منی لانڈرنگ کیس اسلام آباد منتقل: ملزمان کی حفاظتی ضمانتیں منسوخ،زرداری ،بلاول 20مارچ کوطلب

  • آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا سندھ ہائی کورٹ سے ضمانتیں کروانے کا فیصلہ ،بینکنگ کورٹ نے ذوالقرنین مجید، علی مجید، نمر مجید اور دیگر ملزمان کی عبوری ضمانتیں بھی منسوخ کر دیں
  • آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا مقررہ تاریخ پر نیب کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ،کیس اسلام آباد منتقل ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ شریک چیئرمین پی پی پی آصف علی زرداری کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(الاخبار نیوز) نیب نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کو 20 مارچ کو طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، نیب نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کو جعلی اکاو¿نٹس کیس میں 20 مارچ کو طلب کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نیب کی جانب سے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کو نوٹس جاری کردئیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری 20 مارچ کو نیب کے سامنے پیش ہوں گے۔دریں اثناءکراچی کی بینکنگ کورٹ کے جج طارق کھوسہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، ڈاکٹر فریال تالپور اور دیگر ملزمان کے خلاف میگا منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس کراچی سے اسلام آباد کی احتساب عدالت منتقل کرنے کی چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی درخواست منظور کر لی۔ جبکہ بینکنگ کورٹ نے آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانتیں بھی خارج کر دیں۔سماعت کے دوران عدالت نے میگا منی لانڈرنگ کیس کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے سے متعلق نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا، عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے آصف زرداری کے خلاف کیس کو اسلام آبادمنتقل کرنے کا حکم دیا،عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی زر ضمانت واپس لے لیں اور ملزمان کو ہدایت دی ہے کہ اب مقدمہ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں چلے گا ۔ جبکہ عدالت نے ذوالقرنین مجید، علی مجید، نمر مجید اور دیگر ملزمان کو عبوری ضمانتیں دینے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا۔ عدالت کی جانب سے کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے وقت آصف علی زرداری اور فریال تالپور عدالت میں موجود نہیں تھے تاہم بعد میں آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہو گئے ۔ عدالتی فیصلہ کے بعد آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے کیس میں سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔بینکنگ کورٹ کے فیصلہ کی کاپی موصول ہونے کے بعد کیس کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔فیصلے کے بعد انور مجید کے بیٹے نمر مجید، ذوالقرنین اور علی کمال گرفتاری کے خوف سے عدالت سے چلے گئے۔ آصف زرداری اور فریال تالپورکے وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکمت عملی طے کی جارہی ہے میں سمجھتا ہوں نیب کے پاس گرفتاری کا اختیار ہے۔لیکن انوسٹی گیشن کا اختیار نیب کے پاس موجود نہیں ہے۔ایف آئی اے کی درخواست اب نیب کورٹ میں ریفرنس کے طور ٹریٹ کی جائے گی۔نیب عدالت کو اختیار ہے کہ ملزمان کے وارنٹ جاری کرے یا سمن جاری کرے۔دوسری جانب آصف زرداری کیس کے سلسلے میں بینکنگ کورٹ میں پیش ہوئے اور اپنی آخری حاضری لگائی۔اس موقع پر صحافی نے سابق صدر سے سوال کیا کہ آپ کا کیس اسلام آباد منتقل ہوگیا ہے اس پر کیا کہیں گے؟ اس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ کیس ٹرانسفر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ججز اور ماہرین وکلا ہی اس بارے میں اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ واضح رہے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے بینکنگ کورٹ میں دائر درخواست میں مﺅقف اختیار کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے بعد معاملہ جے آئی ٹی کے بعد نیب کے حوالہ کر دیا گیا ہے اس لئے ایف آئی اے اب اس کیس کو بینکنگ کورٹ میں نہیں چلا سکتی۔میگا منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاﺅنٹس کے معاملہ کی تحقیقات اب نیب کرے گا اس لئے کیس نیب کو منتقل کیا جائے۔ تاہم آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے وکلاءکا کہنا تھا کہ سپریم کو رٹ نے نیب حکام کو تحقیقات کا حکم دیا تھا مقدمہ منتقل کرنے اجاز ت نہیں دی گئی تھی اس لئے درخواست منظور نہ کی جائے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے مقدمہ اسلام آباد کی احتساب عدالت منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ عدالت نے 11 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو جمعہ کے روز سنایاگیا۔ ادھر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کےخلاف میگا منی لانڈرنگ کیس اسلام آباد منتقل ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز پیپلزپارٹی کے سابق صدر آصف علی زرداری نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کےخلاف میگا منی لانڈرنگ کیس کو اسلام آباد منتقل ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ کیس اسلام آباد منتقل کرنے کا مقصد مجھے نہیں پتا لیکن قانونی ماہرین ضرور بتا سکتے ہیں۔

Scroll To Top