اگر امیر بننا ہے تو پاکستان حاضر ہے اور اگر غریب رہنا ہے تو بھی پاکستان حاضر ہے! 15-10-2014


بڑی غور طلب بلکہ اندوہناک خبر ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نے بہت ہی زیادہ پرُ کشش معاوضوں اور مراعات پر 50کنسلٹنٹس کی ” خدمات “ حاصل کررکھی ہیں جن کا کام غالباً یہ ہے کہ غربت میں اضافہ کیسے کیا جائے تاکہ تعداد میں بڑھتے ہوئے غریبوں کو بے نظیر کے نام پر امداد دی جاسکے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ امداد ایک ہزار روپے ماہانہ کی صورت میں مل رہی ہے یا کچھ اضافہ ہوچکا ہے مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ میاں نوازشریف نے اس ” غریب دوست “ پروگرام کا نام تبدیل نہیں کیا تاکہ وہ مفاہمت جس کے نتیجے میں زرداری صاحب اور میاں صاحب کے درمیان باری باری حکومت کرتے رہنے کا معاہدہ طے پاچکا ہے متاثر نہ ہو۔
یہ خبر اسد کھرل کی ایک ٹویٹ کا موضوع بھی بنی ہے۔ اس پر رﺅف کلاسرا نے دنیا نیوز میں اپنے اور سعید قاضی کے پروگرام ” خبر یہ ہے “ میں تبصرہ بھی کیا ہے۔ سعید قاضی نے اس خبر کے ” مرکزی خیال “ سے متاثر ہو کر یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کانام تبدیل کرکے کنسلٹنٹس انکم سپورٹ پروگرام رکھ دیا جائے۔ یہ تجویز انہوں نے شاید اس لئے پیش کی ہے کہ غریب بچارے کی تو” انکم “ ہوتی ہی نہیں کہ اسے ” سپورٹ “ دینے کی ضرورت پیش آئے۔ انکم تو کنسلٹنٹس کی ہوتی ہے اور حکومت اور بین الاقوامی اداروں کی فیاضی کی بدولت ماشاءاللہ خوب ” کُھل“ کرہوتی ہے۔ چنانچہ سپورٹ کی ضرورت بھی اُن کی ہی انکم کو ہے۔
کنسلٹنٹس (Consultants)کی اصطلاح سے ذہن میں خود بخود ٹیکنوکریٹس کا تصور ابھرتا ہے۔ یعنی مختلف شعبوں میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والے ایسے لوگ جو ” ماہرین “ قرار پا سکیں اور متعلقہ شعبوں کے اداروں کو اپنی ماہرانہ خدمات سے فائدہ پہنچا سکیں۔
ہمارے ہاں کنسلٹنٹس وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں نوازنا کھپانا یا مراعات سے فیضیاب کرانا مقصود ہو۔دوسرے الفاظ میں کنسلٹنٹس وطنِ عزیز میں اقرباپروری ” دوست نوازی “ اور کرپشن کا بہت بڑا راستہ اور ذریعے بن گئے ہیں۔
بات کرپشن کی ہوئی ہے تو میں اس بات کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اب دنیا میں ” لینڈ آف اَپورچونٹی“(Land of Opportunity)یعنی دولت کمانے اور تقدیر بنانے کے مواقع دینے والا ملک امریکہ کو نہیں پاکستان کو کہا جانا چاہئے۔
یہاں اگر کسی کی رسائی اقتدار کے ایوانوں تک ہوجائے تو جھونپڑی سے نکل کر بڑے بڑے محلات پر قابض ہونے اور دولت کے انباروں پر انبار کھڑے کرنے میں دیر نہیں لگتی۔
میں یہاں کِس کِس کا نام لوں جو کل تک ” انکم سپورٹ“ کے طلب گار تھے اور آج جزیرے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ؟
امیر ” امیر تر “ اسی ملک میں ہوسکتا ہے جس کے غریب ” غریب تر “ ہوتے چلے جائیں اور جنہیں سبق ایک ہی دیاجائے کہ ” جمہوریت کو ووٹ دو “۔۔۔

Scroll To Top