذ کرنے پڑتے اور کیسے کیسے دلائل ایجاد کرنے کی ضرورت پیش آتی ۔۔۔؟

Scroll To Top