امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے، عمران خان

  • جمہوریت نہیں بڑے ڈاکو خطرے میں ہیں، کوئی این آر او نہیں ملے گا ،اگلے 30 دن کے دورا ن بھارت میں الیکشن سے پہلے کسی کارروائی کا خدشہ ہے
  • کشمیر یوں پر جار ی بھارتی مظالم ساری دنیا دیکھ رہی ہے، قبائلی علاقے کے عوام اپنی حفاظت کیلئے تیار رہیں،سکیورٹی فورسز بھی ہائی الرٹ ہیں،وزیراعظم کا باجوڑجلسے سے خطاب

پشاور(آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت نہیں بلکہ بڑے بڑے ڈاکو اور چور خطرے میں ہیں،قومی دولت لوٹنے والوں سے این آر او ، ڈیل اورکوئی مفاہمت نہیں کریں گے ، ملک کی بہتری اور خوشحالی کیلئے مودی سمیت ہر ایک سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں ۔اگلے 30 دن کے دورا ن بھارت میں الیکشن سے پہلے کسی کارروائی کا خدشہ ہے، ہمیں دھیان رکھنا پڑے گا، بدقسمتی ہے کہ ہندوستان کی ایک جماعت الیکشن نفرتیں پھیلا کر جیتنا چاہتی ہے ،پاکستان قوم امن چاہتی ہے ہم سب ہمسایوں سے امن چاہتے ہیں، ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن اسے کوئی غلطی سے بھی کمزوری نہ سمجھے،کشمیر کے لوگوں پر جو ظلم ہورہا ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے، قبائلی علاقے کے عوام اپنی حفاظت کیلئے تیار رہیں،سکیورٹی فورسز بھی ہائی الرٹ ہیں،اگر ہم نے اپنے قبائلی علاقوں کی مدد نہیں کی اور پیسہ خرچ نہیں کیا تو ہمارے دشمن قبائلی علاقے میں انتشار پھیلانے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کریں گے۔جمعہ کو وزیراعظم نے باجوڑ میں جلسہ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں باجوڑ کے نوجوانوں بزرگوں کا شکرگذار ہوں کہ اتنی بڑی تعداد میں آپ حضرات جلسہ گاہ آئے اور میرا شاندار استقبال کیا ، 27سال قبل میں اس خوبصورت علاقے باجوڑ آیا تھا ۔ میں بہت پہلے باجوڑ آنا چاہتا تھا لیکن حالات ٹھیک نہیں تھے لیکن آج باجوڑ کے لوگوں کاجذبہ و جنوں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی ۔ جنگ سے قبائلی علاقے تباہ ہوکر رہ گئے ہیں یہاں کے لوگوں کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ان کے روزگار تباہ کردیے ہیں ۔ ان کے مال مویشی ،بازار سب کچھ تباہ ہوکر رہ گیا ۔ لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی ، ہم سب جانتے ہیں کہ کتنی مشکل صورتحال درپیش ہیںانشاءاللہ قبائل کے آسانی کا وقت شروع ہوگیا ہے۔ مشکل سے قبائلی علاقے کے لوگ نکل چکے ہیں۔ہندوستان میں الیکشن ہوررہا ہے اور ایک جماعت نے غلط طریقے سے الیکشن جیتنے کیلئے ہمارے ملک پر حملہ کیا ۔ہم امن اور خوشحالی لانا چاہتے ہیں ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن واضح کردوں کہ کوئی اس کو غلطی کو کمزوری نہ سمجھے ، یہ قوم امن چاہتی ہے اور ہم بار بار ہندوستان سے کہتے ہیں کہ ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنے آزادی کیلئے ڈٹ گئے ہیں ۔ اگلے 30 دن ہمارے لیے بڑے اہم ہیں ، ہمیں ملک کی دفاع پر دھیان دینا پڑے گا کیونکہ ہندوستان میں الیکشن ہورہے ہیں وہ کسی بھی وقت حملہ کرسکتے ہیں لہذا اپنے وطن کے دفاع کیلئے آپ تیار رہیں۔ انشاءاللہ باجوڑ کے عوام شعور رکھتے ہیں۔ پہلا کام میں باجوڑ میں انٹرنیٹ کے بحالی کا اعلان کرتا ہوں۔ قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی ہے لہذا میں پنجاب اور دیگر صوبوں سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ این ایف سی ایوارڈ دینگے۔ سندھ اور بلوچستان سے کہتا ہوں کہ قبائل نے پورے پاکستان کیلئے قربانیاں دی ہم نے اگر قبائلی علاقوں کی مدد نہیں کی اور یہاں روپیہ خرچ نہ کیا تو ہمارے دشمن قبائلی علاقوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ دو صوبوں سے بات کروں گا کہ ہمیں این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ دے سکے۔زندگی میں اچھے اور برے وقت بھی آتے ہیں۔ اس وقت ملک معاشی بحران سے گذر رہا ہے۔ یہ کیوں ہے کیونکہ پچھلے دس سال میں دو جماعتوں نے ملک کا قرضہ 6ہزار ارب سے بڑھاکر 30ہزار ارب روپیہ کردیا۔ دس سالوں میں دو جماعتوں نے ملک کا وہ حشر کیا جو دشمن بھی نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہیں جمہوریت خطرے میں نہیں بلکہ ڈاکو خطرے میں ہیں ملک کے بہتری کیلئے مودی سے بات چیت کرنے کو تیار ہوں۔ افغانستان والے تو ہمارے بھائی ہیں۔ 1965میں ایران ہمارے ساتھ کھڑا تھا۔ ایران دوست ہے ۔لیکن کبھی کرپٹ بندوں کے ساتھ مفاہمت نہیں کرونگا۔ جن لوگوں نے عوام کا پیسہ لوٹا ان سے بالکل بھی بات نہیں کرونگا۔ جو پیسہ عوام پر خرچ ہوتا تھا وہ کرپٹ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا۔ دو این آر اوز نے ملک کو نقصان پہنچایا۔ دو این آر اوز کے وجہ سے ملک کا قرضہ 6ہزار ارب سے بڑھ کر 30ہزار ارب ہوگیا۔قبائلی علاقوں کو علاقہ غیرکہا جاتا تھا ۔ 75فیصد لوگ غربت کے لکیر کے نیچے تھے۔ نہ کوئی انڈسٹری نہ کوئی یونیورسٹی ، اللہ کاکرم ہے کہ قبائلی علاقہ ضم ہوگیا۔ پہلے نہیں کرسکتے تھے لیکن آج خوشخبری دینا چاہتا ہوں۔ تھوڑا صبر کرنا پڑے گا۔ کیونکہ گھر کے اوپر خرچہ چڑھ گیا ہے۔ ہماری سرمایہ کاری کریں گے۔ سب سے پہلے لوگوں کی تعلیم اور صحت پر خرچ کریں گے۔ لیویز اور خاصہ دار کو کسی صورت بے روزگار نہیں کریں گے۔ پولیس کے اندر ضم کرینگے۔ آپ خوش ہونگے۔بجلی کا مسئلہ بھی حل کرتے ہیں ۔ باجوڑ کے تمام مسجدوں کو سولرائز کریں گے۔ قبائلی اضلاع میں 8ہزار نئی نوکریاں دیں گے ، باجوڑ اور مہمند میں فاٹا یونیورسٹی کا کیمپس بنائیں گے۔ باجوڑ کو سوات ایکسپریس وے سے منسلک کریں گے۔ چھوٹی انڈسٹری کیلئے انڈسٹریل زون بنائیں گے۔ ووکیشنل ٹریننگ سنٹر کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔ اورلوگوں کو ٹریننگ دے کر روزگار کے موقع فراہم کریں گے۔ قبائلی ضلع باجوڑ کے عوام کیلئے 2ارب روپے کے میگا پراجیکٹ کا اعلان کرتا ہوں۔ انضمام کا عمل آسان نہیں یہ ایک بہت بڑاچیلنج ہے تبدیلی میں تھوڑا ٹائم لگے گااور آپ نے صبر کرنا ہے ۔ پورے باجوڑ کے لیے صحت کارڈ جاری کیے جائیں گے۔ ہر گھر میں ایک صحت کارڈ ہوگا جس سے آپ سات لاکھ روپے کا مفت علاج کراسکیں گے۔ وزیراعظم نے باجوڑ کے ترقی کیلئے 2ارب روپے ، تھرجی فورجی سروس فوری بحال ، باجوڑ میں فاٹا یونیورسٹی کیمپس کے قیام ،غاخی پاس بارڈر کھلنے اور برنگ روڈ کو سوات ایکسپروس وے سے منسلک کرنے کے اعلانات بھی کیے۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا کہ جس مقصد کیلئے آپ نے ووٹ دیا ہے اس کے معیار پر پورا اتریں گے ، پختونوں کے نام پر لوگوں کو سیاست کے مواقع ملیں لیکن انہوں نے ہم پر صرف بم برسائے اور ہمیں بے گھر کیا ، سوات اور باجوڑ کا ایک جیسا حال ہے۔ پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والوں کا دور گذر چکا ہے ، اب صرف پی ٹی آئی راج کرے گی کسی کو این آر او نہیں ملے گا ۔ اب ہمارے سکول اور ہسپتال آباد ہونگے ، ویران سڑکیں آباد ہوں گی۔ اپنے بچوں کو بندوق کے بجائے قلم دیں گے۔

Scroll To Top