پوسٹل سروسز اخراجات مد میں 71 ملین روپے سے زائد کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف

  • 7 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات کی ادائیگیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے،علاج معالجے،معاوضوں اور پینشنز سمیت دیگر اخراجات کا ریکارڈ بھی میسر نہیں
  • ادارے کی جانب سے پیش کیا گیا جواب غیر تسلی بخش اور نا قابل قبول ہے، ریکارڈ پیش نا کرنا احتسابی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے،آڈیٹر جنرل

اسلام آباد( آن لائن ) پوسٹل سروسز میں اخراجات کی مد میں 71 ملین روپے سے زائد کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہواہے۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کیا گیاہے ۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ادارے کی جانب سے عدم تعاون کا شکوہ بھی کیا گیاہے۔آڈیٹر کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 7 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات کی ادائیگیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ریکارڈ میں روڈ ٹرانسپورٹرز کی 2 کروڑ 57 لاکھ سے زائد کہ ادائیگیاں بھی غائب پائی گئی ہیں۔4 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد کی دیگر ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی نہیں ملا۔رپورٹ کے مطابق علاج معالجے،معاوضوں اور پینشنز سمیت دیگر اخراجات کا ریکارڈ بھی نہیں دیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹل اکانٹس کمیٹی اجلاس میں بھی معاملہ اٹھایا گیا۔آڈیٹر جنرل کی جانب سے متعلقہ افسران کے خلاف سخت ایکشن لینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔آڈیٹر جنرل کے مطابق کروڑوں روپے کے متعلقہ ریکارڈ کو پیش نا کرنا احتسابی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارے کی جانب سے پیش کیا گیا جواب غیر تسلی بخش اور نا قابل قبول ہے۔اس سے قبل سامنے آنے والی ایک آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) کو گزشتہ نو سال کے دوران سات ارب روپے سے زائد نقصان ہوا۔رپورٹ میں 2008 سے 2017 تک پی آئی اے کے کرپٹ اورنااہل افسروں کی کارکردگی کے بارے میں بھی ہوشربا انکشافات کیے گئے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈیلی ویجززکی بھرتی پر2409 ملین اورپائلٹس کی زائدادائیگیوں پر1437 ملین روپےخرچ کیے گئے ہیں جبکہ 457 جعلی ڈگریوں والے افسر اور ملازمین کی بھرتیوں سے کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 4922 کنٹریکٹ ملازمین کوخلاف قانون ریگولرکرنے پربھی پی آئی اے کو 101 ملین روپے کا بوجھ اٹھانا پڑا جبکہ ادارے کو ٹرینی افسروں کی بھرتی پر901 ملین اور سیاسی اثرورسوخ سے بیرون ملک اسٹیشنزپرتعیناتوں ملازمین سے983 ملین کا نقصان ہوا

Scroll To Top