مریخ کے لوگ یا پاکستان کے عوام ؟ 14-10-2014


حکمرانوں پر سب سے بُرا وقت وہ ہوتا ہے جب ان کی چہرے والی آنکھیں ` بینائی ہوتے ہوئے بھی دیکھنا بند کردیتی ہیں۔ جب اُن کے سامنے سے شاہین اڑتا ہے تو وہ کہہ اٹھتے ہیں یہ چڑیا یہاں کیا کررہی ہے ؟ یا جب ان کے سامنے گھورتا ہوا ٹائیگر نمودار ہوتا ہے تو وہ اپنے مصاحبوں سے پوچھتے ہیں کہ یہ بلی کس کی اجازت سے یہاں آئی ہے۔ مثالیں تو اس ضمن میں درجنوں دی جاسکتی ہیں مگر میرا مقصد میاں نوازشریف کو خوفزدہ کرنا نہیں۔ میں نہ تو اُن کا خیر خوا ہوں اور نہ ہی بدخواہ۔میری دلچسپی صرف اس بات سے ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں میرے ملک کی باگ ڈور ہے وہ اگر بصیرت والی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا تو بصارت والی آنکھوں سے تو ضرور دیکھے۔ اگر یہ شخص کہیں ٹھوکر کھا کر گرتا ہے تو اِس حادثے کے اثرات میرے ملک پر بھی مرتب ہوں گے۔ ہماری قسمت نے یہ ملک موصوف کے رحم و کرم پر دے رکھا ہے۔
میاں صاحب کا تازہ ترین بیان دماغ میں یہ اندیشہ پیدا کئے بغیر نہیں رہتا کہ خدا نہ کرے کہ کہیں یہ معاملہ بند آنکھوں سے آگے کا نہ ہو! میرا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں اور وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ سامنے کیا ہورہا ہے تو بات بہت ہی زیادہ تشویش کی ہوگی۔
میاں صاحب نے فرمایا ہے کہ دھرنے والوں کے مقاصدسامنے آگئے ہیں چنانچہ عوام ان کا ساتھ نہیں دے رہے۔
یہ جو لاکھوں کے جلسے ہورہے ہیں خدانخواستہ ان میں شرکت کے لئے مریخ کے باسی تو نہیں اتر رہے۔؟ اگر یہ پاکستان کے عوام نہیں تو پھر کون ہیں۔؟ جہاں تک دھرنے والوں کے مقاصد کے سامنے آنے کا معاملہ ہے تو میاں صاحب ۔۔۔۔ مقصد چھپا ہوا کب تھا؟ وہ توشروع سے ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں۔ گونواز گو!

Scroll To Top