بڑے مجرموں کا نہ تو کبھی ضمیر جاگتا ہے اور نہ ہی اُنہیںتشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ! 16-10-2014


ایک بڑی فکر طلب اور اندوہناک خبر ہے۔ ایک نوجوان عتیق خالد دس روز تک پولیس ریمانڈ میں رہنے کے بعد ہسپتال جاکر دم توڑ گیا۔ اس بدقسمت نوجوان کو سائبر کرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا۔ بدقسمت میں اسے اس سے لئے کہہ رہا ہوں کہ اگر وہ بے قصور مارا گیا تو اس کی بدقسمتی پر کس کو شبہ ہوگا ؟ اور اگر وہ قصور وار تھا تو بھی کیا اس کا مبیّنہ جرم اتنا بڑا تھا کہ اسے دنیا سے ہی رخصت کردیاجاتا۔؟
پولیس اس بات کی یقینا تردید ہی کرے گی مگر اس قسم کے معاملات میںموت کا سبب ہمیشہ تشدّد ہی ہوا کرتا ہے۔
میں نے اس المناک واقعہ کو موضوع قلم اس لئے بنایاہے کہ ہمارے ملک میں اُن اداروں کا کردار سامنے لایا جائے جو قانون کے نفاذ اور قانون کے تحفظ کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور جن کے ”دائرہ کار “ میں ” جرم و سزا “ کے معاملات آتے ہیں۔
دنیا بھر میں سزا ہمیشہ عدلیہ دیاکرتی ہے مگر پاکستان میں سزا دینے کا اختیار پولیس کو بھی حاصل ہوچکا ہے۔ اور یہ اختیار پولیس کے پاس اس لئے پہنچا ہے کہ پولیس کو سیاستدان یا حکمران اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے پولیس اپنے آپ کو اپنی قانونی حدود سے کہیں زیادہ با اختیار سمجھنے لگی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ عدلیہ ” عتیق خالد “ کے قتل کانوٹس نہیں لے گی۔ اگر معاملہ میڈیا نے اچھالا تو شاید بات آگے تک جائے۔ اُس صورت میں بھی کچھ عارضی معطلیاں ہوں گی اور پھر ” کاروبارِ مملکت “ حسب معمول اپنے ” طے کردہ “ راستے پر چلتا رہے گا۔
یہاںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ملزم پر پولیس تشدّد کیوں کرتی ہے۔ تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ یہاں گرفتاریاں ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر نہیںہوتیں بلکہ ” شبہ “ یا ” بدنیتی“ کی بنیاد پر ہوتی ہیںاور سارا انحصار ” اقبالِ جرم “ پر کیاجاتا ہے۔
اقبالِ جرم آدمی صرف دو صورتوں میں کرتا ہے ایک تو اِس صورت میں کہ اس کا ضمیر جاگ جائے۔ اور اِس کے علاوہ اِس صورت میں کہ تشدّد اس کے لئے ناقابلِ برداشت ہوجائے۔ضمیر کسی بھی ملزم یا مجرم کا نہیں جاگتا خوا ہ اس پر الزامات ” قومی نوعیت “ کے ہوں۔ جیسے ہمارے اکثر حکمرانوں اور سیاستدانوں پر لگتے رہتے ہیں۔ چھوٹے اور بے بس لوگ تو تشدّد کی شدت کے سامنے ہتھیار ڈال کر ان جرائم کا اقبال بھی کرلیا کرتے ہیں جو اُن سے سرزد نہیں ہوئے ہوتے۔ مگر بڑے لوگوں کو تشدّ’ کا نشانہ بنانے کی ہمت کون کرسکتا ہے ؟ اس ضمن میں آپ کو زرداری صاحب کی زبان کٹنے کا واقع یاد آرہا ہوگا لیکن وہ بھی ایک ڈھونگ ہی تھا۔
بڑے مجرم کبھی سزا نہیں پا سکیں گے کیوں کہ وہ نہ تو کبھی ضمیر کے دباﺅ میں اور نہ ہی تشدّدکی چھری تلے آکر اقبالِ جرم کریں گے۔
سزا پانا صرف عتیق خالد جیسے لوگوں کا مقدرہوتا ہے ۔ خواہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہو یا نہ کیا ہو !

Scroll To Top