عوام نے تبدیلی کیلئے ووٹ دیا ہے: احتساب پر سمجھوتہ ناممکن ہے، فواد چوہدری

  • قومی خزانہ بھی پریشان ہے کہ سات آٹھ ما ہ ہو گئے ہیں کوئی لوٹنے ہی نہیں آیا،کوشش ہے کہ ایک صاف اور شفاف حکومت آگے لے کر جائیں
  • عوام کو جلد اور ارزاں انصاف کی فراہمی کیلئے بارز، ججز اور حکومت کو ایک پیج پر آنا ہو گا،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا اسلام آباد ٍبار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ایک نیک نیت آدمی ہے ،ان کی ایک روپے کی بے ایمانی نہیں ہو گی ، غریب اور عام آدمی کے لئے ان کا دل دھڑکتا ہے اور وہ پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں عمران خان سے بہتر آدمی ہمیں مل نہیں سکتا۔ میں یہ نہیں کہتا ہم میں خامیاں نہیں ہوں گی، ہم میں بھی ہزار خامیاں ہوں گی مگر عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، ان کو کوششوں پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان کا ووٹر باشعور ہے اور اس نے ہمیں تبدیلی کے لئے ووٹ دیا ہے اس لئے ہم روزانہ کمپرومائز نہیں کر سکتے ، ہم احتساب پر کمپرومائز نہیں کر سکتے ۔ان خیالات کا اظہار چوہدری فواد حسین نے اسلام آباد ٍبار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب موجودہ حکومت پانچ سال مکمل کرے گی تو عوام کو واضح فرق نظر آئے گا۔ ہماری حکومت کو سات ماہ ہو گئے ہیں کوئی ایک بھی کابینہ کا اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ابھی تک خزانہ بھی پریشان ہے کہ سات آٹھ ما ہ ہو گئے ہیں کوئی لوٹنے ہی نہیں آیا۔ہماری کوشش ہو گی کہ ایک صاف اور شفاف حکومت آگے لے کر جائیں اور اگر ہم عدالتی ریفارمز اور انصاف کی ریفارمز کر سکے تو یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی لوگوں کے لئے سب سے بڑی خدمت ہو گی۔ اگر ہم نے پاکستان میں عام آدمی کو کوئی فائدہ دینا ہے تو وہ یہ ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاح آئے ۔ ہماری عدالتیں بھی باقی تمام اداروں میں اصلاح چاہتی ہیں تاہم عدالتی نظام میں اصلاح پر اتنا زور نہیں دیا جاتا جتنا ہونا چاہیئے۔ اگر حکومت سمجھے کہ عدالت کے بغیر اصلاحات آ سکتی ہیں تو حکومت کو سمجھ لینا چاہیئے ایسا ممکن نہیں اور جو عدلیہ یہ سمجھے کہ وکلاءکے بغیر اصلاحات لے آئیں گے وہ بھی غلط ہے۔ بار، ججز اور حکومت کو اکٹھے ایک پیج پر آنا ہو گا اور اکٹھے اصلاحات لے کر آنا ہو گی۔ عام آدمی کو جب تک یہ احساس نہیں ہو گا کہ ملک میں انصاف کلاس کی بنیاد پر نہیں ہے اور غریب کے لئے انصاف علیحدہ نہیں ہے اور امیر آدمی کے لئے انصاف علیحدہ نہیں ہے ، غریب آدمی کے لئے نظام علیحدہ اور امیر آدمی کے لئے نظام علیحدہ نہیں ہے ، جب تک غریب آدمی کو یقین نہیں ہو گا کہ امیر اور غریب کے لئے عدالتوں میں انصاف برابر ہے تو پاکستان آگے نہیں جا سکتا۔ سچی بات یہ ہے کہ امیر آدمی کے لئے جیل بھی فائےو اسٹار ہوٹل ہے اور غریب آدمی کے لئے گھر بھی جیل ہے۔ میں اخباروں میں پڑھتا ہوں کہ وکلاءنے جا کر فٹ بال گراﺅنڈ پر قبضہ کر لیا ہے یا فلانی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے تو جب آپ کھڑے ہونے کی جگہ نہیں دیں گے تو لوگوں کو کام کرنے کے لئے کوئی جگہ تو چاہیئے۔ مجھے چاہیئے تھا کہ آج چیئرمین سی ڈی اے یا کمشنر سے درخواست کرنی چاہیئے تھی کہ وہ ساتھ آتے اور ہم ان کو بتاتے اور پوچھتے کہ اگر فٹ بال گراﺅنڈ پر قبضہ نہ کریں تو کیا سی ڈی اے کی عمارت پر قبضہ کر لیں پھر بیٹھنا تو ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ابھی کیلی فورنیا میں تھا اور وہاں ایک مجسٹریٹ کی عدالت اتنی بڑی اور اعظیم الشان تھی کی کہ اسے دیکھ کر دل دہک جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں تہذیب دیکھنی ہو تو دیکھیں اداروں کی عمارتیں کیسی ہیں اور لوگوں کے گھر کیسے ہیں۔ اسلام آباد کی بار میں بھی لوگ بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہیں اور بدقسمتی سے انہوں نے اپنے گھر تو بڑے، بڑے کئے لیکن اسلام آباد بار اور باقی ساری جگہوں کے حالات پتلے سے پتلے ہی ہوتے گئے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے قوموں کو ترقی کرتے دیکھنا ہو تو دیکھیں ان کے اداروں کی حالت کیا ہے۔ 40 ، 50 ہزار آدمی ڈسٹرکٹ کورٹس اور ہائی کورٹ میں آتا ہے اور یہاں پر بیٹھنے کی جگہ نہیں، گلیوں میں گزرنے کی جگہ نہیں اور ہمارے اداروں کو ان باتوں کو سمجھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی کاسنٹیٹیوشن ایونیو پر تیار ہو گئی ہے اور G-10 سے اس بلڈنگ نے اُدھر جانا ہے اور اس کے بعد اس عدالت کو ہائی کورٹ کی عمارت میں منتقل ہونا چاہیئے۔ انفرادی شخصیات کی تو ہمیں بہت بڑی، بڑی جگہیں چاہئیں اور جہاں ہزاروں ، لاکھوں لوگ روز آتے ہیں ان کی حالت کا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ میں چیئرمین سی ڈی اے اور کمشنر سے درخواست کروں گا کہ وہ وکلاءکے ساتھ بیٹھیں اور وکلاءتجویز دیں کہ کس طرح ان کے چیمبر بننے چاہئیں اور وکلاءماسٹر پلان بنا کر دیں تاکہ تعمیر شروع ہو اور حکومت سے جوفنڈنگ درکار ہے وہ میں یقینی بناﺅں گا کیوں کہ یہ عوام کی فلاح کا یہ منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کا جو نیا ماسٹر پلان بن رہا ہے اس میں وزیر اعظم نے کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1970 میں ذولفقار علی بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی آئی تھی جو ایک غریب کا انقلاب تھا اور عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی جو سیاست ہے وہ مڈل کلاس کا انقلاب ہے۔ عمران خان کا ووٹر باشعور ہے اور اس نے ہمیں تبدیلی کے لئے ووٹ دیا ہے اس لئے ہم روزانہ کمپرومائز نہیں کر سکتے ، ہم احتساب پر کمپرومائز نہیں کر سکتے ۔۔

Scroll To Top