ٹوئیٹرکالم۔۔۔۔14-03-2019 غلام اکبر

کیا آپ کو قمرالزماں کائرہ کی حالت زار پر ترس نہیں آتا؟ مجھے تو آتا ہے۔اچھا بھلا آ دمی ہوا کرتا تھا۔کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا کہ ضمیر کو دیمک زدہ پتے کی طرح نکلوا باہر پھینکیں گے؟
12مارچ 2019ئ
جب میں وزیراعظم کی ٹیم کی اوسط قابلیت اوراخلاقی حالت پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے ریاست مدینہ دور دور بھی دکھائی نہیں دیتی مگر جب عمران خان کے عزم و ارادے اور مقدر کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اگر یہ شخص مشکلات کے اتنے سمندر عبور کر کے وزیراعظم بن سکتا ہے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا؟
10مارچ 2019ئ
محترم وزیراعظم صاحب،آپ کی ریاست مدینہ کیسی ہو گی کہ اس میں لوٹ مار سے بنے ایک کھرب پتی سابق وزیراعظم کے “علاج دل” کے لئے تو آپ خصوصی ہدایات جاری کریں گے مگر عارضہ ءدل میں مبتلا ایک غریب آدمی لائن میں کھڑا ٹیسٹ کرانے کی حسرت لئے دم توڑ دے گا! کیا غریبوں کا خدا کوئی اور ہے ؟
10مارچ 2019ئ
ریاست مدینہ کی ٹیم کی سلیکشن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے مشورے سے کی گئی ہے جن کے خلاف میچ کھیلا جائے گا۔ایسا دلیرانہ تجربہ کر کے عمران خان جرات و شجاعت کا ایک نیا باب رقم کریں گے۔
08مارچ 2019ئ
عمران خان کی سوچ بڑی مثبت ہے وہ ترقی کے لئے امن چاہتے ہیں تا کہ وسائل ہتھیاروں کی بجائے عوام کی بہبود پر خرچ ہوں۔ مگر بدقسمتی سے زمینی اور تاریخی حقائق ان کی سوچ سے متصادم ہیں۔بھارت ایک اژدہاہے جو آپ کو نگلنے کا موقع تلاش کرتا رہے گا۔آپ اژدہے کے ساتھ مذاکرات کس زبان میں کریں گے۔
05مارچ 2019ئ
بھٹو مرحوم اردو بولتے بھی اپنی تھے پڑھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔مگر خوش قسمتی سے وہ جانتے تھے کہ بھارت ہماراازلی ا بدی دشمن ہے۔بے نظیر کی تقاریر 1993میں میں نے لکھیں جنہیں انھوں نے رومن رسم الخط میں تبدیل کراکر یادگیا۔عمران خان اردو بولتے عمدہ ہیں مگر پڑھتے انگریزی ہیں۔
05مارچ 2019ئ
ہماری بدقسمتی سے ہمارے بہترین وزرائے اعظم کو اردو پڑھنا نہیں آتی تھی ان میں عمران خان بھی شامل ہیں۔کاش کہ وہ نسیم حجازی کا 70سال پرانا خطاب “اے قوم”پڑھ سکتے۔کم از کم آخری الفاظ جب تک برہمنیت کے علمبرداروں کے سامنے مسلمانوں کا ہدف ہے وہ اپنے ترکش کا ہر تیران کے خلاف استعمال کرینگے۔
05مارچ 2019ئ
عمران خان جو فیصلہ خود کرتے ہیں وہ ان کے قائدانہ قد کاٹھ میں اضافہ کرتا ہے مگر ان کے اردگرد بھی ہر حکمران کی طرح موقع شناس مشیروں کی ریل پیل ہے جن میں کسی نہ کسی کو اپنی مرضی یا مفاد کا فیصلہ کرانے کا موقع مل ہی جاتا ہے۔قائدکی عظمت کا راز کیا تھا؟وہ مشیروں کو فاصلے پر رکھتے تھے۔۔۔
02مارچ 2019ئ
ایک دانشورانہ تبصرہ پڑھاکہ “تاریخ بتائے گی کہ مسعود اظہر اور حافظ سعید سے کتنا نقصان پہنچا”میں ذرا آگے جاوں گا- میں کہوں گا کہ نقصان قائد اعظم نے پہنچایا،یہ کہہ کر “کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے”
میں اپنے لبرل دانشوروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ شہ کٹ جائے تو کیا ہوتا ہے؟شہ رگ کٹ جائے؟۔۔۔
28مارچ 2019ئ
دولت کے انبار پر بیٹھے امراء لچکدار ضمیر رکھنے والے ججوں اور ایک کرپشن پرور عدالتی نظام کے اتحاد ثلاثہ سے جنم لینے والی بربادی سے ہماری جان کب اور کیسے چھوٹے گی؟ چھوٹے گی بھی یا نہیں؟شہباز شریف پوری قوم پر ہنس رہے ہیں۔بہتر ہے کہ احتساب کی دکان بند کر کے قوم اپنے ہاتھ بلند کر لے۔۔۔
14فروری 2019ئ
مغربی جمہوریت نے ایک بھی عہد ساز لیڈر پیدا نہیں کیا۔قائداعظم کو عہد ساز بننے کے لئے کسی نظام کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔۔۔۔
14فروری 2019ئ
لگتا ہے کہ لڑکپن میں مریم اورنگزیب بھارتی ویمپ کلدیپ کور کی فلمیں کثرت سے دیکھتی رہی ہیں۔اور اب انہوں ے خود کلدیپ کور کا روپ دھار لیا ہے اس نئی کلدیپ کور کے ڈائیلاگ سینئیر مریم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں۔۔۔
08فروری 2019ئ
چودھری غلام حسین نے کہا ہے کہ جس اخلاقی جرآت کا مظاہرہ علیم خان نے استعفیٰ دے کر کیا ہے ویسی اخلاقی جرآت شہباز شریف کو بھی دکھانی چاہئے – چودھری صاحب ڈاکووں کی روایات مختلف ہوتی ہیں۔ڈاکواخلاقی جرآت کا مظاہرہ ڈاکے ڈال کر کیا کرتے ہیں۔
06فروری 2019ئ
یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی کے پاس دولت کے انبار ہوں اور اس نے کرپشن نہ کی ہو مگر جس کرپشن نے ملک کی بنیادیں ہلائی ہیں اس کا ارتکاب کرنے کے لئے حکومت کا سربراہ ہونا ضروری تھا یا پھر اس کے خاندان کا کوئی فرد۔
05فروری 2019ئ
مےرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن
یہ ترانہ ماموں جان نسیم حجازی کے برادر نسبتی حافظ مظہرالدین نے تخلیق کیا تھا۔جنت کو 70 برس بعد بھی مودی نے نرگ بنا رکھا ہے مگر مجھے یقین ہے کہ ایک روز آسمانوں میں ا ہل کشمیر کی پکار سنی جائے گی۔
05فروری 2019ئ
مجھے ڈر صرف اس بات کا ہے کہ عمران خان حکومت کو دس میل آگے بڑھائیں اور ان کے بعض رفقائے کار اپنی “کار گذاریوں “ سے ۹ میل پیچھے کھینچ لائیں۔خدا کرے میرا ڈر زیادہ صحیح ثابت نہ ہو۔

Scroll To Top