صدیوں پرانی دشمنی

(یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔)
(حصہ اول )
اگر یہ کہا جائے تو بعیداز حقیقت نہیں ہوگا کہ اسلام کے سیاسی احیاءکی تحریک کے خلاف مغرب کی جاری جنگ فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ موجودہ عالمی پس منظر اورحالیہ سیاسی حوالوں کو سامنے رکھاجائے تو لگتا ہے کہ اس جنگ کا آغاز9/11سے ہوا۔ لیکن اصل حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ اسلام کے سیاسی احیاءکی تحریک کے خلاف بند باندھنے کا آغاز گزشتہ صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ہوگیا تھا اس ضمن میں سب سے قابلِ ذکر نام لارنس آف عریبیا کاہے جسے ترکوں کے خلاف عربوں کا ہمدرد بنا کر مشرق وسطیٰ میں بھیجا گیا۔ دوسری طرف امریکہ نے ایلن ڈلس اور جیک فلبی کو عرب دنیا کی تقسیم اور امریکہ نواز حکومتوں کے قیام کے ایجنڈے کے ساتھ اِس خطے میں بھیجا۔ مغربی ایجنٹوں کے اس نیٹ ورک نے اپنے دو بڑے مقاصد کی تکمیل نہایت مہارت اور کامیابی کے ساتھ کی۔ ایک تو امریکہ کو اس خطے کے ” تیل کے ذخائر“ پر کنٹرول حاصل ہوگیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بالفورڈیکلریشن کے ذریعے عرب دنیا کے قلب میں اسرائیل کا خنجر گھونپنے کے منصوبے کو آخری شکل دے دی گئی۔ جو قارئین اس اسلام دشمن منصوبے کے بارے میں بھرپور واقفیت حاصل کرنا چاہیں وہ مارک انٹونیئس کی معرکتہ الاراتصنیف The Dagger of Israelکا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
بالآخر اسرائیل کا خنجر1948ءمیں اسلامی دنیا کے دل میں گھونپ دیا گیا۔ دنیا کی تاریخ کا رُخ موڑنے والے اس واقعہ سے ایک برس قبل اسلام کے سیاسی احیاءکی تحریک کو قیامِ پاکستان کی صورت میں ایک تاریخ ساز کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
یہاں میں سرسری طورپر یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے سیاسی احیاءکے جدید تصور نے سب سے پہلے شام کے دارالحکومت دمشق میں جنم لیا تھا جہاں ایک وکیل نے ایک جریدہ جاری کیا تھا جس میں ایک فرضی اسلامی کانفرنس کی فرضی کاروائی کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔ اس سوچ کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ نے اس مصرعے کے ذریعے مسلمانانِ عالم کے لئے بالعموم اور مسلمانانِ ہند کے لئے بالخصوص مشعلِ راہ بنادیا۔
” ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے “
اسلام کے سیاسی احیاءکی تحریک میں علامہ اقبالؒ کے ساتھ ساتھ ایک بڑا نام جمالی الدین افغانی ؒ کا بھی تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس تحریک کو ایک تنظیمی ڈھانچہ فراہم کرنے میں حسن البنیٰ کی قائم کردہ اخوان المسلمین نے نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔ گزشتہ 86برس کے دوران ” اخوان المسلمین “ نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے جدوجہد اور قربانیوں کی جو داستان رقم کی ہے اس پر صرف مصر کے مسلمانوں کو ہی نہیں پورے عالم ِ اسلام کو فخرکرنا چاہئے۔ اس جدوجہد کا ایک موڑ دو برس قبل مصر میں صدر محمد مرسی کی حکومت کے قیام کی صورت میں آیا اور دوسرا موڑ اِس حکومت کے خلاف اس فوجی بغاوت کی صورت میں آیاجسے امریکہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ امریکہ نے واشگاف انداز میں دنیا کو بتا دیاکہ وہ اسلام کے سیاسی احیاءکو روکنے کے لئے اپنے تمام تروسائل بروئے کار لائے گا۔
گزشتہ صدی میں ” اسلام کو روکنے “ کامغربی مقصد امریکی ترجیحات میں اس لئے ذرا پیچھے چلا گیا تھا کہ مغرب کی سرمایہ دارانہ سامراجیت کو چیلنج کرنے والی دو بہت بڑی قوتیں اچانک ابھر کر سامنے آگئی تھیں۔
جرمنی میں ہٹلر کا ظہور اور نازی ازم کا عروج جس طوفانی انداز میں ہوا اس کے لئے سرمایہ پرست مغرب اور اس کا سالار امریکہ پوری طرح تیار نہیں تھا۔ سامراجی اتحاد کی کافی زیادہ توانائیاں نازی جرمنی کو شکست دینے پرخرچ ہوگئیں۔ چرچل نے دوسری جنگ عظیم پر اپنی تصنیف کے اختتام پر لکھا۔
” ہم نے بالآخر جرمنی کو ہرا دیا۔ نازی فتنہ کچل دیا گیا۔ لیکن اس حقیقت کو تاریخ میں ہم کیسے تبدیل کریں گے کہ جنگ میں اگر ایک نازی سپاہی کی جان گئی تو مقابلے پر ہمارے پانچ سپاہی ہلاک کئے گئے“
گزشتہ صدی میں سرمایہ پرست مغرب کو صرف نازی ” فتنہ “ ہی کچلنا نہیں پڑا ` کمیونزم کے ” فتنے “ نے بھی برسہا برس تک وہائٹ ہاﺅس کے مکینوں کی نیندیں حرام کئے رکھیں۔ بالآخر یہ فتنہ بھی صدی کے اختتام سے پہلے گوربا چوف اور یلسن کی مدد سے تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینک دیا گیا۔
(جاری ہے)

Scroll To Top